دو رات قبل ایک بار پھر پکتیکا، پکتیا اور کنڑ کے صوبوں کی فضائیں پاکستانی فوجی رjیم کے جنگی طیاروں کی بمباری اور حملوں سے گونج اٹھیں۔ گزشتہ رات کے نشانے پر نہ کوئی فوجی تھا اور نہ ہی میدانِ جنگ میں موجود کوئی جنگجو۔ وہ تو ایسے کسان تھے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے رزق کمانے کی غرض سے کھیتوں میں گئے تھے اور رات کو آرام کی خاطر اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ پاکستانی مجرمانہ رجیم ان کی نیند اور سکون چھین لے گی اور ان کے گھروں کو قبروں میں بدل دے گی۔
ان شہداء میں وہ معصوم بچے بھی شامل تھے جنہوں نے ابھی زندگی کی خوشیاں بھی نہ دیکھی تھیں، وہ مائیں بھی تھیں جن کی اپنے بچوں کے لیے امن و سکون اور خوش حالی کے سوا کوئی آرزو نہ تھی، اور وہ کسان بھی تھے جن کے محنت سے پھٹے ہوئے ہاتھ ہی ان کی روزی کا واحد ذریعہ تھے۔ مگر پاکستانی رجیم کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں، کیونکہ اس کی درندہ صفت سوچ میں افغانستان کی سرزمین پر سانس لینے والا ہر انسان ان کی چھپی ہوئی اور برسوں سے جمع نفرتوں اور کینوں کا نشانہ سمجھا جاتا ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستانی رجیم ہمیشہ بے دفاع لوگوں ہی کو کیوں نشانہ بناتی ہے؟ فوجی اہداف کے بجائے بچوں اور کسانوں پر حملے کیوں کیے جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف ایک لفظ میں پوشیدہ ہے: احساسِ محرومی اور انتقامی ذہنیت۔ امارت اسلامیہ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ رجیم افغانستان میں ہر قسم کے اثر و رسوخ اور سرگرمی سے محروم ہو چکی ہے۔ اس کے ہاتھ اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنے سے قاصر ہو گئے ہیں اور اب وہ اس سرزمین پر اپنا سابقہ کردار ادا نہیں کر سکتی۔
اسی ناکامی اور ذلت نے اسے انتہائی وحشیانہ اقدامات پر آمادہ کر دیا ہے۔ وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اب بھی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، بے گناہ شہریوں کے قتل کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ جرائم دراصل ایک زخمی اور شکست خوردہ رجیم کی بے بسی کی چیخیں ہیں، جو معصوم انسانوں کا خون بہا کر اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آج پاکستانی فوجی رجیم بالکل اس زخمی سانپ کی مانند ہے جو حقیقی مقابلے کی ہمت نہیں رکھتا اور اپنی تکلیف اور بے بسی کے باعث راستے میں آنے والے ہر شخص پر اپنا زہر اگلتا ہے، خواہ وہ معصوم بچے ہوں یا بے بس کسان۔ یہ طرزِ عمل طاقت کی نہیں بلکہ کمزوری اور بے بسی کی علامت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ افغانستان کے عوام کے آہنی عزم کے سامنے ٹھہرنے کی طاقت ان میں نہیں، اس لیے وہ شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خود کو طاقتور ظاہر کرنے اور اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ ان کی آخری سانسیں ہیں؛ ایسی سانسیں جو ہر نئے جرم کے ساتھ مزید مختصر ہوتی جا رہی ہیں اور اس رجیم کو تباہی کے گڑھے کے مزید قریب لے جا رہی ہیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظلم اور جرم کبھی ہمیشہ باقی نہیں رہے۔ جس ظالم نے بھی اپنے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے، اس کا انجام رسوائی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اگر پاکستانی رجیم ذرا بھی عقل و تدبر سے کام لے تو اسے سمجھ آ جائے کہ یہ جرائم بالآخر اسی کے دامن کو پکڑیں گے اور اس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ﴾
"اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے۔”
یہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ ہے جو مظلوموں کے لیے اطمینان اور ظالموں کے لیے سخت وعید ہے۔
آخر میں، افغانستان کا عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستانی رجیم کے ہر جرم کے پیچھے گہرا احساسِ محرومی اور شدید بے بسی کارفرما ہے، اور یہی ادراک انہیں مزید ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن رکھے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ زخمی سانپ خواہ جتنا بھی زہر اگل لے، آخرکار اپنے ہی زہر اور اپنی تھکن سے ہلاک ہو جائے گا۔ گزشتہ رات کے شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، اور یہ جرائم تاریخ کے صفحات پر اس رجیم کے سیاہ کرتوتوں کے آخری اوراق ثابت ہوں گے۔ تاریخ اسے ایک بدترین ہمسائے اور وحشت کے وارث کے طور پر یاد رکھے گی۔



















































