ہر ملک کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کی تشکیل میں فکری ادارے یا تھنک ٹینکس اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
جب بات افغانستان کی ہو تو مغربی تھنک ٹینکس کا بیانیہ نہ صرف عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے بلکہ پابندیوں، سفارتی تنہائی اور امداد کی ترسیل جیسے اہم فیصلوں کی بنیاد بھی بنتا ہے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں روایتی سکیورٹی کے موضوعات اور دہشت گردی کے خطرات کے علاوہ، ان اداروں کے تجزیاتی طریقۂ کار، زمینی حقائق کو تسلیم کرنے میں ان کی ہچکچاہٹ، اور ان کی پالیسی سفارشات کے نقصان دہ نتائج کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اگر مغربی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلا اور سب سے بڑا تضاد ان کے تحقیقی طریقۂ کار اور معلومات کے حصول کے ذرائع میں نمایاں ہوتا ہے۔
جب سے کابل میں سیاسی تبدیلی آئی ہے اور مغربی سفارت کار افغانستان سے نکل گئے ہیں، ان مغربی تھنک ٹینکس کے لیے زمینی سطح سے براہِ راست معلومات اکٹھی کرنے کے ذرائع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ مغربی محققین اور اداروں نے اس "اطلاعاتی خلا” (Information Black Hole) کو پُر کرنے کے لیے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جو یک طرفہ اور تعصب پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
وہ اپنی زیادہ تر رپورٹس جلا وطن افغان رہنماؤں، سابق جمہوری نظام کے اہلکاروں، یا ان افغان مہاجرین کے بیانات کی بنیاد پر تیار کرتے ہیں جن کے سیاسی مفادات اب موجودہ نظام کے خاتمے سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ، سیٹلائٹ تصاویر (Satellite Imagery) اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ (Social Media Monitoring) جیسے دور سے معلومات حاصل کرنے والے تکنیکی ذرائع پر حد سے زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ تکنیکی ذرائع کسی حد تک معلومات فراہم کر سکتے ہیں، لیکن کسی معاشرے کی گہری حقیقتوں، عوامی نفسیات اور روزمرہ انتظامی لچک کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ بین الاقوامی صحافتی معیارات کا تقاضا ہے کہ تحقیق میں تمام فریقوں کے مؤقف کو شامل کیا جائے، مگر مغربی بیانیے میں کابل کی موجودہ حکومت اور افغانستان کے عام لوگوں کی حقیقی آواز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس طرح یہ رپورٹس ایک علمی اور غیر جانب دار تجزیے کے بجائے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں، جس کا مقصد مغربی حکومتوں کے ان سخت فیصلوں کو، جو زمینی حقائق سے دور ہیں، اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔ مغربی مفکرین کا دوسرا بڑا علمی تضاد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ افغانستان کے پیچیدہ معاشرے کو لبرل مغربی طرزِ حکمرانی اور جدید جمہوریت کے معیارات کی بنیاد پر جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جس کا داخلی ڈھانچہ صدیوں پرانے قبائلی نظام، روایتی جرگوں اور گہرے دینی اصولوں پر استوار ہے۔
مغربی ماڈل کو زبردستی نافذ کرنے کی بیس سالہ کوشش کی ناکامی کے باوجود بھی ان تھنک ٹینکس کے بیانیے پر آج بھی وہی پرانی سوچ غالب ہے۔ وہ کابل کے موجودہ نظام کو صرف ایک "آمرانہ یا قدامت پسند” نظام کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں کہ اس نظام کی اپنی سماجی جڑیں ہیں۔ اس نظریاتی نقطۂ نظر کا نقصان یہ ہے کہ عملی میدان میں رونما ہونے والی مثبت اور تعمیری تبدیلیاں ان کی رپورٹس میں جگہ نہیں پاتیں۔
مثال کے طور پر، کئی دہائیوں کی خانہ جنگیوں کے بعد ملک میں ایک مضبوط مرکزی کنٹرول قائم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں داخلی سکیورٹی، سفر اور تجارت کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوئی ہے۔ اسی طرح سابق حکومت کی وہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی کرپشن، جو بین الاقوامی امداد کو ہڑپ کر جاتی تھی، ختم ہو چکی ہے۔
پوست اور منشیات کی کاشت پر پابندی، جس کے نفاذ کا عالمی برادری برسوں سے مطالبہ کرتی آ رہی تھی، موجودہ حکومت نے غیر معمولی مختصر مدت میں نافذ کر دی، اور اقوام متحدہ نے بھی اپنی رپورٹس میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن مغربی تھنک ٹینکس ان عینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی پوری توجہ صرف ان موضوعات پر مرکوز رکھتے ہیں جو ان کے منفی بیانیے کو تقویت دیتے ہوں، اور اسی وجہ سے ایک گہرا تجزیاتی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
ان تھنک ٹینکس کا بیانیہ صرف علمی اور فکری مباحث تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست واشنگٹن، لندن اور برسلز کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
جب یہ ادارے مسلسل افغانستان کو ایک تاریک ملک، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرکز اور ایک "ناکام ریاستی ادارے” کے طور پر پیش کرتے ہیں تو مغربی پالیسی سازوں کو یہ سیاسی جواز مل جاتا ہے کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد رکھے جائیں اور سخت اقتصادی پابندیوں کو بدستور جاری رکھا جائے۔
ان رپورٹس کی سفارشات کا محور کبھی بھی تعمیری روابط (Constructive Engagement) یا سفارتی راستوں کی تلاش نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ مزید تنہائی اور دباؤ بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔
اس سخت گیر بیانیے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان پابندیوں اور اقتصادی تنہائی کی سزا افغانستان کے انہی عام اور غریب لوگوں کو بھگتنا پڑتی ہے، جن کے نام اور مفادات کا سہارا لے کر یہی تھنک ٹینکس افغان حکومت کی مخالفت کرتے ہیں۔ مغربی تھنک ٹینکس انسانی حقوق کی بہت بات کرتے ہیں، مگر ان کی تجویز کردہ پالیسیوں کے نتائج کے باعث لاکھوں افغانوں کے بنیادی معاشی اور زندگی سے متعلق حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ان اداروں کا اصل مقصد افغان عوام کی بھلائی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ ہے۔
اسی لیے افغانستان کے بارے میں مغربی تھنک ٹینکس کا موجودہ بیانیہ زمینی حقائق سے دور، نظریاتی تعصبات سے بھرپور اور عام لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے کے ممالک، جیسے چین، روس اور ہمسایہ ریاستیں، معیشت، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں افغان انتظامیہ کے ساتھ حقیقت پسندانہ اور عملی تعلقات قائم کر رہی ہیں، مغرب اب بھی اپنے پرانے اور یک طرفہ بیانیے پر اصرار کر رہا ہے۔
اگر عالمی برادری واقعی افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور افغان عوام کی خوش حالی کی خواہاں ہے تو اسے مغربی تھنک ٹینکس کے اس محدود اور تعصب سے بھرپور نقطۂ نظر سے باہر نکلنا ہوگا، زمینی حقائق کا کھلے دل سے اعتراف کرنا ہوگا، اور محاذ آرائی کے بجائے تعمیری مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔




















































