کسی بھی ملک کی خودمختاری پر جب کوئی بیرونی طاقت حملہ کرتی ہے تو ضروری نہیں کہ سرحدوں پر ٹینک چڑھ رہے ہوں یا فضاؤں میں جنگی طیارے گرج رہے ہوں۔ اکیسویں صدی کی جیو پولیٹکس میں سب سے خطرناک جنگیں وہ ہیں، جو بغیر کسی گولی کے صرف معاہدوں کے کاغذات، قرضوں کی دستاویزات اور محروم طبقوں کے نفسیاتی خلا کو استعمال کر کے لڑی جاتی ہیں۔
جب کوئی نظام اندرونی طور پر کمزور ہوتا ہے تو بیرونی عناصر اس میں ایک دیمک کی طرح داخل ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کی شَہ رگ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیتے ہیں۔ اس خاموش نفوذ (Infiltration) کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کو ایک لڑی میں پرو کر دیکھنا ہوگا۔
پہلے پہل ہم معاشی شہ رگ پر گرفت اور ‘قرض کی سفارت کاری’ کے حصے کا جائزہ لیتے ہیں۔
جب ہم کسی نظام میں جاسوسانہ بیرونی اثر و رسوخ کی سب سے واضح علامت تلاش کرتے ہیں تو وہ معیشت کے راستے سے آتی ہے۔ بین الاقوامی مالیات کی دنیا میں اسے ‘ڈیٹ ٹریپ ڈپلومیسی’ یا قرض کی سفارت کاری کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی طاقت ور ملک کسی کمزور یا ترقی پذیر ملک کو بڑے بڑے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے فراہم کرتا ہے۔
آغاز میں یہ منصوبے ترقی کا خواب دکھاتے ہیں، لیکن جب میزبان ملک معاشی بحران یا بدانتظامی کے باعث ان قرضوں اور ان پر لگنے والے بھاری سود کو واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا تو تب کھیل کا اصل رخ سامنے آ جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں نقد رقم نہ ہونے کے باعث ‘ڈیبٹ فار ایکویٹی سواپ’ (Debt-for-Equity Swap)… یعنی قرض کے بدلے ملکیت کا فارمولا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی سب سے کلاسک اور دنیا بھر میں مشہور مثال سری لنکا کی ہیمبنٹوٹا (Hambantota) بندرگاہ ہے۔ جب سری لنکا بندرگاہ بنانے کے لیے حاصل کیے گئے چینی قرضے ادا کرنے میں ناکام ہوا تو اُسے اپنی یہ تزویراتی بندرگاہ اور اس کے آس پاس کی ہزاروں ایکڑ زمین 99 سال کی قانونی لیز پر چین کے حوالے کرنا پڑی۔
نفوذ کا یہ عمل صرف بندرگاہوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ملک کے اندرونی توانائی اور گیس کے نیٹ ورکس تک پھیل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب پاکستان جیسا ملک اپنے گردشی قرضوں (Circular Debt) کے بوجھ تلے دب کر سوئی نادرن گیس پائپ لائنز جیسی اپنی بڑی گیس کمپنیوں کے شیئرز یا ان کا انتظامی کنٹرول (Management Control) چینی کمپنیوں کو دینے پر مجبور ہوتا ہے تو وہ عملاً اپنی معاشی خودمختاری کا ایک بڑا حصہ بیچ رہا ہوتا ہے۔
لہذا جب پاکستان جیسے ملک کی گیس اور بجلی کی سپلائی لائنز کا ڈیٹا اور فیصلہ سازی چینی ہاتھوں میں چلی جاتی ہے تو مستقبل میں قیمتوں کا تعین، سپلائی کی ترجیحات اور عوامی ریلیف جیسے فیصلے حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں۔
اگر بالفرض پاکستان جیسا ملک دیوالیہ (Default) ہو جائے تو چین کو حاصل یہ جزوی کنٹرول سو فیصد ملکیت میں بدل سکتا ہے۔ 99 یا 100 سال کی طویل لیز کے دوران چین جیسی طاقتیں ان اثاثوں کا پورا کریم (منافع) نچوڑ لیتی ہیں اور بین الاقوامی عدالتوں کے تحفظ کے باعث مقامی حکومتیں یا عدالتیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر پاتیں۔
