چند روز قبل ترک ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ احمد کازانچی نامی ایک ترک شہری کو پاکستان میں گرفتار کرکے ترکی منتقل کر دیا گیا ہے۔ ترک میڈیا نے یہ اطلاع ترکی کی انٹیلی جنس کے حوالے سے دی تھی، تاہم اس کی گرفتاری کے مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔
پاکستانی فوجی حکومت کے حامی بعض پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے اسی ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ احمد کازانچی کی سرگرمیوں کا مرکز افغانستان تھا، لیکن المرصاد کو اپنے ذرائع سے اس کی سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات موصول ہوئی ہیں۔
المرصاد ذرائع کے مطابق احمد کازانچی داعشی خوارج کے حلقوں میں ’’عبیدہ الترکی‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ جب بلوچستان میں داعش کے مراکز فعال تھے تو وہ ایران کے راستے بلوچستان پہنچا تھا۔
ذرائع کے مطابق کازانچی ایک اور غیر ملکی شخص ’’محمد‘‘ کے ہمراہ داعش کے مراکز تک پہنچا، جہاں دونوں نے عسکری تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں احمد کازانچی کو تنظیم کے شعبۂ ابلاغ (میڈیا) میں کام سونپ دیا گیا۔
چونکہ وہ بواسیر کے مرض میں مبتلا تھا اور پہاڑی علاقوں میں اس کے لیے مناسب سہولیات میسر نہ تھیں، اس لیے اس کے ذمہ داران نے اسے شہر منتقل کر دیا۔ عسکری تربیت کے دوران عبیدہ کے ساتھ ’’عبداللہ‘‘ نامی ایک اور غیر ملکی بھی موجود تھا، جو بعد ازاں ایران سے گرفتار کر لیا گیا۔
جب بلوچستان میں داعش کے مراکز ختم کر دیے گئے تو اس کے بعد آنے والے رمضان المبارک میں احمد کازانچی کو خیبر پختونخوا کے اضلاع خیبر اور اورکزئی میں داعش کے ایک کمانڈر ’’صدیقیار‘‘ کے گروپ کے ساتھ دیکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت اس کی جسمانی حالت نہایت خراب تھی اور بیماری کی شدت کے باعث وہ میڈیا کے شعبے میں سونپی گئی اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں ادا نہیں کر پا رہا تھا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ دسمبر میں ترک میڈیا نے محمد گورن نامی ایک ترک شہری کی بلوچستان میں گرفتاری کی خبر بھی دی تھی۔ اس وقت المرصاد نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ جس مرکز میں یحییٰ (محمد گورن) نے تربیت حاصل کی تھی، وہاں بنیادی طور پر غیر ملکی افراد کو اس مقصد کے لیے تربیت دی جاتی تھی کہ وہ یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور ایران میں حملے انجام دے سکیں۔ مزید یہ کہ بعض افراد تربیت مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے آبائی ممالک بھی لوٹ گئے تھے۔
محمد گورن سے قبل، جولائی 2025ء میں ابو یاسر الترکی (ازگور التون) نامی ایک اور معروف ترک داعشی بھی بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستانی فوجی رجیم کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں داعش کے اہم عسکری اور میڈیا ذمہ داران کی مسلسل گرفتاریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خوارج کو وہاں سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول میسر رہا ہے۔ اگر ان عناصر کے خاتمے کے لیے مؤثر اور مشترکہ اقدامات نہ کیے گئے تو وہ انہی ٹھکانوں سے افغانستان، خطے اور پوری دنیا کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔


















































