ایک مرتبہ بی بی سی میں پاکستان کے مسائل پر بحث جاری تھی اور لوگ آزادانہ طور پر اپنی رائے دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے نہایت دلچسپ بات کہی۔ اگرچہ بظاہر وہ بات دلچسپ تھی، مگر درحقیقت نہایت افسوسناک بھی تھی۔ اس نے کہا: پاکستان میں ہر دوسرے تیسرے شخص کو عالمی حالات کا شوق ہے، جہاں بھی دیکھیں، لوگ عالمی سیاست پر گفتگو کرتے اور رائے دیتے نظر آتے ہیں، مگر اپنے ذاتی حالات اور اپنے گھریلو مسائل سے یا تو بے خبر ہیں یا ان سے بے پرواہی حد درجہ کو پہنچ چکی ہے۔
اس نے اپنی بات یہیں ختم کر دی اور اس کے گہرے پہلوؤں کی طرف اشارہ نہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حکومتی مشینری، جس کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہے، اکثر اپنے ذاتی مشاغل اور مراعات میں مصروف رہتی ہے، اور عام لوگوں کو ایسے راستوں پر لگا دیا جاتا ہے کہ ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے۔ اگر ان کے غلط طرزِ عمل کی کہانیاں پوری طرح سامنے آ جائیں تو لوگ شدید ردِعمل ظاہر کریں۔
اسلام کا نام تو لیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر بہت سے ایسے کام کیے جاتے ہیں جو اسلام اور اسلامی احکامات سے ٹکراتی ہیں۔۔ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے کبھی کبھی ایسے موضوعات اٹھائے جاتے ہیں یا ایسی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں کہ عوام اصل حقیقتوں سے دور ہو جائیں۔ نتیجتاً عام لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ گویا کوئی بڑی کامیابی حاصل ہو گئی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک یہ ڈرامہ مسلسل جاری ہے، مگر حالیہ دنوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ اور بھی بڑے اسٹیج پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک میں مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، بجلی ایسی غائب رہتی ہے کہ لوگ اس سے تنگ آ چکے ہیں اور اب اس پر لطیفے اور میمز بنا رہے ہیں، یہاں تک کہ یہ ایک معما بن گیا ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، خوراک کی کمی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔
سیاسی فضا نہ صرف انتشار کا شکار ہے بلکہ اس میں شدت بھی آ گئی ہے، عوام کی رائے اور انتخابی اعتماد کو پامال کیا گیا ہے، دین کو کھیل بنا دیا گیا ہے اور ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں اور مشرقی ثقافت کے ماتھے پر بھی کلنک کا ٹیکہ ہیں۔
سیاست کے معروف چہرے اور عوامی رہنما یا تو جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں، یا ان کی آوازیں بند کر دی گئی ہیں اور انہیں زبردستی خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تجارت اور کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں، مشرق و مغرب کی تمام تجارتی راہیں مسائل کا شکار ہیں، جو پیداوار ہو بھی رہی ہے وہ ضائع ہو رہی ہے اور لوگوں کی محنت بے سود جا رہی ہے۔
بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، ملک کے قرضے روز بروز حیران کن حد تک بڑھ رہے ہیں، تعلیم کا معیار گرتا جا رہا ہے، صحت کے شعبے میں نہ صرف بہتری نہیں آ رہی بلکہ روزانہ شرمناک حالات سامنے آ رہے ہیں۔ چوری اور لوٹ مار کھلے عام جاری ہے، طبقاتی دشمنیاں پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہیں اور نئی شکلیں اختیار کر چکی ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود، ریاستی نظام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم نے عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اگر بیرونی دنیا کی بات کی جائے تو وہاں بھی ایک خاص منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور مذاکرات کے معاملے میں کچھ حلقے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ثالثی اور مذاکرات کا کریڈٹ اپنے نام کیا جائے اور دنیا کو یہ دکھایا جائے کہ گویا انہوں نے ایک بڑی جنگ کو روکنے کی عظیم خدمت انجام دی ہے۔۔
مگر اس بات کی حقیقت اس وقت کھل کر سامنے آئی جب پاکستان کے وزیرِاعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر ایک بیان جاری کیا، اور آہستہ آہستہ یہ واضح ہوا کہ یہ بیان دراصل کہیں اور سے تیار کیا گیا تھا۔ بیان کا متن ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بیرونی ذرائع سے ترتیب دیا گیا ہو، اور اس وقت جب تجارت کے میدان میں پابندیاں موجود تھیں، سیاست کے میدان میں درآمد شدہ بیانیے زور و شور سے پھیلائے جا رہے تھے۔
