امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے بارے میں ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جو اس مسئلے کو ایک نئے رخ پر موڑنے کی کوشش ہے۔ یہ منصوبہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں اور مفکرین کی سنجیدہ توجہ اور غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ میری رائے میں بیت المقدس کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی پرانی کشمکش اب ایک نئے رنگ میں سامنے آگئی ہے۔
عیسائی فریق، جو اس سے پہلے پسِ پردہ کردار ادا کرتا رہا اور گزشتہ سو برسوں کے دوران یہودیوں کے ساتھ کھڑا ہو کر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جاری تنازعے میں ان کی مدد کرتا رہا، اب کھلم کھلا میدان میں آ چکا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پورا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس مقصد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹونی بلیئر کو پیش پیش رکھا گیا ہے اور بیشتر اسلامی ممالک کے حکمران بھی ان کے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ اس طرح بیت المقدس کے بارے میں مسلمانوں اور یہودیوں کے بجائے عیسائیوں کی بالادستی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ لہٰذا اس پورے منظرنامے کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
عرب دنیا کے موجودہ حکمرانوں سے کسی واضح اور مؤثر مؤقف کی امید نہیں کی جا سکتی؛ البتہ اسلامی مفکرین، علمی اور دینی اداروں پر لازم ہے کہ گزشتہ ڈھائی ہزار برسوں کے حالات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور اپنا موقف واضح کریں۔ ہم بھی، ان شاء اللہ، اس موضوع پر اپنی تفصیلی آرا بعد میں پیش کریں گے۔ لیکن فی الحال ہم قارئین کے سامنے اکتوبر ۲۰۰۰ء میں بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والے چند اہم تجزیات اور ۲۰۰۲ء میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کی پیشکش سے متعلق چند نادر اور اہم معلومات پیش کر رہے ہیں:
۱۔ مسجد اقصیٰ کی تاریخ:
بیت المقدس کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفرِ معراج کی ایک منزل بھی یہی جگہ تھی۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد تقریباً سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی یہی رہا، اسی وجہ سے اسے ’’ قبلہ اول‘‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ مسجدِ صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے۔
روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اسی مقام سے آسمانی سفر کا آغاز فرمایا تھا۔ اسی یادگار کو دائمی بنانے کے لیے خلیفہ عبدالملک نے یہاں باضابطہ ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
اس موضوع پر ہم دو مستند کتب سے استفادہ کرتے ہیں، پہلی کتاب عارف باشا العارف کی ’’تاریخ القدس‘‘ (چار ضخیم جلدوں پر مشتمل) ہے، جو مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے حوالے سے نہایت معتبر مانی جاتی ہے۔
اور دوسری کتاب شیخ طہ الولی کی تصنیف ’’المسجد فی الاسلام‘‘، جس میں مسجد اقصیٰ سے متعلق تاریخی واقعات ترتیب وار بیان کیے گئے ہیں۔
ان کتب کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ۷۴ ہجری میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا، اور ۸۶ ہجری میں خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں یہ کام مکمل ہوا۔ اس عظیم منصوبے پر مصر کی سات سالہ خراج کی آمدنی صرف ہوئی۔ تعمیر کی نگرانی رجاء بن حیوة الکِندی اور یزید بن سلام کے سپرد تھی۔
جب مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی تو مخصوص بجٹ سے ایک لاکھ دینار بچ گئے۔ خلیفہ نے ارادہ کیا کہ یہ دونوں نگرانوں کو بطور انعام دے دیے جائیں، لیکن دونوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق یہ نہیں کہ ہم انعام وصول کریں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے زیورات بیچ کر مسجد پر خرچ کریں۔ چنانچہ خلیفہ نے وہ ایک لاکھ دینار پگھلا کر مسجد کے دروازوں پر سونے کی باریک اور دلکش پرت چڑھوا دی۔
