ہفتہ, مارچ 7, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا منصوبہ!

مولوی عبدالصمد شاکر

فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا منصوبہ!
Share on FacebookShare on Twitter

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے بارے میں ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جو اس مسئلے کو ایک نئے رخ پر موڑنے کی کوشش ہے۔ یہ منصوبہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں اور مفکرین کی سنجیدہ توجہ اور غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ میری رائے میں بیت المقدس کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی پرانی کشمکش اب ایک نئے رنگ میں سامنے آگئی ہے۔

عیسائی فریق، جو اس سے پہلے پسِ پردہ کردار ادا کرتا رہا اور گزشتہ سو برسوں کے دوران یہودیوں کے ساتھ کھڑا ہو کر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جاری تنازعے میں ان کی مدد کرتا رہا، اب کھلم کھلا میدان میں آ چکا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پورا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس مقصد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹونی بلیئر کو پیش پیش رکھا گیا ہے اور بیشتر اسلامی ممالک کے حکمران بھی ان کے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ اس طرح بیت المقدس کے بارے میں مسلمانوں اور یہودیوں کے بجائے عیسائیوں کی بالادستی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ لہٰذا اس پورے منظرنامے کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس جیسی دیگر تحاریر

امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

"غضب للحق” نامی فلم!

عرب دنیا کے موجودہ حکمرانوں سے کسی واضح اور مؤثر مؤقف کی امید نہیں کی جا سکتی؛ البتہ اسلامی مفکرین، علمی اور دینی اداروں پر لازم ہے کہ گزشتہ ڈھائی ہزار برسوں کے حالات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور اپنا موقف واضح کریں۔ ہم بھی، ان شاء اللہ، اس موضوع پر اپنی تفصیلی آرا بعد میں پیش کریں گے۔ لیکن فی الحال ہم قارئین کے سامنے اکتوبر ۲۰۰۰ء میں بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والے چند اہم تجزیات اور ۲۰۰۲ء میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کی پیشکش سے متعلق چند نادر اور اہم معلومات پیش کر رہے ہیں:

۱۔ مسجد اقصیٰ کی تاریخ:
بیت المقدس کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفرِ معراج کی ایک منزل بھی یہی جگہ تھی۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد تقریباً سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی یہی رہا، اسی وجہ سے اسے ’’ قبلہ اول‘‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ مسجدِ صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے۔
روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اسی مقام سے آسمانی سفر کا آغاز فرمایا تھا۔ اسی یادگار کو دائمی بنانے کے لیے خلیفہ عبدالملک نے یہاں باضابطہ ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

اس موضوع پر ہم دو مستند کتب سے استفادہ کرتے ہیں، پہلی کتاب عارف باشا العارف کی ’’تاریخ القدس‘‘ (چار ضخیم جلدوں پر مشتمل) ہے، جو مسجد اقصیٰ کی تاریخ کے حوالے سے نہایت معتبر مانی جاتی ہے۔
اور دوسری کتاب شیخ طہ الولی کی تصنیف ’’المسجد فی الاسلام‘‘، جس میں مسجد اقصیٰ سے متعلق تاریخی واقعات ترتیب وار بیان کیے گئے ہیں۔

ان کتب کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ۷۴ ہجری میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا، اور ۸۶ ہجری میں خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں یہ کام مکمل ہوا۔ اس عظیم منصوبے پر مصر کی سات سالہ خراج کی آمدنی صرف ہوئی۔ تعمیر کی نگرانی رجاء بن حیوة الکِندی اور یزید بن سلام کے سپرد تھی۔

جب مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی تو مخصوص بجٹ سے ایک لاکھ دینار بچ گئے۔ خلیفہ نے ارادہ کیا کہ یہ دونوں نگرانوں کو بطور انعام دے دیے جائیں، لیکن دونوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق یہ نہیں کہ ہم انعام وصول کریں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے زیورات بیچ کر مسجد پر خرچ کریں۔ چنانچہ خلیفہ نے وہ ایک لاکھ دینار پگھلا کر مسجد کے دروازوں پر سونے کی باریک اور دلکش پرت چڑھوا دی۔

