غرناطہ کا آخری محاصرہ تقریباً اڑھائی برس (1489ء تا 1492ء) تک جاری رہا۔ یہ اندلس کی تاریخ کے المناک ترین ابواب میں سے ایک تھا؛ ایسا باب جس میں ایک عظیم انسانی المیے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی شرمناک بے حسی بھی شامل تھی۔
1491ء میں غرناطہ پر ہسپانوی افواج کا محاصرہ مزید سخت ہو گیا، تمام راستے بند کر دیے گئے اور مسلمانوں کو مجبوراً ان چند دانوں پر انحصار کرنا پڑا جو محلات اور گھروں کے ذخیروں میں باقی رہ گئے تھے۔۔ جب غرناطہ کے آخری بادشاہ سلطان ابو عبداللہ الصغیر اس نتیجے پر پہنچے کہ ان حالات میں شہر کا دفاع مزید ممکن نہیں رہا، تو انہوں نے شمالی افریقہ میں اپنے مسلمان بھائی حکمرانوں سے فوری اور ہنگامی مدد طلب کی۔ مراکش کے سلطان، تلمسان کے زیانی سلطان، تیونس کے حفصی سلطان اور مصر کے مملوکی سلطان ناصر محمد سے۔
لیکن تاریخ میں کسی ایک کی جانب سے بھی کسی مدد کا ذکر نہیں ملتا، اس کے برعکس، پوری جنگ کے دوران شمالی افریقہ کے یہ حکمران قشتالہ (اسپین) کو اناج بھیجتے رہے اور اس کے ساتھ خوشگوار تجارتی تعلقات قائم رکھے۔ اسی دوران غرناطہ کے مسلمانوں کی حالت دن بدن بدتر ہوتی چلی گئی اور آخری محاصرے کے وقت شدید قحط پڑ گیا۔ اس بارے میں ایک ہسپانوی مورخ ہرنان پیریز ڈیل پلباو لکھتا ہے:
“شہر کی گلیوں سے موت کی بو اٹھتی تھی، لوگ اس پر مجبور ہو گئے کہ کتے، بلیاں، گھاس، حتیٰ کہ جوتوں کی ابلی ہوئی کھالیں تک کھائیں۔”
مسلمان مورخ لسان الدین ابن الخطیب الصغیر (جنہوں نے ان واقعات کا ایک حصہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا) اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:
“بچے بھوک کے باعث اپنی ماؤں کی گود میں دم توڑ دیتے تھے، لوگ اپنے مردوں کو خاموشی سے دفن کرتے تھے تاکہ باقی زندہ لوگوں کے حوصلے ٹوٹ نہ جائیں۔”
اگرچہ شاہی محل میں ابھی کچھ خوراک باقی تھی، لیکن عام لوگ بھوک، وبا اور سردی کا شکار تھے، کیونکہ محاصرہ سردیوں میں تھا اور غرناطہ کے پہاڑ بھاری برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ وبائیں پھیل گئیں، قحط اور مہنگائی نے جنم لیا، یہاں تک کہ روٹی سونے سے بھی مہنگی ہو گئی۔
دسمبر 1491ء میں ابو عبداللہ الصغیر کو یہ یقین ہو گیا کہ شہر میں مزید مزاحمت کی طاقت باقی نہیں رہی، خصوصاً اس لیے کہ مسلمانوں کی طرف سے کسی قسم کی مدد یا نصرت میسر نہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے کیتھولک بادشاہوں کے پاس اپنا سفیر بھیجا اور ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی، مگر اس شرط پر کہ مسلمانوں کا دین اور ان کی عزت محفوظ رہے۔
غرناطہ کا معاہدہ 25 نومبر 1491ء کو طے پایا، شہر کو دو ماہ کی مہلت دی گئی اور معاہدے کی دفعات (جو بظاہر نسبتاً بہتر سمجھی جاتی تھیں) کا جائزہ لیا گیا۔ 2 جنوری 1492ء کو غرناطہ باضابطہ طور پر حوالے کر دیا گیا، ایسے معاہدے کے تحت جس میں 80 دفعات شامل تھیں اور ہر ایک مسلمان کے کسی نہ کسی حق کی ضمانت دیتی تھی۔