۱۳۰ ہجری میں شدید زلزلہ آیا جس نے مختلف شہروں کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت کے خلیفہ ابو جعفر نے مسجد صخرہ کے دروازوں پر لگی سونے کی وہ پرتیں اُتار کر دوبارہ دیناروں میں ڈھال دیں اور عوام میں تقسیم کردیں۔ ۱۶۳ ہجری میں خلیفہ مہدی بن جعفر نے مسجد کے حدود میں تبدیلی کی؛ چوڑائی کم کر دی اور لمبائی بڑھا دی۔
۴۲۶ ہجری میں خلیفہ الظاہر نے اپنے زمانے کے زلزلوں کے باعث مسجد کی دوبارہ مرمت کروائی اور اسی دوران نیا گنبد بھی تعمیر کیا جو آج تک قائم ہے۔ اس کے علاوہ شمالی سمت میں سات دروازے بھی تعمیر کیے۔
۴۹۲ ہجری میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ مسجدِ صخرہ کو کلیسا میں تبدیل کیا گیا۔ اس کا ایک حصہ گھوڑوں کا اصطبل اور دوسرا حصہ گودام کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت صخرہ کا گنبد ٹکڑوں میں گرتا رہتا تھا اور صلیبی ان ٹکڑوں کو اپنے علاقوں میں لے جاتے اور سونے کے بدلے بیچا کرتے تھے۔
۴۹۲ ہجری سے ۵۸۳ ہجری تک بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے میں رہا، مگر ۵۸۳ ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے ان کے تسلط سے آزاد کرایا۔ ایوبی نے مسجد کی مرمت کے ساتھ ساتھ صلیبی دور کے تمام نشانات مٹا دیے اور حلب کی جامع مسجد کے لیے تیار کیا گیا خصوصی منبر مسجد اقصیٰ میں نصب کرایا۔ ۵۹۵ ہجری میں پہلی بار ایوبی خاندان کے حکم پر مسجد کو گلاب کے عرق سے دھویا گیا۔
۶۳۴ ہجری میں ملک عیسیٰ اور ۶۸۶ ہجری میں ملک المنصور سیف الدین نے مسجد میں مزید توسیع اور ضروری مرمتیں کروائیں۔ ۸۶۵ ہجری میں ناظر الحرمین امیر عبد العزیز عراقی کے زمانے میں دوبارہ مرمت ہوئی۔ ۹۶۹ ہجری سے ۱۳۴۱ ہجری تک بیت المقدس اور مسجد صخرہ عثمانی خلفاء کے زیرِ انتظام رہا اور وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔
۱۹۲۲ء میں فلسطین کے مفتیِ اعظم الحاج امین الحسینی نے ترک انجینئر کمال الدین بیگ کی نگرانی میں مسجد کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کروائی۔ اس مقصد کے لیے شریف مکہ حسین بن علی کی خصوصی معاونت کے ساتھ ساتھ فلسطین، مصر، شام، کویت، بحرین اور امریکا میں مقیم عرب باشندوں کے چندے اور بیت المقدس کے لیے مختص آمدنی کو بھی استعمال کیا گیا۔
۱۹۴۵ء میں یہودیوں نے مسجد کے اندر بم پھینکا جس سے باب اوسط کا دروازہ گر گیا اور گنبد کو شدید نقصان پہنچا۔ ۱۹۶۷ء میں مسجد اقصیٰ پر قبضے کے بعد یہودیوں نے ایک بار پھر نقصان پہنچایا اور باب اوسط کا دروازہ منہدم کر دیا۔
۱۹۶۹ء میں مسجد اقصی میں آگ لگنے کا نہایت ہی دلخراش واقعہ پیش آیا، جس کی شدت اس قدر تھی کہ شعلے گنبد کے ستونوں تک جا پہنچے اور گنبد کے جل جانے اور ڈھ جانے کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ اسی حادثے کے دوران یہودیوں نے مسجد کے منبر کو بھی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
کتاب میں بیان ہے کہ مسجد اقصی کی چار بلند و بالا مینار تھے، جنہیں باب المغاریہ، باب السلسلہ، باب الغوانم اور باب الاسیاط کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’مینارہ یا مئذنہ‘‘ اس جگہ کو کہا جاتا تھا جہاں سے اذان دی جاتی تھی۔ قدیم ادوار میں ہر بڑی جامع مسجد کے چاروں کونوں پر علیحدہ علیحدہ مینارے بنائے جاتے تھے تاکہ مؤذن وہاں کھڑا ہو کر اذان دے سکے۔
اسی طرح مسجد کی دس نہایت خوبصورت دروازے ہیں، جن کے نام یہ ہیں: باب الاسیاط، باب الحطہ، باب شرف الانبیاء، باب الغوانمہ، باب الناظر، باب الجلید، باب القطانین، باب المتوضا، باب السلسلہ اور باب المغاربہ۔ البتہ اس کے چار دروازے تاحال بند ہیں: باب السکینہ، باب الاقصیٰ، باب التوبہ اور باب البراق۔
