افغانستان کی پُرآشوب تاریخ میں شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ کا نام صرف ایک عام رہنما کے طور پر نہیں، بلکہ الٰہی ارادے اور مضبوط ایمان کی علامت کے طور پر ثبت ہے۔ وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے بہادری اور سیاست کو یکجا کیا اور دونوں میدانوں میں سرخرو رہے۔
شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ نے ثابت کیا کہ ایک مجاہد نہ صرف جنگ کے مورچوں میں گولیوں کا استقبال کرسکتا ہے بلکہ قیادت کے میدان میں منتشر امت کو بھی متحد کرسکتا ہے۔
کون یقین کرے گا کہ ایک انسان تیرہ گہرے زخم کھانے کے بعد بھی دوبارہ میدانِ جنگ میں لوٹ آئے؟ یہ محض عام بہادری نہیں، بلکہ ایسے ایمان کی روشن تصویر ہے جو جسمانی حدود کی زنجیروں کو توڑ دیتا ہے۔ سنزرے کی جنگ میں شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ صرف ہتھیار کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ شکست عزم کے ساتھ لڑے، ایسا عزم جو راہِ حق پر گہرے ایمان سے پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے زخمی جسم کے ذریعے دوسروں کو یہ پیغام دیا کہ جہاد صرف بیرونی دشمن سے جنگ کا نام نہیں، بلکہ انسان کے اندر موجود خوف اور کمزوری کے خلاف جدوجہد بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتے ہیں:
«وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا» (العنکبوت: 69)
ترجمہ: “اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔”
شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ اس مبارک آیت کی واضح مثالوں میں سے تھے۔
امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امارت اسلامیہ بکھر جائے گی، مگر شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ نے اس نازک مرحلے میں ایسے تدبر، حکمت اور صبر کا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف انتشار کو روکا بلکہ جہاد کو نئی قوت اور نئی سمت ملی۔ انہوں نے اختلافات اور تضادات کو عقل و بصیرت کے ذریعے اتحاد میں بدل دیا اور یہ ثابت کیا کہ حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو سخت ترین حالات میں امت کی کشتی کو نجات کے ساحل تک پہنچائے۔
شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ نے غیر مساوی جنگ کو ایک فن کی شکل دے دی تھی۔ ممکن ہے عسکری تجزیہ نگار ان کے حربی طریقوں کی تشریح کریں، مگر ان کی اصل ذہانت اس بات میں تھی کہ ان کا ہر آپریشن ایک مخصوص پیغام رکھتا تھا۔ قندوز اور ہلمند میں ہونے والے آپریشن محض عسکری حملے نہیں تھے، بلکہ دشمن کو یہ پیغام تھے کہ وہ کبھی مجاہدین کے حوصلے پست نہیں کرسکے گا، اور مجاہدین کے لیے یہ یقین دہانی تھے کہ راستہ درست ہے اور فتح قریب ہے۔
وہ اپنے ہر اقدام سے ایک طرف نیٹو افواج کے دلوں میں خوف پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف اہلِ ایمان کے دلوں میں ولولہ بیدار کرتے تھے۔ یہ صرف جنگ نہیں رہی تھی، بلکہ مزاحمت کا وہ فن بن چکی تھی جو اپنی خالص ترین اور بلند ترین شکل میں سامنے آیا۔
بالآخر امریکی ڈرون طیارے نے اپنا ہدف پالیا اور اس نہ تھکنے والے مجاہد اور ذہین رہنما کو شہید کردیا۔ دشمنوں کا خیال تھا کہ ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ کی شہادت سے جہاد کا راستہ رک جائے گا، مگر وہ اس حقیقت سے غافل تھے کہ شہادت کسی مجاہد کی راہ کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتے ہیں:
«وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» (آل عمران: 169)
شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ نے اپنی شہادت کے ذریعے جہاد کے تصور کو نئی روح بخشی، وہ تصور جو آج بھی ہر مجاہد کے دل میں زندہ ہے اور جسے کوئی طیارہ یا بم ختم نہیں کرسکتا۔
آج جب ہم شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ کے ورثے کو دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی آواز قندھاری لہجے میں اب بھی یہ کہہ رہی ہو:
“میرا ہر زخم روشنی کی طرف ایک کھڑکی تھا اور ہر ظاہری شکست حتمی فتح کی جانب ایک قدم تھی”
آخر میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ یہ تمام قربانیاں اور یہ استقامت کس مقصد کے لیے تھیں؟ شاید اس کا جواب قندھار کے پہاڑوں کی اس گہری خاموشی میں ملتا ہے جہاں آج بھی اس تاریخ ساز شخصیت کی یاد گونجتی ہے اور یہ سرگوشی سنائی دیتی ہے:
“جہاد کی کوئی آخری سانس نہیں ہوتی، یہ روشنی کا راستہ ہے اور روشنی کبھی نہیں مرتی۔”
«إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
ہم اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔


















