سلطان ابو عبداللہ الصغیر نے ملکہ ایزابیلہ، جو اپنی کیتھولک دینداری کے باعث مشہور تھی، پر یہ شرط عائد کی کہ وہ انجیل پر قسم کھائے اور وزیر ابو القاسم الغرناطی اور معززین کی موجودگی میں پختہ حلف اٹھائے کہ وہ معاہدے کی پابند رہے گی۔ اس نے قسم کھائی، اس کے شوہر فرڈیننڈ نے بھی، اسی طرح ان کے کارڈینلز، پادریوں، راہبوں، اعلیٰ فوجی افسران اور ریاستی اہلکاروں نے بھی قسمیں کھائیں۔
ابو عبداللہ الصغیر نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ مطالبہ کیا کہ معاہدہ روم بھیجا جائے تاکہ پوپ (کیتھولکوں کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا) بھی اس پر دستخط کرے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یورپ کی سب سے اعلیٰ مذہبی اتھارٹی نے بھی معاہدے کی توثیق کی۔ پوپ، ایزابیلہ اور اس کے شوہر نے ان اسی دفعات پر دستخط کیے جو مسلمانوں کے تمام حقوق کی حفاظت کرتی تھیں: عورتوں کا لباس، مردوں کا کفن، عبادات، زکوٰۃ، روزہ، مساجد، املاک، تجارت اور عورتوں و بچوں کی عزت و سلامتی۔
لیکن جانتے ہیں، اس کے بعد ایزابیلہ نے کیا کیا؟
جب وہ غرناطہ میں مستحکم ہو گئی، اسے یقین ہو گیا کہ مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، فوج تحلیل ہو چکی ہے اور ابو عبداللہ الصغیر مراکش جلا وطن ہو چکے ہیں، تو اس نے اپنی نام نہاد دینداری کے تحت پوپ کو خط لکھا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اسے اپنی قسم سے آزاد کر دے۔ پوپ نے اپنی زہد و تقویٰ کے ساتھ ایک سرکاری خط میں، جو آج تک محفوظ ہے، اعلان کیا کہ اس نے اسے قسم سے آزاد کر دیا ہے، اس کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے اور اگر وہ مسلمانوں سے خیانت کرے تو قیامت کے دن اس سے کوئی حساب نہ لیا جائے گا۔
یوں پوپ کی اجازت کے بعد اس نے معاہدہ توڑ دیا، قتلِ عام شروع ہو گئے، تفتیشی عدالتیں قائم ہوئیں، خون بہایا گیا، لوگوں کو زندہ جلایا گیا، مسلمانوں کو بزورِ طاقت عیسائی بنایا گیا، حتیٰ کہ محض یہ شبہ کہ تم مسلمان ہو یا کوئی اسلامی شعار ادا کرتے ہو، تمہیں آگ کے تنور میں جھونکنے کے لیے کافی تھا۔
پس اے مسلمانو! اللہ کی قسم، میں آج ہی سے خیانت کی بو محسوس کر رہا ہوں۔ میں غرناطہ کے لوگوں کے چہرے غزہ کے لوگوں کے چہروں میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نئے فرڈیننڈ اور نئی ایزابیلہ کو دیکھ رہا ہوں جو اسلامی دنیا کے بعض غدار غلاموں کی مشترکہ معاونت سے سفید محل اور سیاہ محل سے نمودار ہوں گے۔
اے مسلمانو!
کیا تاریخ بدل گئی ہے؟ کیا دشمنوں نے کبھی ہمارے عہد کی پاسداری کی ہے؟ ان کے ساتھ کتنے ہی “امن” کے معاہدے کیے گئے، مگر نتیجہ ہمیشہ دھوکہ اور نقصان ہی نکلا۔ کیا تمہیں ٹرمپ، نیتن یاہو، میکرون، میلونی اور اسلامی دنیا کے غدار حکمرانوں سے کسی انصاف کی امید ہے؟
اور تمہارا رب تمہیں خبردار کرتا ہے:
﴿كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ﴾
تو اے قدیم اندلس کے لوگو!
کیا نئے، مشرقی اندلس کے لیے بھی کوئی ہے؟




















































