سلطان محمد فاتح کی عادت تھی کہ وہ اپنی مہم اور مقصد کسی کو نہیں بتاتے تھے، بلکہ اسے راز میں رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنے دشمن کو غفلت اور حیرانی میں مبتلا رکھتے تھے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کب اس کے ساتھ جنگ میں الجھنے والے ہیں۔ وہ اچانک جنگی کارروائیاں شروع کر دیتے تھے اور دشمن کو تیاری کا کوئی موقع نہیں دیتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک قاضی نے سلطان سے پوچھا کہ لشکر کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ سلطان نے جواب دیا: اگر میری داڑھی کے ایک بال کو بھی یہ معلوم ہو جائے کہ میں لشکر کو کس طرف لے جا رہا ہوں، تو میں اسے اکھاڑ کر آگ میں ڈال دوں۔ سلطان کی خواہش تھی کہ اسلامی فتوحات جنوبی اٹلی سے لے کر شمال تک پہنچ جائیں۔ وہ فرانس، اسپین اور ان سے آگے کے علاقوں، اقوام اور ممالک کو فتح کرکے اپنی سلطنت کا حصہ بنانا چاہتے تھے، لیکن زندگی نے انہیں اس کی مہلت نہ دی۔
سلطان کے انتقال کے بعد عالمِ اسلام کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ پوری امتِ مسلمہ غم و الم سے نڈھال تھی، ہر طرف سوگ کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ وہ عظیم سپاہی، جس کی فتوحات نے دنیا کو حیران کر رکھا تھا، مٹی میں جا سویا؛ وہ مردِ مجاہد جس نے ابتدائی اسلامی صدیوں کے غزوات کی یاد تازہ کر دی تھی۔
عبد الحی بن العماد حنبلی سلطان محمد فاتح کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں:
"وہ بنو عثمان کے بہترین حکمرانوں میں سے تھے۔ عظمت و فضیلت کے مالک اور نہایت باوقار بادشاہ تھے۔ جنگی معاملات میں سب سے آگے، قوت کے اعتبار سے تمام بادشاہوں میں سب سے زیادہ طاقتور، ثابت قدم اور اللہ پر سب سے زیادہ توکل کرنے والے تھے۔ وہ بے شمار فضائل کے حامل تھے۔ تاریخ کے صفحات پر ان کے اثرات اس طرح باقی رہیں گے کہ کوئی انہیں کبھی مٹا نہیں سکے گا۔”
انہوں نے ایسی جنگیں لڑیں کہ صلیبیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ قسطنطنیہ کی فتح تھی، جس میں انہوں نے خشکی پر جہازوں کو منتقل کیا اور سمندر اور خشکی دونوں جانب سے اس شہر کا محاصرہ کیا۔ یہ ایسا عظیم کارنامہ تھا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ سلطان محمد فاتح نے اپنے لشکر کے ساتھ اس شہر کا پچاس دن تک سخت محاصرہ کیے رکھا۔ قلعے کے اندر کفار سخت مصیبت میں مبتلا تھے، جبکہ سلطان کے سپاہیوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔ وہ مسلسل کفار پر حملے کرتے رہے، اور اللہ جل جلالہ نے فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد فرمائی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے۔


















