۱۳۰ ہجری میں شدید زلزلہ آیا جس نے مختلف شہروں کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت کے خلیفہ ابو جعفر نے مسجد صخرہ کے دروازوں پر لگی سونے کی وہ پرتیں اُتار کر دوبارہ دیناروں میں ڈھال دیں اور عوام میں تقسیم کردیں۔ ۱۶۳ ہجری میں خلیفہ مہدی بن جعفر نے مسجد کے حدود میں تبدیلی کی؛ چوڑائی کم کر دی اور لمبائی بڑھا دی۔

۴۲۶ ہجری میں خلیفہ الظاہر نے اپنے زمانے کے زلزلوں کے باعث مسجد کی دوبارہ مرمت کروائی اور اسی دوران نیا گنبد بھی تعمیر کیا جو آج تک قائم ہے۔ اس کے علاوہ شمالی سمت میں سات دروازے بھی تعمیر کیے۔

۴۹۲ ہجری میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ مسجدِ صخرہ کو کلیسا میں تبدیل کیا گیا۔ اس کا ایک حصہ گھوڑوں کا اصطبل اور دوسرا حصہ گودام کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت صخرہ کا گنبد ٹکڑوں میں گرتا رہتا تھا اور صلیبی ان ٹکڑوں کو اپنے علاقوں میں لے جاتے اور سونے کے بدلے بیچا کرتے تھے۔

۴۹۲ ہجری سے ۵۸۳ ہجری تک بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے میں رہا، مگر ۵۸۳ ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے ان کے تسلط سے آزاد کرایا۔ ایوبی نے مسجد کی مرمت کے ساتھ ساتھ صلیبی دور کے تمام نشانات مٹا دیے اور حلب کی جامع مسجد کے لیے تیار کیا گیا خصوصی منبر مسجد اقصیٰ میں نصب کرایا۔ ۵۹۵ ہجری میں پہلی بار ایوبی خاندان کے حکم پر مسجد کو گلاب کے عرق سے دھویا گیا۔

۶۳۴ ہجری میں ملک عیسیٰ اور ۶۸۶ ہجری میں ملک المنصور سیف الدین نے مسجد میں مزید توسیع اور ضروری مرمتیں کروائیں۔ ۸۶۵ ہجری میں ناظر الحرمین امیر عبد العزیز عراقی کے زمانے میں دوبارہ مرمت ہوئی۔ ۹۶۹ ہجری سے ۱۳۴۱ ہجری تک بیت المقدس اور مسجد صخرہ عثمانی خلفاء کے زیرِ انتظام رہا اور وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔

۱۹۲۲ء میں فلسطین کے مفتیِ اعظم الحاج امین الحسینی نے ترک انجینئر کمال الدین بیگ کی نگرانی میں مسجد کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کروائی۔ اس مقصد کے لیے شریف مکہ حسین بن علی کی خصوصی معاونت کے ساتھ ساتھ فلسطین، مصر، شام، کویت، بحرین اور امریکا میں مقیم عرب باشندوں کے چندے اور بیت المقدس کے لیے مختص آمدنی کو بھی استعمال کیا گیا۔

۱۹۴۵ء میں یہودیوں نے مسجد کے اندر بم پھینکا جس سے باب اوسط کا دروازہ گر گیا اور گنبد کو شدید نقصان پہنچا۔ ۱۹۶۷ء میں مسجد اقصیٰ پر قبضے کے بعد یہودیوں نے ایک بار پھر نقصان پہنچایا اور باب اوسط کا دروازہ منہدم کر دیا۔

۱۹۶۹ء میں مسجد اقصی میں آگ لگنے کا نہایت ہی دلخراش واقعہ پیش آیا، جس کی شدت اس قدر تھی کہ شعلے گنبد کے ستونوں تک جا پہنچے اور گنبد کے جل جانے اور ڈھ جانے کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ اسی حادثے کے دوران یہودیوں نے مسجد کے منبر کو بھی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

