اے تاریخ کے قابلِ فخر لوگوں کی سرزمین! تو مجاہدین کے خون کے سرخ سونے سے رنگین ہوئی ہے، تو ان بہادروں کا گھر ہے جنہوں نے ایمان، عزت اور غیرت کے نام پر اپنی جان قربان کی۔ مگر آج تیرے اوپر ایک ایسا تاریک سایہ پڑا ہے جو خود کو دین کے نام پر پیش کرتا ہے، لیکن دین کا دشمن ہے، یہ سایہ داعش کے نام سے جانا جاتا ہے۔
داعش تکفیر کی تلوار سے امت کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اسلام کے مقدس نام کے سائے تلے اپنے مسلم بھائی کا خون بہانے کو جائز سمجھنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ ایسی ٹولیاں جو نہ قرآن کی روح کو جانتی ہیں اور نہ محمدﷺ کے رحمت کی حقیقت سے آگاہ ہیں، بلکہ صرف اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے لیے امت کی نوجوان نسل کو آگ کی لپٹوں میں دھکیلتی ہیں۔
اے نوجوان نسل! جان لے کہ داعش افکار کی چور ہے۔ وہ نعروں کے خوبصورت لبادے میں ایسے خنجر چھپاتی ہے جو سیدھا دل پر وار کرتے ہیں۔ وہ "جہاد” کے نام پر امت کے دلوں میں نفرت کی لکیریں کھینچتی ہے اور "خلافت” کے بہانے امت کی تقسیم کی چال چلتی ہے۔
داعش محبت کے دشمن ہے۔ وہ گھرانوں کو لاوارث کرتی ہے، ماؤں کو بیوہ بناتی ہے، اور بچوں کی ہنسی کی جگہ چیخ و پکار بلند کرتی ہے۔ وہ قرآن کی ان آیات کو جو انصاف، رحمت اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں، نظر انداز کرتی ہے اور صرف جنگ کی آگ کی شعلے بھڑکاتی ہے۔
ایسا نہیں کہ وہ صرف کسی کے گھر پر ہی حملہ کرتی ہے؛ نہیں! وہ اذہان کے قلعوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ وہ نوجوانوں کے دلوں کو حقیقی اقدار سے خالی کرتی ہے اور اس کی جگہ تکفیر اور انتہا پسندی کا زہر بھرتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اگر افکار کو غلام بنا لیا جائے تو ہاتھ ان کے خدمت گار بن جائیں گے۔
اے والدین! تم اپنے بچوں کے دلوں کے محافظ ہو۔ اگر تم نے انہیں علم، حکمت اور دینی بصیرت کی روشنی میں پروان چڑھایا تو داعش کی تاریکی کبھی ان کے اذہان میں تاریکی نہیں بھر سکے گی۔ تمہاری بے پروائی ان کے شکار بننے کی راہ ہموار کرتی ہے، لہٰذا اپنے بچوں کے دلوں کو اس تاریک گروہ کے جال میں پھنسنے سے بچاؤ۔
دین وہ نہیں جو داعش پیش کرتی ہے۔ ہمارا دین رحمت، شفقت، بھائی چارے اور انصاف کا دین ہے۔ وہ دین ہے جو ایک معصوم کے خون کی ایک بوند کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر سمجھتا ہے۔ مگر داعش یہی معصوم خون بہانے پر فخر کرتی ہے اور خود کو امت کا نجات دہندہ سمجھتی ہے!
داعش نے امت مسلمہ کے جسم پر ایسے زخم چھوڑے ہیں جن کے ٹھیک ہونے کے لیے برسوں، بلکہ نسلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عراق، شام، افغانستان اور دیگر ممالک میں خون کی ندیاں بہائیں۔ مگر ان کے ظلم کا نتیجہ صرف مسلمانوں کی تباہی اور دشمنوں کی ہنسی رہا۔
اے نوجوان نسل! ہوش میں آؤ! ان کے خوبصورت نعروں سے نہ بہکو۔ جان لو کہ داعش کی ہر بات ایک نئی سازش کا پیغام ہے۔ وہ نہ جنت کے دروازے کھولتے ہیں اور نہ عزت کی راہ دکھاتے ہیں؛ وہ صرف قبروں کی راہ دکھاتے ہیں، وہ بھی بے گناہ بھائی اور بہن کی۔
اگر ہم اس فتنے کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مل کر علم، بصیرت اور اتحاد کے مشعلوں کی روشنی پھیلانی ہوگی۔ والدین اپنے بچوں کو دین کی سچی روح کا سبق دیں، مکاتب و مدارس بصیرت کے مراکز بنیں، اور علماء منبر کے ذریعے ان تاریک نظریات کے خلاف آواز بلند کریں۔
داعش ہمیشہ امت کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرے گی، لیکن اگر ہم قرآن کے رحمت کے پیغام کو زندہ رکھیں، اگر ہم بھائی چارے کے سچے عہد کی حفاظت کریں، تو ان کی تاریکی ہماری روشنی کے سامنے کبھی ٹھہر نہیں سکے گی۔ اے امت مسلمہ! جان لے کہ داعش کی اصلی جنگ ہمارے افکار کے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے دلوں کو شک، خوف اور نفرت سے بھرنا چاہتی ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو محبت، بھائی چارے اور حق کے دفاع کی بہادری سے بھر دیں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔




















