مسجد کا رقبہ بھی تفصیل سے ذکر ہوا ہے: اس کی لمبائی تقریباً ۶۵۰ میٹر اور چوڑائی ۲۶۰ میٹر ہے۔ مشرق کی جانب اس کی حد ۴۷۴ میٹر، مغرب میں ۴۹۰ میٹر، شمال کی سمت ۳۲۱ میٹر اور جنوب یعنی قبلہ رخ ۲۸۳ میٹر ہے۔ ان تاریخی کتب میں مسجد اقصی کی فضیلتیں اور اس کے دوبارہ فتح ہونے کے حوالے سے اہل ایمان کے جذبات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
۲۔ فلسطین کا مسئلہ؛ تاریخی پس منظر اور عالمِ اسلام کا اصولی مؤقف:
۲۰۰۰ء میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر اسرائیل عربوں سے قبضہ کی گئی زمینیں خالی کردے، تو سعودی عرب اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
اس وقت شہزادہ عبداللہ کی یہ پیشکش اسرائیل سے متعلق عرب دنیا کی پالیسی میں ایک اہم پیشرفت سمجھی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر اسرائیل قبضہ کی گئی زمین واپس کرتا اور سعودی عرب اسے تسلیم کرتا، تو دنیا کے باقی مسلمان ممالک کے لیے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہتی، اور یوں اسرائیل یہودی ریاست کے طور پر اسلامی اور عرب دنیا کے درمیان ایک قانونی اور جائز ریاست کے طور پر ابھرتا۔
شہزادہ عبداللہ کی اس تجویز پر نہ صرف امریکہ کے اُس وقت کے صدر جارج بش اور دیگر امریکی رہنما خوش ہوئے اور ان سے قریبی رابطے میں آگئے، بلکہ اسرائیل کے اُس وقت کے صدر موشے کٹساو نے بھی اسے ایک مثبت تجویز قرار دیا۔ انہوں نے شہزادہ عبداللہ کو اس تجویز پر مزید وضاحت اور بات چیت کے لیے یروشلم آنے یا خود سعودی عرب کے دورے کی خواہش کا پیغام بھیجا۔ دونوں فریق اس موضوع پر مذاکرات کے لیے آمادہ تھے۔
فلسطین کی تاریخ کا آغاز اسلامی فتوحات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سب سے پہلے حضرت عمرو بن العاصؓ نے ۱۳ ہجری میں فلسطین کی طرف لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے غزہ پر قبضے کے بعد قیصریہ کا محاصرہ کیا، لیکن رومیوں کی ایک بڑی فوج کے آنے کی وجہ سے وقتی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔ بعد ازاں مزید مجاہدین کو طلب کیا گیا اور اجنادین کے مقام پر رومیوں کو شکست دی گئی۔ اس کے نتیجے میں سبطیہ، نابلس، لُد، عمواس اور بیت جبرین سمیت کئی فلسطینی شہر فتح ہوئے۔ آخرکار ۱۷ ہجری میں بیت المقدس بھی فتح ہوگیا اور پھر قیصریہ کا محاصرہ کیا گیا۔
اسی دوران حضرت عمرو بن العاصؓ کے بعد لشکر کی قیادت یزید بن ابی سفیانؓ کے سپرد کی گئی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری ان کے بھائی حضرت امیر معاویہؓ کے پاس آئی۔ ان کی قیادت میں قیصریہ اور عسقلان فتح ہوئے اور یوں فلسطین مکمل طور پر اسلامی سلطنت میں شامل ہوگیا۔
بعد ازاں صلیبی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا؛ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے ۸۰ سالہ صلیبی تسلط کے بعد شہر کو دوبارہ فتح کیا اور اسلام کا پرچم وہاں لہرا دیا۔ اس وقت سے فلسطین ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے امتِ مسلمہ کا حصہ رہا۔
اس کے بعد ۱۵۱۷ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان سلیم اول نے فلسطین کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا اور فلسطین تقریباً چار سو برس تک خلافتِ عثمانیہ کا ایک صوبہ رہا۔
اس دوران یہودیوں نے کوشش کی کہ بیت المقدس میں داخل ہو کر مستقل سکونت اختیار کریں تاکہ ایک اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو، لیکن خلافتِ عثمانیہ نے اس کی اجازت نہ دی۔ سلطان عبد الحمید ثانی کے دور میں یہودیوں کے عالمی تنظیم نے ایک باضابطہ تجویز پیش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مل جائے تو وہ خلافتِ عثمانیہ کے تمام قرضے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؛ مگر سلطان عبد الحمید ثانی نے یہ پیشکش سختی سے مسترد کردی اور یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہ دی۔
