اللہ جل جلالہ نے قرآنِ کریم میں تین گروہوں سے عہد لینے کا ذکر کیا ہے۔ ایک عہد تمام انسانوں سے لیا گیا ہے، یہ عہد قرآنِ کریم کی (سورۃ الاعراف، آیت 172) میں بیان ہوا ہے۔ دوسرا عہد انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا کہ وہ اللہ جل جلالہ کے دین کو مخلوق تک پہنچائیں گے؛ یہ عہد (سورۃ الاحزاب، آیت 7) میں مذکور ہے۔
ایک اور عہد اللہ جل جلالہ نے علمائے کرام سے بھی لیا ہے، جو قرآنِ کریم کی سورۃ آلِ عمران (آیت 187) میں آیا ہے۔ اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں:
وَإِذْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ وَٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
ترجمہ: اور ان اہلِ کتاب کو وہ پختہ عہد یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تم کتاب کی ہدایات کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے۔ مگر انہوں نے اسے پسِ پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ پس یہ نہایت ہی برا سودا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اب اگر پاکستانی فوجی رجیم کے حمایتی ملاؤں کو دیکھا جائے تو ان میں اور یہود و نصاریٰ کے علماء میں کیا فرق رہ گیا ہے؟
وہ بھی اللہ جل جلالہ کی کتاب کے بجائے اپنی خواہشات کی بنیاد پر لوگوں کو دعوت دیتے تھے ان کی خواہشات ان کی شہوتوںسے نکلی تھیں اور ان شہوتوں کا منبع شیطان تھا۔۔
یہ درباری ملّا بھی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے فوجی رجیم کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ بھی مسلمانوں (حماس کے مجاہدین) کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی نام نہاد اسلامی فوج کی پشت پناہی کرتے ہیں، یہ بھی یہود و نصاریٰ سے دوستی کے خواہاں جرنیلوں کی تعریف کرتے اور انہیں القابات دیتے ہیں، یہ بھی شعائرِ اللہ کے تحفظ کے نام پر ایک ظالم و جابر فوج (جس کے ہاتھ اپنی تاریخ میں امتِ مسلمہ کے خون سے رنگے ہوئے ہیں) کے لیے حمایت اور دعوت دیتے ہیں، یہ بھی اس پاکیزہ نظام (امارت اسلامیہ افغانستان) کے خلاف کھڑے ہیں، جس کے فیصلے اور احکام اللہ کے کلام اور رسول اللہ ﷺکی سنت پر مبنی ہیں۔
تو یہ درباری ملّا اللہ جل جلالہ کے ان مذکورہ عہدوں میں سے کس عہد کے پابند ہیں؟ نہ تو انہوں نے انسانیت کا عہد پورا کیا اور نہ علم کا حق ادا کیا۔ اور اللہ جل جلالہ نے اپنے بے شک و شبہ کلام میں سورۃ المائدہ (آیات 44، 45 اور 47) میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں اور وہی کافر ہیں۔
پس پاکستانی ظالم فوجی رجیم کے حامی ملاؤں کو چاہیے کہ وہ اللہ جل جلالہ کے کلام کی طرف گہرائی سے رجوع کریں، اور اگر سمجھ رکھتے ہیں تو اللہ کے احکام کو حقیقی معنوں میں واضح اور بیان کریں۔
ورنہ پاکستان کے عام مسلمانوں اور اہلِ حق علماء سے، امت کے ایک بڑے حصے کی حیثیت سے، یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اللہ جل جلالہ اور اس کی مخلوق کے سب سے خطرناک فاسق دشمنوں کے مقابلے میں اللہ کا حقیقی پرچم بلند کریں اور پاکستان کے مظلوم عوام پر سے ظلم و فسق کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے کر دیں۔




















































