Site icon المرصاد

غلامی کی گود میں پروان چڑھی حکمران اشرافیہ!

جب کسی ملک کی حکمران اشرافیہ غلامی کے ماحول میں پرورش پاتی ہے تو اس کی سوچ، سیاست اور فیصلوں کی بنیاد بھی اسی غلامانہ ذہنیت پر قائم ہوتی ہے۔ ایسے حکمران اپنے عوام کی قوت پر کم اعتماد کرتے ہیں اور بیرونی طاقتوں کے سہارے کو نجات کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس ملک کی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی پالیسیاں اکثر قوم کے طویل المدتی مفادات کے بجائے غیر ملکی خواہشات کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہیں۔

پاکستان ایک زمانے میں برصغیر کا حصہ تھا اور اس کے بعض علاقے موجودہ افغانستان کے تاریخی حدودِ اربع سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ 14 اگست 1947ء کو برطانیہ کے استعماری دور کے خاتمے کے بعد پاکستان وجود میں آیا۔ اس ملک کا اقتدار ایک مخصوص حکمران طبقے کے حوالے کیا گیا، جسے آج ہم فوجی رجیم کے نام سے جانتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے قیام کو سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس طویل مدت میں مذکورہ حکمران طبقے نے غیر ملکی طاقتوں کے متعدد منصوبے نہایت مہارت اور خفیہ ایجنسیوں کی حکمت عملیوں کے ذریعے نافذ کیے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

۱۔ سب سے اہم طریقہ جس کے ذریعے انہوں نے غیر ملکی منصوبے نافذ کیے، یہ ہے کہ خود کو اسلام اور مسلمانی کے نام سے متعارف کرواتے ہیں۔ اسلامی جماعتوں، سیاسی پارٹیوں اور مختلف گروہوں کے سائے تلے انہوں نے اپنی غیر ملکی ایجنڈے پر مبنی پالیسیوں کو بڑی مہارت سے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا، جبکہ اپنی ناپاک کارروائیوں کو انہی اسلامی نعروں کے پیچھے چھپائے رکھا۔

2۔ فوجی رجیم نے پاکستان کے اندر مختلف گروہ تشکیل دیے: کچھ مذہب کے نام پر، کچھ سیاسی جماعتوں کے نام پر، اور کچھ جہادی تنظیموں کے عنوان سے۔ ان گروہوں کے پیچھے اصل مقصد یہ تھا کہ اگر پاکستان کے اندر کوئی ایسا شخص ابھرے جو فوجی رجیم کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کرے، اس کے اقتدار کو چیلنج کرے یا غیر ملکی منصوبوں کے نفاذ میں رکاوٹ بنے، تو ایسے افراد کو انہی گروہوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے، قتل کیا جائے یا جیلوں میں ڈال دیا جائے۔ پشتون قوم کے متعدد رہنما، علما اور سیاسی شخصیات اسی پالیسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ دور میں ایک نمایاں مثال عمران خان ہیں۔

3۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فوجی رجیم نے اپنی بہت سی اہم پالیسیوں کو اسلامی جماعتوں اور جہادی تنظیموں کے نام پر نافذ کیا، لیکن دوسری جانب انہی جماعتوں کے رہنماؤں کو کبھی اقتدار کے اعلیٰ منصب تک نہیں پہنچنے دیا۔ قیامِ پاکستان سے آج تک کسی اسلامی جماعت کا کوئی رہنما ملک کی اعلیٰ قیادت تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ فوجی رجیم کے اہم اہداف میں شامل تھا اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔

4۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی رجیم نے کبھی بھی پاکستان کے عوام اور ملک کے مفادات کو ترجیح نہیں دی، بلکہ ہمیشہ وہی اقدامات کیے جن سے بیرونی آقا خوش ہوں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا، جس سے پوری امتِ مسلمہ کی پیشانی پر پر ایک سیاہ داغ لگا۔ لال مسجد میں متعدد طلبہ و طالبات کو خون میں نہلا دیا گیا اور مسجد کو شہید کر دیا۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے نام پر بے شمار عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو شہید کر دیا۔

5۔ عالمی کفریہ طاقتیں ایک پیچیدہ خفیہ نظام استعمال کرتی ہیں جس کے ذریعے مسلمان ممالک اور ان کے نظاموں کو کمزور کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بعض علاقوں میں اسلام کے نام پر مسلح گروہ کھڑے کیے جاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور خانہ جنگی کو فروغ دیا جائے۔ اکثر ایسے منصوبے ان ممالک کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں جو ظاہراً اسلامی شناخت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی فوجی رجیم بھی اس نوعیت کے کئی غیر ملکی منصوبوں میں ملوث رہا ہے، جن میں داعش کے نام سے چلنے والا خفیہ منصوبہ ایک نمایاں مثال ہیں۔

پاکستان کے مسلمان عوام کے نام!