بعد ازاں جب کسی “جنگ بندی” اور امن کی باتوں کا اعلان کیا گیا تو اسے بڑے شور و غوغا کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتی اعلیٰ حکام یہ کہتے نظر آئے کہ اس معاہدے میں دیگر اتحادی بھی شامل ہیں۔ مگر اس وضاحت کے کچھ ہی عرصے بعد حالات نے رخ بدلا اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے بعض علاقوں پر شدید بمباری کی گئی، جس سے جنگ بندی کے دعوے کی حقیقت پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔
اسی دوران عالمی حالات کے سائے میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ بعض اہم بندرگاہیں اور راستے پابندیوں کے تحت آ گئے ہیں اور دباؤ کی ایک نئی زنجیر بن گئی ہے۔ مذاکرات کے نام پر جو شور مچایا جا رہا تھا، وہ اچانک انتشار کا شکار ہو گیا۔ امریکی سرکاری وفد بغیر کسی نتیجے کے واپس لوٹ گیا اور کوئی واضح کامیابی سامنے نہ آ سکی۔
دوسری جانب ایران کی طرف سے بھی غیر رسمی رپورٹس سامنے آئیں کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کو سنجیدہ خطرات لاحق تھے۔ ان پیچیدہ حالات کو چھپانے کے لیے نئی بیانیہ سازی کی گئی کہ اگلا مرحلہ زیادہ کامیاب ہوگا، اور یہاں تک کہا گیا کہ امریکہ کا صدر خطے کا دورہ کرے گا، مگر یہ سب باتیں ابھی تک یقین اور عملی ثبوت سے دور دکھائی دیتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پروپیگنڈے کو اس انداز میں ہوا دی گئی کہ بہت سے لوگوں کے قدم ڈگمگا گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے حوالے سے ایسا شور اور خوشی کا ماحول بنایا گیا جیسے آسمان سے کوئی خاص رحمت نازل ہونے والی ہو اور پاکستان کی تقدیر ایک لمحے میں بدل جائے گی۔
اس بیانیے کو پھیلانے کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات، صحافی، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، علماء، مشائخ، سوشل میڈیا ورکرز، سب کو براہِ راست یا بالواسطہ ایک ایسے رخ پر ڈال دیا گیا کہ انہوں نے بغیر گہرے غور کے اس نمائشی فضا کو قبول کر لیا۔ ایسا ماحول بنا دیا گیا جیسے ٹرمپ کی آمد پاکستان کو ترقی اور فلاح کے ایک نئے دور میں داخل کر دے گی۔
مگر یہ تمام امیدیں اس وقت چکنا چور ہو گئیں جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ سکیورٹی مسائل کے باعث وہ اپنے نائب کو بھی پاکستان کے دورے پر نہیں بھیجیں گے۔ “سیکیورٹی مسائل” کے پیچھے پیغام واضح تھا کہ یا تو خطہ غیر مستحکم ہے یا اس پر مکمل اعتماد نہیں۔ اس طرح وہ عزت اور امیدیں، جو کچھ حلقوں نے اس دورے سے وابستہ کی تھیں، عالمی سطح پر متاثر ہوئیں اور ملک کی ساکھ مزید کمزور ہوئی۔
دوسری طرف ایران نے بھی اعلان کیا کہ وہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی خارجہ پالیسی کا وہ نازک تاثر مزید بکھر گیا: نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم، نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتائج سے یہ بات مزید واضح ہوگی کہ آیا دونوں فریق کسی مثبت نتیجے تک پہنچتے ہیں یا نہیں، اور یہ کہ یہ بات چیت جاری بھی رہے گی یا نہیں، یہ ایک الگ موضوع ہے۔
مگر سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ عوام، جو علماء کو حق کے ترجمان، صحافیوں کو حق کی آواز، میڈیا کو مظلوموں کی ترجمانی اور سماجی کارکنوں کو انسانیت کا علمبردار سمجھتے تھے، جب انہوں نے ان کی بے بسی اور کمزوری دیکھی تو ان سے امید کی روشنی بھی مدھم پڑ گئی اور مایوسی کا سایہ چھا گیا۔
اور یہ مایوسی بے وجہ بھی نہیں۔ وہی لوگ جو عرصہ دراز سے یہ کہتے آئے تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین کے مسئلے کو غلط سمت میں لے جا رہا ہے، اور یہ کہ اس نے عالمِ عرب میں اسلام کے اثر کو کم کرنے کا خفیہ منصوبہ بنایا ہے، اور وہی ٹرمپ غزہ کے مظلوموں کے خون کا اصل ذمہ دار ہے۔
آج جب پالیسی کا رخ بدلا اور سرکاری مؤقف کی ایک نئی لہر اٹھی تو وہی لوگ یکدم اپنے سابقہ مؤقف سے مکمل طور پر پلٹ گئے، جیسے ایک سو اسی درجے کا یوٹرن لے لیا ہو۔ انہوں نے اپنی سابقہ باتوں سے منہ موڑ لیا اور قوم و دین کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا دی۔ جہاں ضرورت تھی کہ عوام کے حقیقی مسائل کو جرات کے ساتھ پیش کیا جاتا اور حکمرانوں کی غلطیوں کو اصلاح طلب انداز میں واضح کیا جاتا، وہاں انہوں نے اصل مسائل کی بجائے ایسے بیانیے پھیلانے شروع کر دیے جن کا حقیقت سے کم ہی تعلق تھا۔
اور سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے بیانیے کو فروغ دیا گیا جس نے عوام کی توجہ ان کے اصل مسائل سے ہٹا دی، حالانکہ یہ تمام بیانیے نہ صرف سابقہ موقف کے خلاف ہیں بلکہ عوام کی امیدوں اور یقین کے ساتھ بھی کھلا تضاد رکھتے ہیں۔




















