کتاب میں بیان ہے کہ مسجد اقصی کی چار بلند و بالا مینار تھے، جنہیں باب المغاریہ، باب السلسلہ، باب الغوانم اور باب الاسیاط کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’مینارہ یا مئذنہ‘‘ اس جگہ کو کہا جاتا تھا جہاں سے اذان دی جاتی تھی۔ قدیم ادوار میں ہر بڑی جامع مسجد کے چاروں کونوں پر علیحدہ علیحدہ مینارے بنائے جاتے تھے تاکہ مؤذن وہاں کھڑا ہو کر اذان دے سکے۔

اسی طرح مسجد کی دس نہایت خوبصورت دروازے ہیں، جن کے نام یہ ہیں: باب الاسیاط، باب الحطہ، باب شرف الانبیاء، باب الغوانمہ، باب الناظر، باب الجلید، باب القطانین، باب المتوضا، باب السلسلہ اور باب المغاربہ۔ البتہ اس کے چار دروازے تاحال بند ہیں: باب السکینہ، باب الاقصیٰ، باب التوبہ اور باب البراق۔

مسجد کا رقبہ بھی تفصیل سے ذکر ہوا ہے: اس کی لمبائی تقریباً ۶۵۰ میٹر اور چوڑائی ۲۶۰ میٹر ہے۔ مشرق کی جانب اس کی حد ۴۷۴ میٹر، مغرب میں ۴۹۰ میٹر، شمال کی سمت ۳۲۱ میٹر اور جنوب یعنی قبلہ رخ ۲۸۳ میٹر ہے۔ ان تاریخی کتب میں مسجد اقصی کی فضیلتیں اور اس کے دوبارہ فتح ہونے کے حوالے سے اہل ایمان کے جذبات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

۲۔ فلسطین کا مسئلہ؛ تاریخی پس منظر اور عالمِ اسلام کا اصولی مؤقف:
۲۰۰۰ء میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر اسرائیل عربوں سے قبضہ کی گئی زمینیں خالی کردے، تو سعودی عرب اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
اس وقت شہزادہ عبداللہ کی یہ پیشکش اسرائیل سے متعلق عرب دنیا کی پالیسی میں ایک اہم پیشرفت سمجھی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر اسرائیل قبضہ کی گئی زمین واپس کرتا اور سعودی عرب اسے تسلیم کرتا، تو دنیا کے باقی مسلمان ممالک کے لیے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہتی، اور یوں اسرائیل یہودی ریاست کے طور پر اسلامی اور عرب دنیا کے درمیان ایک قانونی اور جائز ریاست کے طور پر ابھرتا۔

شہزادہ عبداللہ کی اس تجویز پر نہ صرف امریکہ کے اُس وقت کے صدر جارج بش اور دیگر امریکی رہنما خوش ہوئے اور ان سے قریبی رابطے میں آگئے، بلکہ اسرائیل کے اُس وقت کے صدر موشے کٹساو نے بھی اسے ایک مثبت تجویز قرار دیا۔ انہوں نے شہزادہ عبداللہ کو اس تجویز پر مزید وضاحت اور بات چیت کے لیے یروشلم آنے یا خود سعودی عرب کے دورے کی خواہش کا پیغام بھیجا۔ دونوں فریق اس موضوع پر مذاکرات کے لیے آمادہ تھے۔

فلسطین کی تاریخ کا آغاز اسلامی فتوحات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سب سے پہلے حضرت عمرو بن العاصؓ نے ۱۳ ہجری میں فلسطین کی طرف لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے غزہ پر قبضے کے بعد قیصریہ کا محاصرہ کیا، لیکن رومیوں کی ایک بڑی فوج کے آنے کی وجہ سے وقتی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔ بعد ازاں مزید مجاہدین کو طلب کیا گیا اور اجنادین کے مقام پر رومیوں کو شکست دی گئی۔ اس کے نتیجے میں سبطیہ، نابلس، لُد، عمواس اور بیت جبرین سمیت کئی فلسطینی شہر فتح ہوئے۔ آخرکار ۱۷ ہجری میں بیت المقدس بھی فتح ہوگیا اور پھر قیصریہ کا محاصرہ کیا گیا۔

