صدیوں پہلے اللہ جل جلالہ نے قرآنِ کریم میں اس ظالم قوم کی اصل حقیقت بیان فرما دی تھی۔ بےشمار عہد و پیمان توڑنا، اللہ جل جلالہ کے پیغمبروں کی واضح معجزات کا انکار کرنا، بلکہ انہی ظالموں کے ہاتھوں اللہ کے انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا جانا، وہ حقائق ہیں جن پر ان کے ظلم و وحشت کی پوری تاریخ گواہ ہے۔
ظالم، وحشی اور انسانیت دشمن ناجائز اسرائیلی رجیم نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی بچوں، عورتوں، بزرگوں اور بے گناہ نوجوانوں کو شہید کرکے اپنا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ “اسرائیل” ایک ایسا نام بن چکا ہے جو دنیا بھر میں ظلم، وحشت، دہشت گردی، نفرت اور بدترین جرائم و اخلاقی پستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پوری تاریخ میں کوئی ایسی حقیقی فتح یا قابلِ فخر کارنامہ موجود نہیں جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اگرچہ ایڈولف ہٹلر نے اپنی ایک مشہور تقریر میں کہا تھا:
“ان اسرائیلیوں کو ختم کر دو، اگر تم نے انہیں مٹا دیا تو سمجھو انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کر دیا۔”
لیکن افسوس کہ اس سلطان کی یہ بڑی خواہش ادھوری رہ گئی۔ تاہم ہٹلر کے اسی بیان کی روشنی میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل انسانیت کے ساتھ کتنی بڑی دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
اسرائیل کی کم ہمتی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ حماس کے مجاہدین نے ان کے آر پی جی راکٹوں کا رخ انہی کی طرف موڑ دیا ہے۔ کھلے میدان میں بھی بزدل اسرائیلی راستہ کھو بیٹھے ہیں، حالانکہ ان ک پاس عصرِ حاضر کے سب سے طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔ مگر حماس کے مجاہدین ایسی جرأت اور استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں کہ ان میں بڑے اور چھوٹے، ذمہ دار اور عام فرد کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ عزالدین حداد (تقبلہ اللہ) کی شہادت اس کی روشن مثال ہے۔ یہ اسی پاکیزہ لشکر کے جانباز ہیں جو موت اور شہادت کو محبت سے گلے لگاتے ہیں۔
لیکن اگر اسرائیل واقعی خود کو حق پر سمجھتا ہے، تو پھر اسے اللہ جل جلالہ کے اس چیلنج کو قبول کرنا چاہیے، جہاں فرمایا گیا ہے:
قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
[سورۃ الجمعہ: 6]
“ان سے کہو: اے یہودیو! اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر صرف تم ہی اللہ کے محبوب ہو، تو پھر موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔”
اور اگلی آیت میں فرمایا:
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
[سورۃ الجمعہ: 7]
“لیکن وہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، اس وجہ سے کہ ان کے ہاتھوں نے جو کچھ آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے۔”
لہٰذا اہلِ دنیا کو جان لینا چاہیے کہ روئے زمین پر ذلت و رسوائی کے مستحق، ظلم و جبر کے پیکر، بےگناہ انسانوں کے خون کے ذمہ دار، اور دنیا میں بدامنی پھیلانے والے یہی وہ لوگ ہیں جو ظلم کی جیتی جاگتی تصویر بن چکے ہیں۔


















































