خطے میں پاکستانی فوجی رجیم کی پالیسیوں کے سب سے خطرناک اور بیک وقت سب سے پوشیدہ پہلوؤں میں سے ایک، پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان قومی دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس پالیسی کو شر و فساد کے گروہوں، بالخصوص سابقہ اربکیوں، کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ بظاہر اسے مرکزی حکومت کے مخالفین کو قابو کرنے کے نام پر جواز فراہم کیا جا رہاا ہے؛ لیکن حقیقت میں یہ اس مزاحمت کو کمزور کرنے کا ایک منصوبہ ہے جو اس رجیم کے ساختی ظلم اور امتیازی پالیسیوں کے خلاف کھڑی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم اچھی طرح آگاہ ہے کہ اگر پشتون اور بلوچ مرکزی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف متحد ہو جائیں تو اس ملک کا استحکام سنگین خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ رجیم کئی دہائیوں سے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے اور اپنے کٹھ پتلی گروہوں کے ذریعے ان دو بڑی قوموں کے درمیان مصنوعی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ محروم علاقوں کے بنیادی مسائل کو قومی تنازعات کے نام پر چھپایا جا سکے اور اپنے ساختی ظلم اور امتیازی پالیسیوں کی ذمہ داری سے دامن بچایا جا سکے۔
پشتون اور بلوچ، جو خطے کی دو بڑی اور قدیم قومیں ہیں، تاریخ کے دوران نہ صرف ایک دوسرے کے دشمن نہیں رہے، بلکہ تاریخ کے بہت سے ادوار میں قدرتی اتحادیوں کے طور پر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ قبائل کے درمیان شادیاں، اقتصادی لین دین اور مشترکہ لسانی و ثقافتی اقدار نے دونوں قوموں کے تعلقات کو اس قدر مضبوط کیا ہے کہ ان کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی ہر کوشش خطے کی تاریخی اور سماجی حقیقتوں سے واضح تصادم رکھتی ہے۔
پشتونوں اور بلوچوں کی موجودہ ناراضی اور بے اطمینانی پاکستان کی مرکزی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ قومی اختلافات کا۔ اقتصادی حقوق سے محرومی، پسماندہ علاقوں میں بنیادی منصوبوں کا فقدان، سیاسی آزادیوں کو دبانا، اہم فیصلوں سے مقامی رہنماؤں اور اشرافیہ کو الگ رکھنا اور بلوچستان کی گیس و تیل، نیز پشتون علاقوں کے پانی اور دیگر قدرتی وسائل کا یک طرفہ استحصال وہ عوامل ہیں جنہوں نے دونوں قوموں کے درمیان پاکستانی فوجی رجیم کے خلاف عوام کے غصے اور ناراضی کو جنم دیا ہے۔
یہ ناراضی ظلم کے خلاف ایک فطری اور جائز ردِعمل ہے اور اسے کبھی قومی جنگ کے طور پر تعبیر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کیا جائے گا؛ سوائے اس کے کہ دشمن اختلافات کو ہوا دے کر اس تاریخی حقیقت کو مسخ کریں۔ پاکستانی فوجی رجیم شر و فساد کے گروہوں، بالخصوص ان سابقہ اربکیوں کے ذریعے، جن کا اپنے ہی لوگوں کے خلاف جرائم کا ایک طویل ریکارڈ ہے، قومی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پالیسی پر عمل درآمد کا طریقہ یہ ہے کہ بلوچ آبادی والے علاقوں میں ان گروہوں سے وابستہ افراد بدامنی، چوری، اغوا اور تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستانی فوج کی مداخلت کے لیے ماحول فراہم کرے۔ اس کے بعد فوج اسی مداخلت کو دہشت گردوں کو کچلنے اور علاقے کو پاک کرنے کے بہانے عوام اور دنیا کے سامنے پیش کرے، حالانکہ دہشت گرد قرار دیے جانے والے بہت سے افراد یا تو انہی کٹھ پتلی گروہوں کے ارکان ہوں گے یا پھر وہ بے گناہ افراد جن پر ناحق الزام عائد کیا گیا ہو گا۔
پشتون علاقوں میں بھی یہی گروہ فوجی چوکیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملے کریں گ اور یوں فوج کو پشتونوں کے خلاف وسیع فوجی کارروائیاں کرنے کا بہانہ فراہم کریں گے۔ ذرائع ابلاغ اور سیاسی سطح پر بھی پاکستان وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کے ذریعے ان بدامنیوں کو قومی تنازعات کے طور پر پیش کرتا ہے اور یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا پشتون اور بلوچ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور مرکزی حکومت ہی ان کے درمیان امن کی واحد ضامن ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد مرکزی حکومت کے ساختی ظلم سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ اگر بلوچستان اور پشتون علاقوں کے مسائل کو قومی تنازعات کے نام سے متعارف کرایا جائے تو پھر کوئی مرکزی حکومت سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ یہی علاقے پاکستان کے سب سے محروم علاقے کیوں ہیں، ان کے قدرتی وسائل پنجاب اور سندھ کے مفاد میں کیوں لوٹے جا رہے ہیں اور فوج ترقی اور آبادکاری کے بجائے صرف فوجی جبر کو ترجیح کیوں دیتی ہے۔
لیکن یہ خطرناک کھیل نہ صرف پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکتا، بلکہ بدامنی کا دائرہ پورے خطے تک پھیلاتا ہے اور خود پاکستان کو بھی سنگین چیلنجز سے دوچار کرتا ہے۔ قومی تنازعات کے تصور کو پھیلانا خطے کے لوگوں کی تاریخی یادداشت کو نظرانداز کرتا ہے، کیونکہ پشتون اور بلوچ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا اصل دشمن کون ہے اور ان کٹھ پتلی گروہوں کی جانب سے کیا جانے والا ہر قسم کا تشدد پاکستان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ قومی اختلافات کا ثمر۔
اسی طرح، یہ پالیسی تشدد کے سلسلے کو مزید مضبوط کرتی ہے اور گروہوں میں یہ ذہنیت پیدا کرتی ہے کہ طاقت اور تشدد ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔ جو گروہ آج پشتونوں اور بلوچوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، ممکن ہے کل پاکستان کے اندرونی تنازعات کو بھی ہوا دیں۔ پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان قومی اختلاف کی دعویٰ، پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے اپنے ساختی ظلم کو جواز فراہم کرنے کے لیے گھڑا گیا ایک بڑا سیاسی جھوٹا دعویٰ ہے۔ پشتون اور بلوچ دونوں ایک ہی امتیازی پالیسی کے شکار ہیں اور ان کا اصل مسئلہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں، بلکہ پاکستان کی مرکزی حکومت اور اس کی جابرانہ پالیسیوں کے ساتھ ہے۔
امارت اسلامیہ نے اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے ہمیشہ قوموں کے اتحاد اور خطے کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا ہے اور کبھی اجازت نہیں دے گی کہ دشمنوں کی سازشیں قوموں کے درمیان تاریخی اور مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچائیں۔ عوام کی بیداری، قوموں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ایسی مذموم سازشوں کو ناکام بنانے کا سب سے مؤثر اور بنیادی راستہ ہے۔




















































