چونکہ داعش امریکا کا منصوبہ ہے، تو اسے کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا؟
داعش امریکہ کا منصوبہ ہے اور اس کے نافذ کرنے والے بعثی جرنیل اور خوارج ہیں۔ اسے درج ذیل مقاصد کے لیے تیار کیا گیا:
۱- مغربیوں کے اس دعوے کو مضبوط اور ثابت کرنے کے لیے کہ خلافت، اسلامی نظام، استبداد اور جبر ہے اور موجودہ دور میں قابلِ نفاذ نہیں ہیں، نعوذ باللہ۔
۲- جہاد کو دہشت گردی، بے گناہ لوگوں کے قتل، خوف و دہشت اور ظلم کے طور پر پیش کرنا، نعوذ باللہ۔
۳- اسلامی فکر کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کے درمیان اسے ناپسندیدہ بنانا۔
۴- مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اسلام کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام۔
۵- ان تمام اسلامی تحریکوں کو کچلنا اور کمزور کرنا جن سے مغرب اپنے مستقبل کو خطرے میں محسوس کرتا ہے۔
۶- ان تمام نو مسلموں کو، جو جہادی فکر رکھتے تھے، مغرب میں موجود تھے اور جن کی تعداد دسیوں ہزاروں تک پہنچ چکی تھی، آسانی سے مغرب سے نکالنا اور داعش کے جال میں پھنسانا۔
۷- استشہاد کو، جو اسلام پسندوں کا وہ واحد ذریعہ تھا جس کے سامنے مغرب بے بس تھا، بدنام کرنا۔
۹- عمومی طور پر اسلام اور اسلام کے اہم رکن جہاد کو بدنام کرنا، مسلمانوں کی فکر میں شکوک پیدا کرنا اور مسلم نوجوانوں کی فکری تحریف کرنا۔
۱۰- مغربی فکر اور مغرب کی حیثیت و جواز کو بڑھانا، اور جمہوریت و سرمایہ داری کو دنیا کے لیے اہم بنانا۔
یہ مقاصد اس مرتبہ مستشرقین اور مغرب کے معروف سیکولر کٹھ پتلیوں کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے، بلکہ اس بار مغربی جاسوس پردے کے پیچھے تھے، خوارج ان کے ساتھ شامل تھے اور وہ نادان اور سادہ مسلم نوجوانوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مغرب کے لیے یہ سب سے کامیاب منصوبہ اس لیے ہے کہ دشمن کے نام، فکر اور مقصد کو استعمال کرکے اپنے مقصد تک پہنچتا ہے۔
یہ کہ داعش خوارج تھے، میں اس پر بات نہیں کرتا، کیونکہ اس موضوع پر مکمل کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ دنیا میں ایسا کوئی عالم نہیں جس نے ان کے خارجی ہونے کا فتویٰ نہ دیا ہو۔ میرا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ خوارج ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا ایک خفیہ منصوبہ بھی تھے، جس کے مقاصد میں نے اوپر ذکر کیے ہیں۔ تاریخ میں خوارج نے اسلام کو کتنا نقصان پہنچایا، اس پر بھی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ لہٰذا اگر ہم یہ سوچیں کہ خوارج بذاتِ خود اسلام کے لیے نقصان ہیں، تو اگر یہی خوارج کفار کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے استعمال میں آ جائیں، تو ان کا نقصان کئی گنا بڑھ جائے گا۔
داعش کے قیام کے لیے ماحول سازی
داعش کے قیام کا اہم مرکز بوکا جیل تھا، جو سی آئی اے کا ایک اہم انٹیلی جنس مرکز تھا۔
داعش کے وہ رہنما جنہیں بوکا جیل لے جایا گیا:
۱- ابوبکر بغدادی
۲- بعثی حاجی بکر
۳- ابو مسلم الترکمانی
۴- ابو علی الانباری
۵- ابو احمد العلوانی
یہ لوگ داعش کا بنیادی مرکز تھے۔ سب کو بوکا جیل لے جایا گیا تھا۔ بوکا جیل عراق کے جنوب میں، بصرہ شہر سے ۷۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آئیے اس موضوع پر کچھ غور کرتے ہیں۔
عراق کی مرکزی جیلیں، ابوغریب اور ایک دوسری مشہور جیل کیمپ کراپر بھی بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب واقع تھیں۔ تقریباً تمام سیاسی مخالفین اور اعلیٰ سطح کے رہنما انہی جیلوں میں رہتے تھے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ داعش کے تمام رہنماؤں کو پھر ایک صوبائی جیل یعنی بوکا جیل منتقل کیا گیا اور وہیں رکھا گیا۔ اس جیل کے بارے میں، سی آئی اے کے علاوہ، اس وقت کسی اور کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
سب سے عجیب بات یہ ہے کہ وکی لیکس کی جانب سے ہیک کیے گئے چار لاکھ پینٹاگون دستاویزات، جو جاری کیے گئے، ان میں ایک رپورٹ جو پینٹاگون کو دی گئی تھی، ذکر تھا کہ داعش کے ارکان کے درمیان مضبوط بیعتیں بوکا جیل میں جاری تھیں۔ ایک دوسری رپورٹ، جو پینٹاگون کو دی گئی تھی، اس میں لکھا تھا کہ بعثی افسران اور جہادی رہنما اب منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔
سی آئی اے کی ایک اور خفیہ دستاویز، جو ۲۰۱۲ء میں افشا ہوئی، اس میں ذکر تھا کہ شام اور عراق میں ایک انتہا پسند ریاست کا قیام مغرب کی جانب سے مشرق وسطیٰ پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہوگا۔ اسی دستاویز میں کہا گیا تھا کہ شام اور عراق میں ایک انتہا پسند سلفی امارت ایران اور بشارالاسد کے خلاف مفید ثابت ہوگی۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امریکی فوج کی وہ رپورٹس جو وکی لیکس کے ذریعے Iraq War Logs کے نام سے ۲۰۱۰ء میں افشا ہوئیں، اور سی آئی اے کی رپورٹ بھی ۲۰۱۲ء میں سامنے آئی، لیکن داعش کا ظہور ۲۰۱۴ء میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے منصوبے کے لیے ماحول سازی ۲۰۱۰ء سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔
اگر بغدادی کے بارے میں مختصر بات کریں تو وہ یوں ہوگی:
بغدادی ایک معمولی امام تھا۔ امریکہ نے اسے دشمن کے نام پر جیل میں ڈالا، پھر بے گناہ کے نام پر رہا کر دیا، اور ۲۰۱۴ء میں اسے عالمی دہشت گرد اور دنیا کا خطرناک ترین شخص قرار دے دیا۔ یہ تمام چیزیں حقیقی طور پر چند سالوں کے اندر ممکن نہیں ہو سکتیں۔



















