یوں 99 یا 100 سالہ لیز کی مدت ختم ہونے تک یا تو وہ اثاثہ اپنی طبعی عمر پوری کرکے ناکارہ ہو چکا ہوتا ہے یا پھر طاقت کا عدمِ توازن میزبان ملک کو لیز کی زبردستی تجدید پر مجبور کر دیتا ہے۔
کسی ملک کی خودمختاری پر حملہ آور ہونے کے لیے دوسرا ہتھیار بیانیے کی جنگ اور فکری تسلط کا ہے۔
معاشی نفوذ کے ساتھ ساتھ ایک اَور جاسوسانہ خاموش حملہ، فکری اور بیانیاتی سطح پر ہوتا ہے۔ کسی بھی نظام کو اندر سے تسخیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کے عوام اور مقتدر حلقوں کی سوچ کو تبدیل کیا جائے۔
جب میڈیا ہاؤسز، تعلیمی نصاب اور تھنک ٹینکس میں اچانک کسی مخصوص غیر ملکی طاقت کے حق میں یک طرفہ بیانیے فروغ پانے لگیں تو یہ فکری نفوذ کی علامت ہوتا ہے۔ مقامی ثقافت اور روایات کو پسماندگی قرار دے کر بیرونی طرزِ زندگی کو ‘جدیدیت’ کے نام پر اس طرح مسلط کیا جاتا ہے کہ معاشرہ اپنی فکری جڑیں کھو بیٹھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے ملکی یک جہتی کو پارہ پارہ کرنا اور بیرونی ایجنڈوں کو قومی ضرورت بنا کر پیش کرنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
جیسے اس کے لیے پاکستان کے موجودہ مبینہ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا پارلیمنٹ میں دیا گیا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ‘افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کے لیے پاکستانی نوجوانوں کو شامل کرنے کے لیے پاکستانی تعلیمی اداروں میں جہاد سے متعلق لٹریچر امریکی خفیہ ایجنسی CIA کے حکم پر شامل کیا گیا تھا۔’
غیر مقامی جاسوسی نظام کے نفوذ کا ایک اَور طریقہ مقامی محرومی اور بیرونی پراکسیز کے تزویراتی گٹھ جوڑ کا ہے۔
تاہم اس پورے کھیل کا سب سے پیچیدہ اور کٹھن پہلو وہ ہے، جہاں بیرونی نفوذ کسی ملک کی اندرونی محرومیوں اور مظالم کے ساتھ ہاتھ ملا لیتا ہے۔
دنیا کی کوئی بھی مسلح تحریک یا شورش صرف بیرونی فنڈنگ سے راتوں رات کھڑی نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ہمیشہ ایک ایسی زمین درکار ہوتی ہے، جو ریاست کے اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک، حقوق کی عدمِ فراہمی اور جبرِ مسلسل سے زرخیز ہوئی ہو۔ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) یا ماضی و حال کی ‘کشمیری جوائنٹ ایکشن کمیٹی’ جیسی دیگر ناراض تحریکوں کا بیانیہ اسی پسِ منظر میں نکھر کر سامنے آتا ہے۔
جب کسی خطے کے عوام یہ دیکھتے ہیں کہ اُن کی دھرتی سے نکلنے والے سوئی گیس یا معدنیات جیسے وسائل پورے ملک کو روشن کر رہے ہیں، لیکن ان کے اپنے گھر اندھیرے میں ہیں۔ اور جب ان کے حقوق حاصل کرنے کے سیاسی و آئینی راستے بند کر دیے جائیں تو ان کے اندر یہ خوف ایک پختہ عقیدے میں بدل جاتا ہے کہ ‘موجودہ نظام میں ان کی محرومی نوشتہ دیوار ہے۔’
اسی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر مسلح گروپ جنم لیتے ہیں، جو سی پیک (CPEC) جیسے بڑے چینی منصوبوں اور غیر ملکی انجینئرز کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان منصوبوں کو ناکام بنا کر اس مقامی حکومت کو معاشی طور پر کمزور کیا جائے، جو ان کے بقول ان کے استحصال پر قائم ہے۔
یہاں پر آ کر ‘مقامی شکایات’ اور ‘بیرونی استحصال’ کا ایک گٹھ جوڑ بن جاتا ہے، جسے بین الاقوامی تعلقات میں ‘سودے بازی کا رشتہ’ (Marriage of Convenience) کہا جاتا ہے۔
