Site icon المرصاد

غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! تیسویں قسط

دوم: دوسری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے باہر نکلا جائے، یہاں مدینہ میں نہ رہا جائے۔ یہ رائے زیادہ تر ان صحابہ کرام کی تھی جو غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے۔ وہ اس غزوہ میں دشمن کو شکست فاش دینا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہادت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

یہ رائے درج ذیل نکات پر مبنی تھی:

1. انصار نے بیعت عقبہ ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور نصرت کا وعدہ کیا تھا۔ اسی وجہ سے ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہے مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے تاکہ وعدے کی خلاف ورزی نہ ہو۔
2. مہاجرین کے کچھ افراد کا خیال تھا کہ انہیں انصار کے کھیتوں اور گھروں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مہاجرین کو انصار سے زیادہ حق ہے کہ وہ مدینہ کی دفاع کریں۔ اس لیے مہاجرین کا یہ اقلیتی گروہ اس رائے پر تھا کہ قریش کو مدینہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔
3. وہ صحابہ کرام جو غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے، جذباتی جوش اور ولولے کی وجہ سے دشمن کا مقابلہ کرنے، اسے سبق سکھانے، یا اللہ کے راستے میں شہادت حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔
4. قریش کو اتنی مہلت نہیں دینی چاہیے کہ وہ مدینہ کا محاصرہ کر لیں، کیونکہ محاصرہ طویل ہو سکتا ہے، جس سے مسلمانوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی، کیونکہ مدینہ کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثریت کے سامنے اپنی رائے کو پس پشت ڈال دیا اور باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیا، لوگوں کو نصیحت کی، سامعین کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ اگر ہم صبر کریں، حوصلہ رکھیں اور ثابت قدم رہیں تو فتح ہماری ہوگی۔ پھر صحابہ کرام کو باہر نکلنے کی تیاری کا حکم دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے، خود کو مسلح کیا، دو زرہیں پہنیں اور تلوار ہاتھ میں لے کر باہر تشریف لائے۔ اس وقت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر نے صحابہ کرام سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکلنے پر مجبور کیا، بہتر ہے کہ معاملہ ان کے سپرد کر دیا جائے۔ صحابہ کرام اپنے اصرار پر پشیمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو آپ کی مرضی ہو وہی کریں گے، یعنی ہم مدینہ میں ہی مورچے سنبھال لیں گے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ما کان لنبی إذا لبس لأمته وهي الدرع أن یضعها حتی یحکم الله بینه وبین عدوه”
ترجمہ: کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ زرہ پہن لے اور پھر اسے اتار دے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔

اسلامی لشکر کی تعداد اور روانگی:

چنانچہ لشکر روانگی کے لیے تیار ہوا۔ لشکر کی کل تعداد ایک ہزار تھی، جو مشرکین کے لشکر کا تیسرا حصہ تھی۔ سو گھوڑے ان کے ساتھ تھے۔ مدینہ میں سرپرست عبد اللہ بن ام مکتوم کو چھوڑا گیا۔ لشکر کو روانگی کی اجازت دی گئی۔ اس طرح اسلامی لشکر شمال کی طرف روانہ ہوا، جبکہ دونوں سعد (سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ) تلوار ہاتھ میں اور زرہ پہنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے۔

راستے میں ایک گروہ مسلمانوں سے کچھ الگ چل رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ صحابہ نے بتایا کہ یہ یہود ہیں، جو مشرکین سے لڑنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان ہو گئے ہیں؟ جواب ملا کہ نہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا اور فرمایا:

"لا أستعین بمشرک”
> یعنی میں مشرک سے مدد نہیں مانگتا۔

کم عمر صحابہ کی واپسی:

جب اسلامی لشکر شیخان نامی علاقے میں پہنچا تو لشکر کا معائنہ شروع کیا گیا۔ جن صحابہ کی عمر کم تھی اور وہ جنگ کے قابل نہ تھے، انہیں مدینہ واپس بھیج دیا گیا۔ ان میں عبد اللہ بن عمر، زید بن ثابت، اسامہ بن زید، اسید بن ظہیر، زید بن ارقم، عرابہ بن اوس، عمرو بن حزم، ابو سعید خدری، زید بن حارثہ انصاری، اور سعد بن حبہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

صرف دو افراد کو اجازت دی گئی: ایک سمرہ بن جندب اور دوسرا رافع بن خدیج۔ اگرچہ دونوں کم عمر تھے، لیکن رافع ماہر تیر انداز تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی۔ سمرہ نے جب یہ دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں رافع سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اسے کشتی میں ہرا سکتا ہوں، مجھے بھی اجازت دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، کشتی لڑو، دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقتور ہے۔ کشتی میں سمرہ نے رافع کو ہرا دیا۔ اس طرح سمرہ کو بھی جانے کا موقع مل گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔

Exit mobile version