اسی دوران حضرت عمرو بن العاصؓ کے بعد لشکر کی قیادت یزید بن ابی سفیانؓ کے سپرد کی گئی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری ان کے بھائی حضرت امیر معاویہؓ کے پاس آئی۔ ان کی قیادت میں قیصریہ اور عسقلان فتح ہوئے اور یوں فلسطین مکمل طور پر اسلامی سلطنت میں شامل ہوگیا۔

بعد ازاں صلیبی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا؛ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے ۸۰ سالہ صلیبی تسلط کے بعد شہر کو دوبارہ فتح کیا اور اسلام کا پرچم وہاں لہرا دیا۔ اس وقت سے فلسطین ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے امتِ مسلمہ کا حصہ رہا۔
اس کے بعد ۱۵۱۷ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان سلیم اول نے فلسطین کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا اور فلسطین تقریباً چار سو برس تک خلافتِ عثمانیہ کا ایک صوبہ رہا۔

اس دوران یہودیوں نے کوشش کی کہ بیت المقدس میں داخل ہو کر مستقل سکونت اختیار کریں تاکہ ایک اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو، لیکن خلافتِ عثمانیہ نے اس کی اجازت نہ دی۔ سلطان عبد الحمید ثانی کے دور میں یہودیوں کے عالمی تنظیم نے ایک باضابطہ تجویز پیش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مل جائے تو وہ خلافتِ عثمانیہ کے تمام قرضے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؛ مگر سلطان عبد الحمید ثانی نے یہ پیشکش سختی سے مسترد کردی اور یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہ دی۔

یہودی سازشوں کے نتیجے میں نہ صرف سلطان عبد الحمید خلافت سے محروم ہوئے بلکہ کچھ عرصے بعد خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ بھی ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران یہودیوں نے جرمنی کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کی، اور شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ فلسطین یہودیوں کے قومی وطن کے طور پر تسلیم کیا جائے اور وہاں انہیں آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی اور اس کے اتحادی عثمانی خلافت کے شکست خوردہ ہونے کے بعد برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنا حکومتی اقتدار قائم کیا۔ ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے ’’بالفور معاہدہ‘‘ کے ذریعے فلسطین کو یہودی قومی وطن کے طور پر تسلیم کیا اور قبضے کے بعد ایک برطانوی یہودی کو یہاں کے کمشنر اعلیٰ کے طور پر مقرر کیا، جس نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری میں مدد فراہم کی۔ اس مقصد کے لیے امریکہ میں یہودی تنظیموں نے لاکھوں ڈالر فراہم کیے، اور دنیا کے مختلف ممالک سے یہودیوں کو فلسطین میں منتقل کیا گیا، ساتھ ہی فلسطینیوں کی زمینیں یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں۔

اس دوران عالمِ اسلام کے نمایاں اور سرکردہ علماء نے فتاوی اور سفارشات کے ذریعے کوشش کی کہ فلسطینی اپنی زمینیں یہودیوں کو نہ بیچیں، لیکن فلسطینیوں نے اس سلسلے کو نظر انداز کیا اور کئی سالوں میں لاکھوں یہودی فلسطین میں آباد ہوگئے۔ نتیجتاً یہودیوں نے منظم مسلح تنظیمیں قائم کیں اور فلسطینی بھی منظم ہوئے، جس کے باعث دونوں کے درمیان فساد، قتل و غارت اور تصادم شروع ہوا۔

۱۹۴۸ء میں برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور فیصلہ کیا کہ اپنا حکومتی کنٹرول ختم کر دے۔ ایک حصہ یہودیوں کو دیا گیا جو ان کی ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا، جبکہ دوسرا حصہ عرب ریاست کے طور پر مقرر کیا گیا۔ اس دوران اردن نے بیت المقدس اور اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں بیت المقدس اردن کے زیرِ انتظام آیا اور ۱۹۶۷ء تک اردن کے کنٹرول میں رہا۔
۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف جنگ کی اور ان تینوں ممالک کے بعض علاقے قبضہ کرلیے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا قبلہ اول دوبارہ کفار کے قبضے میں آ گیا۔ ۱۹۷۳ء میں عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے اسرائیل کی جانب سے قبضہ شدہ علاقے دوبارہ حاصل کر لیے، لیکن بیت المقدس سمیت زیادہ تر علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ برقرار رہا۔

