تقریباً مسلسل اسلام کے ظہور سے لے کر چودہ صدیوں تک مسلمانوں نے زمین پر خلافت اسلامیہ، امارتوں اور اسلامی نظاموں کی حکمرانی برقرار رکھی۔ اس عرصے میں انسانی زبانوں، رسوم و رواج، ثقافت، تہذیب اور زندگی کی سہولیات کے فروغ کے ادوار کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں نے معاشرے میں موجود اس غلامی کا خاتمہ کیا جو اشرافیہ، جابروں اور بعض مذاہب کے زیرِ اثر پیدا ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں روئے زمین پر انسانیت، بشریت اور اخلاقی اقدار کا دائرہ وسیع ہوا اور پھلا پھولا۔
خلفائے راشدین، اموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں کے ادوار ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے باطل پرست قوتوں کے درمیان بھی انسانیت، اخلاق اور تمدن کے لیے راستے اور اصول متعین کیے۔ اسی تسلسل میں مسلمانوں نے زندگی کی مختلف ضروریات کو سمجھا اور انہیں دریافتوں اور ایجادات کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا، جو آج تک مسلم اور غیر مسلم اقوام کے لیے تحریک اور تقلید کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ تقریباً ایک صدی تک مسلم سرزمینوں پر اسلامی خلافت، امارت یا نظام کی حکمرانی موجود نہیں تھی۔ آج جب افغان سرزمین پر امارت اسلامیہ کا ظہور ہوا ہے تو اس کے غیر مسلم دنیا پر منفی، مسلمانوں پر مثبت اثرات اور مجموعی طور پر اس کا پیغام کیا ہے؟
جب ایک صدی قبل مسلم سرزمینیں اور سلطنتیں تقسیم اور زیرِ قبضہ آئیں تو مسلمانوں کے علاقوں کو سرحدوں، زبانوں، مسالک اور مختلف سیاسی نظریات کی بنیاد پر بانٹ دیا گیا۔ یہودی قابضین اور ان کے اتحادیوں کی کوشش تھی کہ دین کو سیاست سے الگ کر دیا جائے اور اسلام کو صرف انفرادی عبادت اور شخصی معاملات تک محدود رکھا جائے۔ یہ صورتِ حال تقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔
اسی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے یہود، نصاریٰ اور دیگر غیر مسلم قوتیں اس حد تک متحد ہوئیں کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے مقابلے میں سیاسی، فکری، اقتصادی اور عسکری تنظیمیں قائم کیں، جیسے نیٹو اور اقوامِ متحدہ، تاکہ مسلمانوں کے اتحاد اور اتفاق کے اس مرکز، یعنی خلافت اسلامیہ، امارت اسلامیہ اور اسلامی نظام، کے دوبارہ احیا کا راستہ روکا جا سکے۔
الحمد للہ، ثم الحمد للہ، بیس سالہ جدوجہد کے نتیجے میں، جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور شرعی نظام کا نفاذ تھا، امریکہ، نیٹو اور ان کے اتحادیوں کی شکست اور افغانستان سے انخلا کے بعد امارت اسلامیہ برسرِ اقتدار آئی اور اس نے شرعی سیاست کو دین کا حصہ قرار دیا۔
اسی کامیابی اور عزت نے غیر مسلم دنیا کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ عسکری اور سیاسی شکست کے بعد اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کا راستہ اختیار کرے۔ یہ وہ دباؤ ہیں جنہیں مسلمانوں نے ماضی میں شعبِ ابی طالب کے محاصرے کی طرح برداشت کیا تھا اور آج ہم بھی ان کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ پابندیاں خود ان قوتوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہیں، کیونکہ یا تو انہیں اپنے انسانی ہمدردی اور عدم مداخلت کے دعووں کو غلط ثابت کرنا ہوگا یا پھر باہمی اختلافات اور کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آج الحمد للہ ہمارا قانون اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ شریعت ہے، اور امارت اسلامیہ، جس کے قیام کو ایک صدی تک جرم قرار دیا جاتا رہا، دوبارہ وجود میں آ چکی ہے اور اپنے بنیادی ڈھانچے پر استوار ہو چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے ظہور نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ مغرب اور کفر کے قبضے سے نجات ممکن ہے۔ اس ظہور نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلمانوں کی قوت اور آزادی بیرونی قابضین کے سائے تلے حاصل نہیں ہو سکتی۔ مغرب اور کفر کے سیاسی و فکری اثرات کے تحت نہ دین کا مکمل نفاذ ممکن ہے اور نہ حقیقی سیاسی، اقتصادی اور عسکری ترقی۔
اسی لیے امارت اسلامیہ کے قیام کے ساتھ ہی عالمی ردِ عمل اور تشویش میں اضافہ ہوا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پیش رفت مسلمانوں کو بیدار کرے گی اور استعمار کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے کے مقابلے میں مزاحمت اور آزادی کے جذبے کو مضبوط بنائے گی۔
ان شاء اللہ، افغان سرزمین اور اس پر قائم امارت اسلامیہ امتِ مسلمہ کے لیے حضرت بلالؓ کی اذان ثابت ہوگی۔ یہ اذان اس طویل، تاریک اور صبح کی روشنی سے محروم رات کے خاتمے کا اعلان کرے گی۔ آج جب ہم مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو روز بروز غفلت کے بجائے بیداری کی علامات نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ قوم، زبان اور سرحد کی نسبت امت کا احساس ابھر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ کو مسلمانوں کے لیے عزت، اتحاد اور کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
































