Site icon المرصاد

غزہ آتش و آہن کے شعلوں میں! چوتھی قسط

ایک انسانی المیے کا منظر

آج کا غزہ ایک مکمل المیے کا عکس بن چکا ہے، ایسا المیہ جو دنیا کے پُرامن اور خاموش سکوت کی چھاؤں میں دنیا کے ایک گوشے کو اپنی سیاہ آغوش میں ڈوبو چکا ہے۔ ایسی جنگ جس کا مقصد صرف زمین پر جھگڑا نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کا بتدریج نابود ہونا اور برباد ہونا ہے۔

غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کی ایک جامع رپورٹ میں ۲۰۲۵ء کے دوران اس بے مثال المیے کی ایسی رونگٹے کھڑے کر دینے والی صورت پیش کی ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سال کو ۱۹۶۷ء کے بعد فلسطین کے لیے سب سے زیادہ خونریز سال قرار دیا ہے۔

۲۰۲۵ء کے دوران غزہ میں شہیدوں اور لاپتہ افراد کی تعداد انتیس ہزار ایک سو سترہ تک پہنچ گئی ، جن میں ۵،۴۳۷ بچے اور ۲،۴۷۵ خواتین شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کی ہولناکی اس وقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زخمیوں کی تعداد باسٹھ ہار آٹھ سو تریپن تک پہنچ چکی ہے اور تقریباً ۳،۴۰۰ مزید افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، لاپتہ ہیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں۔ یہ پچھلے دو سال کی خونریز تاریخ کا صرف ایک باب ہے، کیونکہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک شہیدوں کی تعداد ۷۲ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں ۹۸ فیصد غزہ کے رہائشی ہیں اور اس علاقے کی دس فیصد سے زائد آبادی یا شہید ہو چکی ہے یا زخمی ہو چکی ہے۔

اس عمل کا الم ناک نتیجہ آبادی کی بے مثال کمی ہے۔ غزہ کی پٹی کی آبادی دو سالوں میں ۱۰.۶ فیصد کم ہو چکی ہے اور تقریباً ۲.۳۸ ملین سے کم ہو کر ۲.۱۳ ملین رہ گئی ہے، یعنی روزانہ اوسطاً تقریباً ۳۱۰ افراد کم ہو رہے ہیں۔ یہ کمی صرف جنگ کا براہ راست نتیجہ نہیں، بلکہ قتلِ عام، جبری گمشدگی، جبری بے دخلی اور قحط، نفسیاتی دباؤ اور عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیدائش کی شرح میں سنگین کمی کا مشترکہ نتیجہ ہے۔

قتل کے علاوہ، منظم محاصرہ اور منصوبہ بند قحط کی پالیسی بھی ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کی گئی ہے۔ یہ پالیسی اتنی بے رحم طریقے سے نافذ کی گئی کہ ۲۰۲۵ء کو "غزہ کی تاریخ میں قحط کا سب سے زیادہ مہلک سال” قرار دیا گیا۔ اسی سال چھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد بچے قحط کے سبب موت کے خطرے سے دوچار ہوئے اور ۴۰ ہزار شیر خوار بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے سنگین خطرے میں تھے۔ خالی برتن ہاتھوں میں تھامے قحط زدہ بچوں کی تصاویر اس المیے کی عالمی علامت بن گئیں۔

راستوں کی بندش کے حوالے سے صہیونی رجیم نے ۲۰۲۵ء کے ۲۲۰ دنوں میں ایک لاکھ بتیس ہزار امدادی گاڑیوں کے داخلے کو مکمل طور پر روک دیا اور عارضی جنگ بندیوں کے دوران بھی اس نے رکاوٹوں کا سلسلہ نہیں روکا۔ یہ محاصرہ اتنا مؤثر تھا کہ آخرکار اقوام متحدہ نے ۲۰۲۵ء میں غزہ کے شمالی علاقے میں "قحط” کا اعلان کیا، ایسا بحران جس میں قحط کی تمام سرخ لائنوں کو پاؤں تلے روند دیا گیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اسی سال ۴۷۵ افراد صرف قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے شہید ہوئے، جن میں ۱۶۵ بچے شامل تھے۔

غزہ میں تباہی کا عمل مکمل اور بے مثال ہے۔ ۲۰۲۵ء میں شہری بنیادی انفراسٹرکچر کا ۹۰ فیصد حصہ تباہ ہو چکا تھا اور صرف اسی ایک سال میں ایک لاکھ چھ ہزار چار سو رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ تقریباً ۹۰ فیصد غزہ کی آبادی بے گھر ہو چکی تھی اور دو لاکھ تیرہ ہزار خاندان، جو تقریباً بیس لاکھ افراد پر مشتمل ہیں، بار بار اپنے گھروں اور آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ صرف ۲۰۲۵ء کے دوران ہونے والے اقتصادی نقصانات ۳۳ ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

لیکن یہ بحران صرف گھروں تک محدود نہیں، ۹۵ فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا، ۳۴ مساجد مکمل طور پر تباہ ہوئیں، ۸۰ فیصد زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں اور پانی و سیوریج کے نظام کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔

اس تباہی کے درمیان، صحت کا بحران بقا کے ہر راستے کو تنگ کر رہا ہے۔ صرف ۲۰۲۵ء میں ۲۲ اسپتال بند ہوئے اور مجموعی طور پر ۹۴ فیصد صحت کے مراکز کو نقصان پہنچا یا تباہ کیے گئے۔ ایسے حالات میں ۱۲،۵۰۰ کینسر کے مریض موت کے سنگین خطرے میں ہیں اور ۴۷،۰۰۰ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شدید صحت کے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ۹۰ فیصد سے زائد آبادی بنیادی ضروریات خریدنے کے قابل نہیں اور پانی اور صحت کے نیٹ ورک کی تباہی کی وجہ سے متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ ایک عام خطرہ بن چکا ہے۔

ان تمام حالات کا نتیجہ ایک مکمل انسانی المیہ ہے۔ لیکن دنیا نے اس ظلم کے سامنے ایک بے حس اور دل دہلا دینے والی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وہ آگ جو غزہ کو جلا رہی ہے، نہ صرف مٹی، پتھر اور انسانی زندگی کو خاکستر کر رہی ہے، بلکہ انسانیت کے ضمیر اور معاصر تہذیب کی اخلاقی بنیادوں کو بھی مٹا رہی ہے۔ یہ عالمی خاموشی، خود اس المیے کا لاینفک حصہ ہے۔

Exit mobile version