آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک کی حکومتیں، سیاست دان اور معروف شخصیات اس بارے میں کیا کہتی ہیں۔ وضاحت کی خاطر اس موضوع کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
پہلا: داعش کے بارے میں غیر اسلامی دنیا کی آراء
الف: روس
روس، جو مغرب کا دیرینہ حریف ہے اور جس کا بنیادی کام مغرب کے اہداف اور سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے، داعش کے بارے میں درج ذیل رائے رکھتا ہے:
1- ولادیمیر پوتین:
24 اکتوبر 2014ء کو ایک پریس کانفرنس میں کہا:
"داعش کسی خلا سے وجود میں نہیں آئی، بلکہ یہ مغرب، یعنی مغربی ممالک، کے سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے۔”
اسی طرح روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے 28 ستمبر 2015ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہم جانتے ہیں کہ داعش کو اسلحہ اور مالی وسائل امریکہ اور اس کے اتحادی فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات ہم بھی جانتے ہیں اور سب جانتے ہیں۔”
2- سرگئی لاوروف، روس کے وزیر خارجہ:
26 جنوری 2016ء کو ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا:
"امریکہ نے دانستہ طور پر داعش کے وجود میں آنے کے لیے حالات پیدا کیے اور اسے جان بوجھ کر تشکیل دیا۔”
3- روسی وزارتِ دفاع:
28 ستمبر 2017ء کو جاری ہونے والی وزارتِ دفاع کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا:
"امریکہ کے زیرِ کنٹرول علاقہ مشرقِ وسطیٰ میں داعش کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ ہے، اور داعش کے لیے اس سے بہتر کوئی خفیہ ٹھکانہ موجود نہیں۔”
ب: فیڈل کاسترو، کیوبا کے صدر
16 فروری 2015ء کو کہا:
"داعش امریکہ کی سیاسی کھیل کا حصہ ہے اور امریکی پالیسی کی پیداوار ہے۔”
ج: نکولس مادورو، وینزویلا کے صدر
11 مارچ 2015ء کو ایک خطاب میں کہا:
"داعش جیسی دہشت گردی کو سامراج، یعنی امریکہ، تخلیق کرتا ہے تاکہ جنگ کو جواز فراہم کر سکے اور اپنے مفادات حاصل کرے۔”
د: لولا دا سلوا، برازیل کے صدر
12 ستمبر 2016ء کو ایک بیان میں کہا:
"داعش مغربی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔”
ہ: فرانسیسی سیاسی مفکر ایمانوئل ٹوڈ
11 جنوری 2014ء کو ایک خطاب میں کہا:
"داعش امریکہ کی اسٹریٹیجک غلطیوں کا نتیجہ ہے، جس نے آج پوری دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔”
و: جرمن سیاست دان اولاف شولٹس
انہوں نے اس وقت، جب وہ وزیر تھے، کہا:
"داعش کو عراق کی جنگ نے جنم دیا۔”
ح: ران پال، امریکی کانگریس کے سابق رکن
12 مارچ 2015ء کو کہا:
"داعش امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔”
ط: نوم چومسکی، امریکی فلسفی
"عراق پر قبضے نے داعش کے وجود میں آنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔”
ی: چین
1- شی جن پنگ، چین کے صدر:
23 ستمبر 2014ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس موضوع کی طرف اشارہ کیا کہ داعش امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے۔
2- وانگ یی، چین کے وزیر خارجہ:
15 اگست 2014ء کو چین میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ داعش مغرب کی ایک سازش اور ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
3- وانگ یی، چین کے وزیر خارجہ:
27 ستمبر 2015ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک بار پھر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ داعش امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔



















