اس مرحلے پر ایک طرف مسلح گروپ کو اپنی جنگ کے لیے پیسہ، مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہ ہونے والا جدید ترین اسلحہ، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور بین الاقوامی سرحدوں کے پار محفوظ پناہ گاہیں چاہئے ہوتی ہیں۔ جب کہ دوسری طرف خطے میں چین یا کسی دوسری طاقت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی خواہش مند عالمی طاقتیں یا علاقائی حریف ممالک ان مسلح گروہوں کو اپنے تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ان بیرونی طاقتوں کا مقصد مسلح تحریک یا کسی بھی مقامی مشتعل آبادی کے حقوق کا تحفظ نہیں، بلکہ اپنے حریف کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے، جس کے لیے وہ مقامی شہریوں کی حقیقی محرومیوں کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔
تاہم غیر ملکی جاسوسی نیٹ ورک کے نفوذ کو روکنے کے لیے حقیقی حل مقامی انٹیلی جنس نظام کی مضبوطی تو اپنی جگہ ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری معاملہ اسٹیٹ کرافٹ کو بروئے کار لانے کا ہے۔
اسے یوں سمجھ لینا چاہیے کہ جب کوئی ریاست اس کثیر جہتی غیر ملکی نفوذ کا شکار ہوتی ہے تو عام طور پر اس کا ردِعمل عسکری یا انٹیلی جنس کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ جاسوسوں کا پیچھا کرنا، فوجی آپریشنز کرنا اور مسلح گروہوں کو طاقت کے زور پر دبانا روایتی حل سمجھے جاتے ہیں۔ البتہ سکیورٹی اور اسٹیٹ کرافٹ کا سنہری اصول یہ کہتا ہے کہ یہ اقدامات صرف ایک عارضی ‘پین کلر’ (Painkiller) کی طرح ہیں، جو بیماری کی علامت کو تو دبا سکتے ہیں، مگر بیماری کا جڑ سے خاتمہ نہیں کرتے۔
اگر ایک جاسوس پکڑا جائے گا یا ایک نیٹ ورک تباہ ہوگا تو بیرونی طاقتیں محرومی کی ہمیشہ سے زرخیز زمین کو دیکھ کر دوسرا نیٹ ورک کھڑا کر دیں گی۔
اس کا سب سے بنیادی، پائیدار اور حقیقی حل یہ ہے کہ ریاست عسکری طاقت کے بجائے سیاسی حل اور حقوق کی فراہمی کو ترجیح دے۔ جس دن ریاست اپنے شہریوں کو ‘ان کے حق کی روٹی اور عزت کا سانس’ دے دے گی، ان کے آئینی اور معاشی حقوق بحال کر دے گی اور انہیں یہ یقین دلائے گی کہ ان کے وسائل پر پہلا حق انہی کا ہے، اسی دن مسلح تنظیموں کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔
جب مقامی آبادی کا اعتماد اپنی ریاست پر بحال ہوتا ہے تو وہ بیرونی جاسوسوں اور سازشی عناصر کو اپنے اندر پناہ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ جس سے غیر ملکی جاسوس نیٹ ورک کے مختلف النوع نفوذ کا دم گھٹ جاتا ہے۔
لہذا کسی بھی نظام کا بیرونی نفوذ سے بچنا اس بات پر منحصر نہیں کہ اس کے پاس کتنی بڑی فوج یا کتنی جدید انٹیلی جنس ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ اس نظام کا اپنے عوام کے ساتھ رشتہ کتنا مضبوط ہے؟ معاشی محتاجی اور اندرونی جبر وہ دو کمزوریاں ہیں، جو بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔
جب تک ریاستیں اپنے شہریوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کر کے انہیں شراکت دار نہیں بنائیں گی، تب تک بیرونی نفوذ کے سائے ملکی خودمختاری پر منڈلاتے رہیں گے اور غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ معاشی معاہدوں کے لبادے میں مقامی صنعتیں اور تزویراتی اثاثوں کی ملکیتیں بیرونی ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہیں گی۔


















