۲۰۰۰ء کے وقت اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے تین مؤقف عالمی سطح پر نمایاں تھے:
اسرائیل کا مؤقف:
اسرائیل کو مکمل اور عملی حمایت امریکہ کی طرف سے حاصل تھی۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جو علاقے اس کے قبضے میں ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہیں اور بیت المقدس سمیت کسی علاقے کو خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کر لیا اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کے مطابق، جس نقشے کی تشہیر کی گئی، مصر، عراق، شام، سعودی عرب کے مدینہ منورہ اور خیبر سمیت کئی علاقے اسرائیل کے حصہ کے طور پر دکھائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان علاقوں پر قبضہ اور اسرائیلی ریاست کو بڑھانا عالمی صہیونی تحریک کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

دوسرا مؤقف:
اقوامِ متحدہ کے قراردادوں کے تحت، جو ۱۹۴۸ء میں فلسطین کے تقسیم کے دوران منظور ہوئی تھیں، اسرائیل سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ جو علاقے اس کے قبضے میں ہیں انہیں خالی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کے کسی حصے میں باضابطہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد اسرائیل سے یہ توقع کی گئی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے اور ۱۹۶۷ء کی جنگ میں حاصل شدہ علاقوں کو واپس کرے۔ ترکی، اردن اور مصر سمیت متعدد مسلم ممالک نے یہی مؤقف اختیار کیا اور اسی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کیا۔

تیسرا موقف:
افغانستان، سعودی عرب اور ایران سمیت کئی مسلم ممالک کا موقف یہ تھا کہ اسرائیلی ریاست کا قیام بنیاداً غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینی عوام اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کیے گئے اور پھر ان کی زمینیں اور مکانات جبراً برطانوی انتظامیہ کی مدد سے یہودیوں کے قبضے میں دیے گئے۔ اس بنا پر اسرائیل کو قانونی اور جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ۱۹۴۸ء کی بنیاد پر نہیں بلکہ ۱۹۱۷ء کے مؤقف کے مطابق حل ہونا چاہیے، جب فلسطین ایک متحد عرب و مسلم ریاست کے طور پر موجود تھا اور اسے تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔
یہ موقف ۱۹۴۸ء میں سعودی عرب کے بانی، ملک عبدالعزیز آل سعود نے اس وقت کے امریکی صدر ٹرومن کو ایک سخت خط کے جواب میں واضح طور پر بیان کیا تھا۔

امریکہ کے اُس وقت کے صدر، ہیری ٹرومن، نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبدالعزیز کو لکھے گئے اپنے خط میں لکھا کہ وہ عرب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے اور فلسطین کی تقسیم کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو قبول کرنے میں مدد کریں۔ ٹرومن نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور جو ملک اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو نہ مانے گا، اس کے خلاف مختلف ممالک یکجا ہو کر جنگ مسلط کر سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں سعودی عرب کے امیر اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے والد، ملک عبدالعزیز آل سعود نے ٹرومن کو لکھا:
’’فلسطین کا مسئلہ پرانا نہیں، جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں؛ بلکہ یہ اصل حق دار عرب قوم اور کچھ صہیونی جارحین کے درمیان جاری جنگ ہے، جو فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کچھ ممالک کی مدد سے اپنی قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ فلسطین کی تقسیم کے بارے میں منظور شدہ قرارداد، جس میں مختلف ممالک کی منظوری شامل تھی اور جس میں آپ کا کردار بھی تھا، صرف ظلم اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے، جسے تمام عرب ممالک اور حق کے حامی ممالک نے رد کیا ہے۔ لہذا موجودہ جنگ کے ذمہ دار عرب نہیں ہیں، جبکہ آپ ہمیں محتاط رہنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ خط ۱۳۶۷ھ، ربیع الثانی کی ۱۰ تاریخ (فروری ۱۹۴۸) کو لکھا گیا تھا۔

