۸- قضا اور فیصلے میں اعتدال
اسلام نے جن اہم شعبوں میں اعتدال اور میانہ روی پر خاص زور دیا ہے، ان میں لوگوں کے درمیان قضا اور فیصلہ بھی شامل ہے۔ بہت سے ظلم، تنازعات اور ناانصافیاں اس وقت جنم لیتی ہیں جب انسان جذبات، نسلی تعصب، ذاتی مفادات یا رشتہ داروں اور دوستوں کے تعلقات کے زیرِ اثر آکر عدل و انصاف کا راستہ چھوڑ دیتا ہے، اللہ کی شریعت کے خلاف فیصلہ کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ناانصافی اور ظلم کی راہ اختیار کر لیتا ہے اور اپنے فیصلوں اور قضا میں عدل اور میانہ روی کو فراموش کر دیتا ہے۔
اسلام نے حکمرانوں، قاضیوں اور فیصلہ کرنے کے ذمہ دار افراد کو پابند کیا ہے کہ وہ قضا اور فیصلے میں حق اور انصاف کو معیار بنائیں، نہ کہ قومیت، مادی مفادات اور ذاتی خواہشات کو، اور ہر قسم کے ناروا تعصب اور جانب داری سے اجتناب کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ [النساء: ۵۸]
"بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔”
مفسرینِ کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت خاص طور پر مسلمانوں کے حکمرانوں اور قاضیوں کو مخاطب کرتی ہے تاکہ وہ لوگوں کے معاملات میں عدل کے ساتھ برتاؤ کریں اور انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔ تاہم یہ ذمہ داری صرف حکمرانوں اور قاضیوں تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے مختلف شعبوں؛ مثلاً خاندان، معاشرہ، ادارے اور دیگر معاملات میں اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کرے اور اپنے فیصلوں میں انصاف کو ترجیح دے۔
اسی طرح قرآنِ کریم مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے معاملے میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى﴾ [الأنعام: ۱۵۲]
"اور جب بات کرو تو انصاف کی بات کرو، اگرچہ معاملہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔”
قضا میں اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ انسان فیصلہ کرنے یا اپنی رائے ظاہر کرنے سے پہلے تمام فریقوں کی بات غور سے سنے، شواہد اور دلائل کا انصاف کے ساتھ جائزہ لے اور جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے بچے۔ کیونکہ بہت سے عجلت میں کیے گئے فیصلے لوگوں کے حقوق ضائع ہونے اور طویل المدت دشمنیوں اور کینوں کے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اصول روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے درمیان انصاف کریں، افسر اپنے ملازمین کے ساتھ عدل کا برتاؤ کرے، استاد اپنے طلبہ کی جانچ اور درجہ بندی میں امتیاز سے بچے، اور ہر وہ شخص جس کے سپرد کوئی ذمہ داری ہو، اسے ہر قسم کے امتیاز، نسلی تعصب، ناروا جانب داری اور ناحق طرزِ عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اسی لیے اسلام نے قضا اور فیصلے کے باب میں بھی اعتدال اور میانہ روی کی وہ راہ اختیار کی ہے جو عدل، حق کی تلاش، انصاف اور تعصب سے دوری پر قائم ہے۔ جب یہ اصول معاشرے میں رائج ہو جاتا ہے تو لوگوں کے درمیان باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور ظلم، تنازعات اور ناانصافی کے اسباب بڑی حد تک ختم ہو جاتے ہیں۔



















































