۱۰- مسلم معاشروں میں تعلیمی اور تربیتی نظام کی کمزوری
موجودہ دور میں مسلمانوں کی کمزوری کے اہم اسباب میں سے ایک اسلامی تعلیمی اور تربیتی نظام کی کمزوری اور مسلم ممالک میں غیر اسلامی نصابوں کا رائج ہونا اور جگہ بنانا ہے۔ کیونکہ تعلیمی نظام ہر معاشرے میں فرد کی شخصیت اور اجتماعی شناخت کی تشکیل کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر تعلیم و تربیت صحت مند، مقصد پر مبنی اور حقیقی اقدار پر قائم نہ ہو تو آنے والی نسلیں فکری اور روحانی ترقی کے بجائے فکری انتشار، دوسروں کی اندھی تقلید اور شناخت کے بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مسلم امہ کی موجودہ کمزوری کے بنیادی عوامل میں سے ایک تعلیم و تربیت کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والی خرابی بھی ہے۔
گزشتہ ادوار میں عالمِ اسلام کا تعلیمی نظام علم اور ایمان کے اتحاد پر قائم تھا۔ دینی مدارس اور علمی مراکز میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ طبیعی علوم، ریاضی، طب اور فلسفہ بھی توحیدی نظریۂ حیات کی روشنی میں پڑھائے جاتے تھے۔ اسی متوازن امتزاج نے یہ ماحول پیدا کیا تھا کہ مسلمان علماء ایک طرف ربانی علماء بھی ہوتے تھے اور دوسری طرف اپنے علمی شعبوں میں ماہر متخصصین بھی۔ لیکن عصر حاضر میں بیشتر مسلم ممالک کے تعلیمی نصاب استعمار اور درآمد شدہ نظاموں کے زیر اثر آ گئے، جس سے یہ اتحاد ختم ہو گیا۔
اسلام دشمنوں نے کوشش کی کہ اسلامی تعلیمی نظام کو جدید تعلیم سے جدا کر دیا جائے، یہاں تک کہ تعلیم کو دو الگ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: دینی تعلیم، جو بعض اوقات زندگی کی عملی ضروریات اور جدید مہارتوں سے دور رہ جاتی ہے، اور جدید تعلیم، جو اکثر ایمان، اخلاق اور روحانی اقدار کی روح سے خالی ہوتی ہے۔ اس جدائی کی وجہ سے علم اور ایمان کے درمیان ایک گہرا خلا پیدا ہو گیا۔
جب مسلمانوں کے ہاتھ میں دنیا کی قیادت تھی تو انہوں نے عظیم علمی اور ثقافتی مراکز قائم کیے، جہاں اسلامی علوم کے ساتھ مختلف دیگر علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ دنیا کے کونے کونے سے مسلمان اور غیر مسلم ان مراکز کا رخ کرتے اور علم کے ان سرچشموں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ مثال کے طور پر اندلس کا قرطبہ اور بغداد کا بیت الحکمت قابل ذکر ہیں۔
لیکن جب مسلمان آپس کے اختلافات، تفرقے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مشغول ہو گئے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہو گئے تو ان کے دشمنوں کو اپنے پرانے مقاصد پورے کرنے کا بہترین موقع مل گیا۔ ان مقاصد میں سے ایک اہم مقصد مسلم ممالک میں تعلیمی نظام کی تبدیلی بھی تھا۔ اسی تبدیلی کے نتیجے میں امت کی نئی نسل اسلام اور اپنے تاریخی ورثے سے دور ہو گئی اور ایسے افراد تیار ہوئے جن کا واحد مقصد اور ہدف صرف دنیا رہ گیا۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نسل یا تو زندگی کی مہارتوں اور عالمی مقابلے کے میدان میں کمزور رہتی ہے، یا پھر روحانیت اور اخلاق کے اعتبار سے فکری کمزوری اور خلا کا شکار ہو جاتی ہے۔ بہت سے مواقع پر اس دوہرے پن نے ایسے افراد پیدا کیے جن کے پاس نہ گہری دینی شناخت ہوتی ہے اور نہ ہی اتنی علمی صلاحیت کہ وہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
دوسری طرف، بہت سے روایتی بلکہ جدید تعلیمی نظاموں میں بھی تدریس کے طریقے زیادہ تر معلومات کو یاد کرنے کے گرد گھومتے ہیں، نہ کہ تنقیدی سوچ، تجزیے، جدت اور مسائل کے حل کی تربیت کے گرد۔ اسی وجہ سے معاشرے فکر اور نظریات پیدا کرنے والوں کے بجائے دوسروں کے افکار اور نظریات کے صارف بن کر رہ گئے ہیں۔ اس بحران کا بنیادی حل ایک ایسے تعلیمی نظام کی تعمیر نو اور اصلاح ہے جو ایک جامع اسلامی نظریے پر مبنی ہو، جس میں علم اور ایمان، عقل اور وحی، مہارت اور اخلاق ایک دوسرے سے مربوط اور ہم آہنگ ہوں۔
ایسے نظام میں تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا یا ڈگری حاصل کرنا نہیں ہوگا؛ بلکہ بنیادی مقصد ایسے انسان کی تربیت ہوگی جو علم رکھنے والا، ذمہ دار، معاشرے کے لیے فائدہ مند اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا ہو۔ اسی طرح ضروری ہے کہ تعلیمی نظام میں عملی مہارتوں، علمی تحقیقات اور عصر حاضر کی ضروریات سے آگاہی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے، بغیر اس کے کہ دینی شناخت اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم امہ جب تک اپنے تعلیمی اور تربیتی نظام کی اصلاح نہیں کرے گی، وہ سیاست، معیشت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں حقیقی خودمختاری اور خود کفالت حاصل نہیں کر سکتی۔




















