اسی پس منظر میں اگر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ کی گذشتہ پیراگراف میں مذکورہ تجویز اور موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے مؤقف کا موازنہ کیا جائے، تو واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے بانی، ملک عبدالعزیز آل سعود کے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹ کر فلسطین کی تقسیم کے اقوامِ متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کیاہے، حالانکہ ملک عبدالعزیز نے اسے ’’ظلم اور غیر منصفانہ فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ نتیجتاً، سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا کے کئی ممالک آج بھی اسرائیل کو قانونی اور جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔

یہ کہ اسرائیل اس تجویز کو قبول کرے گا یا اس پر مذاکرات شروع ہوں گے، چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ تاہم فلسطین اور یہودیوں کے مسئلے پر عالمِ اسلام کے اصولی اور جائز مؤقف، جس پر ملک عبدالعزیز بھی قائم تھے، سے شاہ عبد اللہ اور آج کے بن سلمان کا انحراف بتارہا ہے کہ عالمی سیاست میں ایک بڑی اور انقلابی تبدیلی ہونے جارہی ہے۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

اسلاموفوبیا کا رجحان اور داعش کا کردار  | پہلی قسط
خوارج العصر

اسلاموفوبیا کا رجحان اور داعش کا کردار | پہلی قسط

فروری 1, 2025
داعشی قیادت کی کہانی، ایک داعشی کی زبانی! | دوسری قسط
خوارج العصر

داعشی قیادت کی کہانی، ایک داعشی کی زبانی! | دوسری قسط

نومبر 12, 2024
داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک!  گیارہویں قسط
تبصرے و تحریرات

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! گیارہویں قسط

ستمبر 11, 2025
غزوات النبی ﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق | تیسری قسط
علمی تحریرات

غزوات النبی ﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق | تیسری قسط

جنوری 29, 2025
اسلامی امارت کو باضابطہ تسلیم کرنا: ماسکو کے لیے فوائد اور نتائج کا تجزیہ!
تبصرے و تحریرات

اسلامی امارت کو باضابطہ تسلیم کرنا: ماسکو کے لیے فوائد اور نتائج کا تجزیہ!

جولائی 5, 2025
داعشی خوارج کے باطل دعوے اور معصوم شہریوں کی شہادت!
تبصرے و تحریرات

داعشی خوارج کے باطل دعوے اور معصوم شہریوں کی شہادت!

جنوری 20, 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    • ٹرینڈنگ
    • تبصرے
    • تازہ ترین
    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    مارچ 25, 2024
    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    مارچ 28, 2024
    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    مارچ 23, 2024
    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    مارچ 5, 2025
    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    0
    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    0
    افغانستان میں داعش کے اہداف

    افغانستان میں داعش کے اہداف

    0
    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    0
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    مارچ 7, 2026
    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    مارچ 7, 2026
    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    مارچ 5, 2026
    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    مارچ 5, 2026

    تازہ خبریں

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    مارچ 1, 2026
    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    فروری 22, 2026
    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    فروری 3, 2026

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    دسمبر 31, 2025
    • ابطالِ امت
    • اداریہ
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • تبصرے اور تحریرات
    • خبریں
    • صفحہ اول
    • علماء
    • لائبریری
    المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist

    کو ئی نتیجہ
    تمام نتائج دیکھیں
    • صفحہ اول
    • اداریہ
    • خبریں
      • افغانستان
      • علاقائی خبریں
      • عالمی خبریں
    • تبصرے اور تحریرات
      • خوارج العصر
      • سیاسی تحریرات
      • جہادی تحریرات
      • علمی تحریرات
      • تجزیاتی تحریرات
    • علماء
    • ابطالِ امت
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • لائبریری
    • المرصاد
      • پښتو
      • دری
      • عربي
      • English
      • বাংলা

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Go to mobile version