اے پاکستان کے مسلمان عوام! اب غفلت کی نیند سے بیدار ہو جاؤ، غلامی کی گود میں پروان چڑھی فوجی رجیم کو پہچانو، اور اپنے ملک کے وقار اور مستقبل کو بچانے کے لیے اپنا تاریخی فرض ادا کرو۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے نظام ہمیشہ اپنے عوام کی بجائے اپنے آقاؤں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور انہیں قوم کی عزت و خودمختاری کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ میں آج تمہاری غیور قوم سے مخاطب ہوں کہ اگر تم اسی طرح سوئے رہے تو بعید نہیں کہ تم بھی اسی فوجی رجیم کے کرتوتوں کا شکار بن جاؤ۔

پاکستان کے علما اور تاریخ کا فیصلہ

قوموں کی تاریخ میں علما کا کردار ہمیشہ اہم اور مؤثر رہا ہے۔ علما پر معاشرے کی فکری ساخت کی حیثیت سے حق بات بیان کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب علماء جرات کے ساتھ حق بات کہتے ہیں تو معاشرہ فکری اور اخلاقی زوال سے بچ جاتا ہے۔ آج آپ پر بھی ایک عظیم تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں اور غلامی کی گود میں پرورش پانے والی فوجی رجیم کی حقیقت کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں۔ مصلحت اور خوف کے باعث بند زبانوں کو حق کے لیے کھولیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی، وہ ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر خاموشی کا حساب لے گی، اور یہ باعثِ شرم ہوگا کہ آپ کو آنی والی نسلوں میں ایک کرائے کی فوج کے حمایتی اور شریکِ جرم کے طور پر یاد کیا جائے۔

یہ تاریخ کا ایک عجیب منظر ہوگا کہ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ افغانوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کو شکست دی، اور انہی علماء کے شاگرد بھی ان میں شامل تھے، لیکن پھر یہی علماء اس نظام کے حامی کے طور پر تاریخ میں درج ہوں جس نے برسوں تلک ان کے شاگردوں کو قید کیا، قتل کیا اور اسلامی نظاموں کو ختم کرنے کا ذریعہ بنا۔ ابھی بھی وقت اور موقع ہے کہ اس تاریخی رسوائی سے خود کو بچائیں اور حق کی آواز بلند کریں۔

اے غلامی کی گود میں میں پروان چڑھی حکمران اشرافیہ!

تاریخ گواہ ہے کہ تمہاری بنیاد اس خطے میں بیرونی طاقتوں کی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے رکھی گئی۔ اسی لیے تم نے ہمیشہ افغانستان کے ہر آزاد نظام کو چیلنج کرنے، کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی۔ جنگ کو جاری رکھنا، افغانوں کو تقسیم کرنا اور ان کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، تمہاری اسی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ افغانستان کبھی مضبوط اور خودمختار ملک نہ بن سکے۔

آج میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر افغانستان کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی سے باز آ جاؤ۔ یہ بات اس لیے نہیں کہ تم مارے جاؤ گے، زخمی ہو جاؤ گے یا مالی نقصان اٹھاؤ گے، کیونکہ تمہارے لیے اپنے فوجیوں کی ہلاکت، عوام کی قربانی اور مالی نقصان وہ چیزیں ہیں جن کی تمہیں غیر ملکی منصوبوں کے نفاذ کے لیے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ تمہارے لیے سب سے اہم بیرونی منصوبوں کا نفاذ ہے۔

مگر میری تنبیہ کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں تم نے اسلام کے نام پر کتنے خفیہ منصوبے نافذ کیے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمہارا دوہرا چہرہ عوام اور دنیا کے سامنے واضح کیا جائے۔

وہ دن دور نہیں جب تمہاری رسوائی دنیا کے سامنے آئے گی، اور تمہارے لیے بیرونی منصوبوں کو نافذ کرنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔ تم آج ایک ایسی قوم کے سامنے ہو جس نے اپنی آزادی اور عزت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جو قوم اپنی آزادی کے لیے کھڑی ہو جائے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

پاکستان کے مسلمان عوام کے نام (اختتامیہ)

آخر میں ایک بار پھر میں آپ سے مخاطب ہوں: بیرونی طاقتوں کے تابع حکمرانی کو مسترد کر دیں، ان رہنماؤں کو چھوڑ دیں جو غلامی کے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جو قیادت دوسروں کے دروازوں پر کھڑی ہو، وہ کبھی قوم کے مفاد میں نہیں ہو سکتی۔ جب کسی ملک کی تقدیر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جن کی سوچ غلامی میں پروان چڑھی ہو، تو قوم آزادی کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

تاریخ ایک دن فیصلہ کرے گی کہ کون قوم کے وقار کا محافظ تھا اور کون غلامی کے نظام کا حامی۔ قومیں زندہ رہتی ہیں، مگر غلام نظام ایک دن ضرور تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے کیے جاتے ہیں۔

Exit mobile version