یہودی سازشوں کے نتیجے میں نہ صرف سلطان عبد الحمید خلافت سے محروم ہوئے بلکہ کچھ عرصے بعد خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ بھی ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران یہودیوں نے جرمنی کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کی، اور شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ فلسطین یہودیوں کے قومی وطن کے طور پر تسلیم کیا جائے اور وہاں انہیں آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی اور اس کے اتحادی عثمانی خلافت کے شکست خوردہ ہونے کے بعد برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنا حکومتی اقتدار قائم کیا۔ ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے ’’بالفور معاہدہ‘‘ کے ذریعے فلسطین کو یہودی قومی وطن کے طور پر تسلیم کیا اور قبضے کے بعد ایک برطانوی یہودی کو یہاں کے کمشنر اعلیٰ کے طور پر مقرر کیا، جس نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری میں مدد فراہم کی۔ اس مقصد کے لیے امریکہ میں یہودی تنظیموں نے لاکھوں ڈالر فراہم کیے، اور دنیا کے مختلف ممالک سے یہودیوں کو فلسطین میں منتقل کیا گیا، ساتھ ہی فلسطینیوں کی زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں۔
اس دوران عالمِ اسلام کے نمایاں اور سرکردہ علماء نے فتاوی اور سفارشات کے ذریعے کوشش کی کہ فلسطینی اپنی زمینیں یہودیوں کو نہ بیچیں، لیکن فلسطینیوں نے اس سلسلے کو نظر انداز کیا اور کئی سالوں میں لاکھوں یہودی فلسطین میں آباد ہوگئے۔ نتیجتاً یہودیوں نے منظم مسلح تنظیمیں قائم کیں اور فلسطینی بھی منظم ہوئے، جس کے باعث دونوں کے درمیان فساد، قتل و غارت اور تصادم شروع ہوا۔
۱۹۴۸ء میں برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور فیصلہ کیا کہ اپنا حکومتی کنٹرول ختم کر دے۔ ایک حصہ یہودیوں کو دیا گیا جو ان کی ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا، جبکہ دوسرا حصہ عرب ریاست کے طور پر مقرر کیا گیا۔ اس دوران اردن نے بیت المقدس اور اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں بیت المقدس اردن کے زیرِ انتظام آیا اور ۱۹۶۷ء تک اردن کے کنٹرول میں رہا۔
۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف جنگ کی اور ان تینوں ممالک کے بعض علاقے قبضہ کرلیے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا قبلہ اول دوبارہ کفار کے قبضے میں آ گیا۔ ۱۹۷۳ء میں عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے اسرائیل کی جانب سے قبضہ شدہ علاقے دوبارہ حاصل کر لیے، لیکن بیت المقدس سمیت زیادہ تر علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ برقرار رہا۔
۲۰۰۰ء کے وقت اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے تین مؤقف عالمی سطح پر نمایاں تھے:
اسرائیل کا مؤقف:
اسرائیل کو مکمل اور عملی حمایت امریکہ کی طرف سے حاصل تھی۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جو علاقے اس کے قبضے میں ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہیں اور بیت المقدس سمیت کسی علاقے کو خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کر لیا اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کے مطابق، جس نقشے کی تشہیر کی گئی، مصر، عراق، شام، سعودی عرب کے مدینہ منورہ اور خیبر سمیت کئی علاقے اسرائیل کے حصہ کے طور پر دکھائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان علاقوں پر قبضہ اور اسرائیلی ریاست کو بڑھانا عالمی صہیونی تحریک کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
دوسرا مؤقف:
اقوامِ متحدہ کے قراردادوں کے تحت، جو ۱۹۴۸ء میں فلسطین کے تقسیم کے دوران منظور ہوئی تھیں، اسرائیل سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ جو علاقے اس کے قبضے میں ہیں انہیں خالی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کے کسی حصے میں باضابطہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد اسرائیل سے یہ توقع کی گئی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے اور ۱۹۶۷ء کی جنگ میں حاصل شدہ علاقوں کو واپس کرے۔ ترکی، اردن اور مصر سمیت متعدد مسلم ممالک نے یہی مؤقف اختیار کیا اور اسی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کیا۔
