خلافتِ عثمانیہ کے سقوط و زوال کے بعد، دنیا بھر میں بالعموم مسلمانوں کی سرزمینوں پر اسلامی نظاموں، خلافتوں اور امارتوں کے احیا کی امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔ کفر کے دوبارہ غلبے نے دنیا کو ظلم، وحشت اور استحصال کے ایک تاریک دور میں داخل کر دیا۔ مسلمان حکمران اور سلاطین، شریعت کے نفاذ کے بجائے، کفر کے متعارف کردہ نظریات جیسے جمہوریت اور دیگر نظاموں کے پابند ہونے پر مجبور ہو گئے۔ نتیجتاً اسلامی خطوں میں حکمران اور افواج ظلم، بربریت اور لوٹ مار کے آلات بن کر رہ گئے۔
افغانستان بھی اسی ابتری کا شکار تھا۔ اسلحہ برداروں، بدعنوان عناصر اور قابض قوتوں کے کٹھ پتلیوں نے شہروں اور دیہات کی گلیوں کو عوام کے لیے جہنم بنا رکھا تھا۔ معاشرہ سرکشوں اور ظالموں کے قبضے میں تھا، اور ہر شخص جبر کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔
ایسے ہی پُرآشوب وقت میں ایک چھوٹے سے مدرسے سے جو ظاہر میں مٹی اور گارے سے بنا ہوا سادہ مکان تھا مگر باطن میں امت اور معاشرے کے لیے عدل، شفقت اور قوت کا عظیم مرکز تھا؛ اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ ایک تحریک نے جنم لیا۔ اس نے ظلم، وحشت اور قبضے کے خاتمے کے لیے مدارس کے طلبہ وعلماء سے اتحاد و جدوجہد کی صدا بلند کی، تاکہ حالات کا دھارا بدلا جا سکے۔
اس جدوجہد کا آغاز بعض کے نزدیک تمسخر کا باعث تھا، مگر کچھ نے اس کا ساتھ دیا۔ چند برسوں کی مسلسل قربانیوں کے بعد ایک ایسا تغیر رونما ہوا کہ ایک صدی سے قائم وہ سرخ لکیر یعنی شرعی نظام کے قیام کی ناممکنیت ٹوٹ گئی، اور احیا و وقار کی امیدیں پھر سے زندہ ہو گئیں۔ زمین پر شرعی نظام اور اسلامی سیاست کا نفاذ ہوا، جو کفر کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا، اور ایک عظیم طاقت کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسا امن، خوشحالی اور سکون نصیب ہوا کہ اسلام کی عظمت، قوت اور قدر و قیمت لوگوں پر عملاً آشکار ہو گئی۔ زمین پر اسلامی دائرے میں عمری عدل جلوہ گر ہوا۔
تاہم ظالم، مستبد اور قابض قوتوں کی ازلی عداوت اور اسلامی شرعی نظام کو برداشت نہ کرنے کی روش کے باعث، افغانستان ایک بار پھر بیس برس تک زیرِ تسلط رہا۔ یوں ایک مرتبہ پھر عزم، استقامت اور جہاد کی ضرورت پیش آئی، تاکہ سرزمین کو آزاد کرایا جا سکے۔
بیس سالہ جدوجہد کے بعد، عمرِ ثالث رحمہ اللہ کے لشکروں نے اسلامی نظام کے استحکام اور اسلامی سیاست کے سایے تلے کامیابی حاصل کی، الحمدللہ عمرِ ثالث رحمہ اللہ نہ صرف افغان قوم کے لیے امن و خوشحالی کی علامت بنے، بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور وقارِ نو کی ایک صدا اور بیداری کا پیام بھی ثابت ہوئے کہ مسلمان ایسا نظام قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو دین اور انسانیت دونوں کی ضروریات کو پورا کرے۔
امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ ایک صدی کے بعد خلافت، امارت اور اسلامی سیاست کے احیا اور تجدید کا روشن عنوان تھے۔




















































