Site icon المرصاد

غزہ سے افغانستان تک؛ اسلام کے لبادے میں جرائم کا تسلسل!

رات کے نصف میں، جب بے گناہ شہری، عورتیں، مرد، بچے اور بوڑھے پرسکون نیند سو رہے تھے اور ماہِ مبارک رمضان کے اگلے دن کی سحری اور روزے کی نیت کیے ہوئے تھے، پاکستانی رجیم کی ملیشیا نے پتھر سے بھی سخت دلوں کے ساتھ گھروں پر حملہ کیا اور نتیجتاً متعدد افراد کو شہید کر دیا۔

ابتدائی طور پر شائع ہونے والی تصاویر میں، جنہیں دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی تھیں، بچوں کی بے جان لاشیں، دینی کتابیں اور مقدس قرآن نظر آ رہے تھے جو پاکستانی رجیم کے طیاروں کی بمباری کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکے تھے۔

لیکن یہ مناظر اجنبی نہ تھے، کیونکہ امت مسلمہ دو سال سے زیادہ عرصے سے اسی طرح کے مناظر غزہ میں دیکھ رہی ہے۔ وہاں نہ صرف بچوں اور عورتوں پر رحم نہیں کیا جاتا بلکہ اسلامی شعائر، جیسے مساجد، مدارس اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآنِ عظیم الشان کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ہاں! پاکستانی رجیم بھی صہیونی رجیم کے نقشِ قدم پر چل نکلی ہے اور وہی غیر انسانی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس رجیم نے عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا ہو؛ بلکہ اس سے پہلے بھی مختلف مراحل میں اسی طرح کی شرمناک اور گھٹیا کارروائیاں انجام دی گئی ہیں۔

تاہم صہیونی رجیم اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ ایک تو براہِ راست اور اپنی اصل شکل میں جرم کرتا ہے؛ جبکہ دوسرا بظاہر ایک اسلامی ملک کے کردار میں، اسلام کے نعروں کے سائے تلے عالمِ کفر کی خدمت کرتا اور ان کی خواہشات کو عملی جامہ پہناتا ہے۔ لہٰذا اس رجیم کے کھوکھلے نعروں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے؛ کیونکہ یہی رجیم، ایک طرف غزہ اور حماس کے مجاہدین کی حمایت کے نعرے بلند کرتی رہی، تو دوسری طرف بنیامین نیتن یاہو؛ غزہ کے بے گناہ لوگوں کے قصاب کے ساتھ بیٹھی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کر دیا۔

اس وفد کے ساتھ شمولیت، جو امن کے لبادے میں دراصل فلسطینی مزاحمت کو کچلنے اور صہیونیوں کی حقیقی خدمت کی ایک نئی منصوبہ بندی ہے، نے عملاً پاکستانی رجیم کو امت کے غداروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری جانب، اس رجیم نے متعدد بار ٹرمپ کی تعریف کی حتیٰ کہ چند روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم نے ٹرمپ کو جنوبی ایشیا کا نجات دہندہ قرار دیا، حالانکہ یہی ٹرمپ، نیتن یاہو کے بعد بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، غزہ کے لوگوں کی نسل کشی میں شریک رہا، اس راہ میں اربوں ڈالر خرچ کیے اور اب بھی نیتن یاہو کے شانہ بشانہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے غصب اور عوام کو دبانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

یہ رجیم، ایک طرف اسلام دوستی اور امت مسلمہ کی حمایت کے دعوے کرتی ہے، مگر عملاً کفر کے مقاصد کے نفاذ کا ذریعہ بن چکی ہے۔ جس طرح غزہ میں صہیونی رجیم مساجد اور مدارس پر بمباری کر کے اسلامی شعائر کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے، اسی طرح پاکستانی رجیم بھی رمضان المبارک کی نصف شب افغانستان کی سرزمین پر گھروں اور دینی مقامات پر حملے کر کے وہی جرم دہرا رہا ہے۔

بلاشبہ یہ اعمال نہ صرف ظالمانہ ہیں بلکہ الٰہی شعائر کی کھلی توہین بھی ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ان حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کے خون کے سامنے ان کے اندر کوئی رحم یا شفقت باقی نہیں رہی۔

لیکن یہ خیانت صرف افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستانی رجیم کی شمولیت، جو درحقیقت قبضے کو مضبوط کرنے اور فلسطینی مزاحمت کو دبانے کا منصوبہ ہے، نے اسے باقاعدہ طور پر غزہ کے بچوں کے قاتلوں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ جب دنیا کے مسلمان غزہ کے لیے آنسو بہا رہے ہیں اور حمایت کے نعرے لگا رہے ہیں، تو یہ رجیم، ایسے معاہدوں پر دستخط کر کے، جن سے فلسطین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، نیتن یاہو اور ٹرمپ کی مدد کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے ناپاک منصوبے آگے بڑھا سکیں۔

یہ دوغلا پن اور نفاق امت مسلمہ کو مزید بیدار کرتا ہے کہ وہ ایسے موقع پرست حکمرانوں کے کھوکھلے نعروں سے دھوکا نہ کھائے۔ وہ رجیم جو بظاہر قرآنِ عظیم الشان اور مسلمانوں کے دفاع کی دعوے دار ہے، مگر باطن میں اسلام دشمنوں سے ہاتھ ملا چکی ہے اور مسلمان عورتوں اور بچوں کو خون میں نہلا رہی ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ مستقل جرائم، غزہ سے لے کر افغانستان تک، ایک واضح پیغام رکھتے ہیں: اسلام کے دشمن، خواہ صہیونی ہوں یا وہ افراد جو اسلام کے لبادے میں ان کی خدمت کر رہے ہوں، ایک مشترکہ مقصد پر متحد ہیں، اور وہ ہے دین کے شعائر کو مٹانا اور بے گناہ انسانوں کا قتل۔

Exit mobile version