تیسرا موقف:
افغانستان، سعودی عرب اور ایران سمیت کئی مسلم ممالک کا موقف یہ تھا کہ اسرائیلی ریاست کا قیام بنیاداً غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینی عوام اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کیے گئے اور پھر ان کی زمینیں اور مکانات جبراً برطانوی انتظامیہ کی مدد سے یہودیوں کے قبضے میں دیے گئے۔ اس بنا پر اسرائیل کو قانونی اور جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ۱۹۴۸ء کی بنیاد پر نہیں بلکہ ۱۹۱۷ء کے مؤقف کے مطابق حل ہونا چاہیے، جب فلسطین ایک متحد عرب و مسلم ریاست کے طور پر موجود تھا اور اسے تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔
یہ موقف ۱۹۴۸ء میں سعودی عرب کے بانی، ملک عبدالعزیز آل سعود نے اس وقت کے امریکی صدر ٹرومن کو ایک سخت خط کے جواب میں واضح طور پر بیان کیا تھا۔
امریکہ کے اُس وقت کے صدر، ہیری ٹرومن، نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبدالعزیز کو لکھے گئے اپنے خط میں لکھا کہ وہ عرب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے اور فلسطین کی تقسیم کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو قبول کرنے میں مدد کریں۔ ٹرومن نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور جو ملک اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو نہ مانے گا، اس کے خلاف مختلف ممالک یکجا ہو کر جنگ مسلط کر سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں سعودی عرب کے امیر اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے والد، ملک عبدالعزیز آل سعود نے ٹرومن کو لکھا:
’’فلسطین کا مسئلہ پرانا نہیں، جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں؛ بلکہ یہ اصل حق دار عرب قوم اور کچھ صہیونی جارحین کے درمیان جاری جنگ ہے، جو فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کچھ ممالک کی مدد سے اپنی قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ فلسطین کی تقسیم کے بارے میں منظور شدہ قرارداد، جس میں مختلف ممالک کی منظوری شامل تھی اور جس میں آپ کا کردار بھی تھا، صرف ظلم اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے، جسے تمام عرب ممالک اور حق کے حامی ممالک نے رد کیا ہے۔ لہذا موجودہ جنگ کے ذمہ دار عرب نہیں ہیں، جبکہ آپ ہمیں محتاط رہنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ خط ۱۳۶۷ھ، ربیع الثانی کی ۱۰ تاریخ (فروری ۱۹۴۸) کو لکھا گیا تھا۔
اسی پس منظر میں اگر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ کی گذشتہ پیراگراف میں مذکورہ تجویز اور موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے مؤقف کا موازنہ کیا جائے، تو واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے بانی، ملک عبدالعزیز آل سعود کے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹ کر فلسطین کی تقسیم کے اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کیاہے، حالانکہ ملک عبدالعزیز نے اسے ’’ظلم اور غیر منصفانہ فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ نتیجتاً، سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا کے کئی ممالک آج بھی اسرائیل کو قانونی اور جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
یہ کہ اسرائیل اس تجویز کو قبول کرے گا یا اس پر مذاکرات شروع ہوں گے، چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ تاہم فلسطین اور یہودیوں کے مسئلے پر عالمِ اسلام کے اصولی اور جائز مؤقف، جس پر ملک عبدالعزیز بھی قائم تھے، سے شاہ عبد اللہ اور آج کے بن سلمان کا انحراف بتارہا ہے کہ عالمی سیاست میں ایک بڑی اور انقلابی تبدیلی ہونے جارہی ہے۔

