جزیرہ عرب پر بدر کی جنگ کے اثرات:
بدر کی عظیم جنگ مسلمانوں کی بے مثال فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، ایسی فتح جس نے عربوں کی تمام فوجی اور سیاسی طاقت کو چیلنج کیا۔ اس جنگ نے عربوں کو حیران کر دیا، خاص طور پر یہود اور منافقین اس سے بالکل خوش نہ تھے کہ علاقے میں ان کے مکر، فریب اور سازشوں کے سامنے ایک رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ وہ اکیلے نہ تھے، اسلام کے تمام دشمنوں نے اس کے بعد ہم آہنگی شروع کی اور یہ عہد کیا کہ آئندہ وہ مل کر مسلمانوں کے خلاف ڈٹ جائیں گے اور انہیں کسی بھی قسم کی فتح کا موقع نہیں دیں گے۔
تاہم، اس مقصد کے لیے ہر ایک نے مختلف حکمت عملی اپنائی۔ وہ سب اس کوشش میں تھے کہ مسلمانوں کے غلبے کو روکیں، لیکن مختلف طریقوں سے۔ یہاں ہم مدینہ کی اسلامی سلطنت کے تمام دشمنوں کی حکمت عملیوں کا مختصر ذکر کریں گے:
1. مکہ کی شکست کے بعد:
مکہ والوں کا دل ٹوٹ چکا تھا، ان کے سردار ہلاک ہو چکے تھے، لیکن وہ اس درد کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسے چھپایا، حتیٰ کہ زبردستی رونے پر سرکاری پابندی لگائی گئی۔ اس کے باوجود وہ سکون میں نہ تھے۔ ان کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑکتی رہی، ٹھنڈی نہ ہوئی۔ اسلام کے خلاف ان کا بغض بڑھتا گیا، کم نہ ہوا۔ انہوں نے عمومی تیاری کی، اپنی فوجی طاقت کو مزید مضبوط کیا، اور کچھ قبائل سے معاہدے کیے۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں غزوہ احد برپا ہوا۔ جس کی مکمل تفصیل وہاں بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ!
اس کے علاوہ، مکہ میں دین اسلام پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ مکہ میں مقیم مسلمانوں کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے، لیکن جو کوئی اسے ظاہر کرتا، اسے کسی بھی قسم کی سزا دینے اور تشدد کا نشانہ بنانے سے دریغ نہ کیا جاتا۔
2. مدینہ فتح کے بعد:
مدینہ نے مکہ کے حالات کے برعکس صورتحال اختیار کی۔ مدینہ میں مسلمانوں کی سلطنت مزید مضبوط ہو چکی تھی۔ جن لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ ظاہری طور پر مسلمان بن گئے، حالانکہ خفیہ طور پر وہ اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ منافقین تھے جن کی قیادت عبداللہ بن ابی بن سلول کر رہا تھا۔ اس نے اپنے تمام ساتھیوں کو کہا کیا کہ مسلمان بن جاؤ، کیونکہ اب مسلمانوں کا اقتدار بڑھ چکا ہے، کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ اس کے تمام پیروکاروں نے اسلام کا اظہار کیا۔ یہ منافقین خفیہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت دشمنی کرتے تھے اور ان کے خلاف ہر قسم کی سازشیں کرتے تھے۔
3. یہود جنگ کے بعد:
یہود اور مسلمانوں کے درمیان ہجرت کے بعد ایک معاہدہ ہوا تھا کہ کوئی فریق دوسرے سے دشمنی نہیں کرے گا اور نہ ہی ایک دوسرے کے دشمن سے تعاون کرے گا۔ مسلمان اس معاہدے کے پابند تھے۔ اس وقت مسلمان غالب تھے، جبکہ یہود کمزور تھے، لیکن مسلمانوں کی ایمانی غیرت انہیں معاہدے کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمیشہ وعدوں کی پاسداری کی تلقین کرتے تھے۔
لیکن یہود نے معاہدے کی خلاف ورزی شروع کی اور اپنی وہ خفیہ عداوت ظاہر کی جو بدر کی عظیم فتح کے بعد مزید بھڑک اٹھی تھی۔ ان کی قیادت کعب بن اشرف کر رہا تھا۔ وہ مشرکین، خاص طور پر مکہ کے مشرکین کو جنگ کے لیے اکساتے تھے۔ لیکن ان کی سازشوں کی مسلمانوں کو خبر ہو گئی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی بہت بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے غزوات ہوئے، اور مدینہ منورہ ان کے ناپاک وجود سے پاک ہو گیا۔ اس کی مکمل تفصیل اپنے مقام پر بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ!
4. اعراب (صحرائی لوگ) جنگ کے بعد:
مدینہ منورہ کے اطراف کے صحرائی لوگ بھی اس عظیم فتح سے پریشان تھے۔ مدینہ میں اسلامی سلطنت کی بنیادیں مضبوط ہو چکی تھیں، جس سے ان کی چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور راہزنی کا بازار ٹھنڈا پڑ گیا تھا، جو ان کا روزمرہ کا معمول تھا اور اسی سے وہ اپنی روزی کماتے تھے۔
ان کی پریشانی مکہ کے مشرکین جیسی نہ تھی، جنہوں نے سیاسی اور فوجی شکست کھائی تھی۔ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان تنازعہ دین اور عقیدے پر تھا۔ لیکن اعراب کا کفر، اسلام، عقائد یا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کی پریشانی کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کی راہزنی روک دی گئی تھی۔




















































