ایک بے مثال اور فیصلہ کن پیش رفت میں افغانستان نے فرضی لائن کے اُس پار ایک انتہائی درست اور کامیاب آپریشن انجام دے کر خطے کے سکیورٹی توازن کا نیا باب کھول دیا۔ یہ کامیاب حملہ محض ایک عارضی ٹیکٹیکل اقدام نہیں تھا بلکہ امارت اسلامیہ کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کا باضابطہ اعلان تھا۔ اس آپریشن کا پیغام واضح اور ناقابلِ انکار ہے: اسٹریٹیجک تحمل کا مرحلہ اختتام کو پہنچ چکا ہے اور افغانستان اب اپنی سکیورٹی، قومی خودمختاری اور ارضی سالمیت کے خلاف ہر قسم کے خطرے کو، خواہ وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی بھی گروہ کی جانب سے ہو، نطفے ہی میں کچل دے گا۔
برسوں سے دہشت گرد گروہ، بالخصوص داعش خراسان، پاکستان کی سرزمین اور فرضی سرحدی لکیر کے غیر محفوظ علاقوں کو افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افغان عوام کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ تھی بلکہ اس نے قومی خودمختاری کو بھی سنگین چیلنج سے دوچار کر رکھا تھا۔ تاہم حالیہ آپریشن نے اس تصور کو مکمل طور پر ریزہ ریزہ کر دیا کہ دہشت گرد فرضی لائن کے اُس پار محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ افغانستان کے خلاف سازشیں کر سکتے ہیں۔
امارت اسلامیہ کے وفادار سپاہیوں نے غیر معمولی درستگی کے ساتھ فرضی لکیر کے اُس پار متعین اہداف کی نشاندہی کی اور انہیں تباہ کر دیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے افغانوں کا عزم ہر قسم کی جغرافیائی اور عسکری رکاوٹ سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان آپریشنز کا سب سے اہم پہلو، جو تحسین اور گہرے تجزیے کا مستحق ہے، پاکستان کے جدید اور ترقی یافتہ دفاعی نظاموں کو کامیابی سے عبور کرنا تھا۔ پاکستان کی فوج، جو ہمیشہ اپنی فضائی دفاعی قوت پر فخر کرتی رہی ہے، اس بڑے امتحان میں ایک تلخ ناکامی سے دوچار ہوئی۔
افغانستان کے بغیر پائلٹ طیاروں اور ڈرونز نے نہ صرف اس ملک کے دفاعی حصاروں کو توڑا بلکہ انتہائی درستگی کے ساتھ فرضی سرحدی لکیر سے دور واقع متعین اہداف کو بھی تباہ کر دیا۔ یہ ٹیکنیکل اور ٹیکٹیکل کامیابی امارت اسلامیہ کی عسکری صلاحیتوں کے نئے پہلوؤں کو آشکار کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ افغانستان جدید اور غیر متوازن جنگوں کے میدان میں ایسی مہارت اور قوت کا مالک بن چکا ہے جس نے علاقائی حریفوں کو حیران کر دیا ہے۔
ان آپریشنز کے دو اہم پیغامات تھے۔ پہلا پیغام داعش دہشت گرد تنظیم کے لیے تھا کہ اب وہ پاکستان میں اپنے ٹھکانوں اور محفوظ مراکز کو محفوظ نہ سمجھے۔ افغانستان نے دکھا دیا کہ اس کی انٹیلی جنس اور عسکری رسائی پڑوسی ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر قسم کی دہشت گردانہ نقل و حرکت کو فوری اور سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرا پیغام اس سے بھی زیادہ اہم اور سنجیدہ تھا؛ وہ پیغام جو پاکستانی فوجی رجیم کو بھیجا جا رہا تھا، وہ رجیم جس نے برسوں اپنی دوغلی پالیسی کے ذریعے افغانستان میں بدامنی پیدا کرنے کے اسباب فراہم کیے ہیں۔
افغانستان نے اس جرات مندانہ اقدام کے ذریعے واضح کر دیا کہ وہ پاکستان کے سکیورٹی ڈھانچے کے بعض عناصر کے تخریبی کردار کو مزید برداشت نہیں کر سکتا اور افغانستان کے خلاف دہشت گردی کی ہر قسم کیا اعلانیہ یا خفیہ معاونت کو سخت اور فرضی لکیر کے اس پار ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ تبدیلی خطے کے سکیورٹی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جاتی ہے۔ افغانستان اب سکیورٹی توازن کے میدان میں ایک فعال، اقدام کرنے والے کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ کابل کی نئی دفاعی حکمتِ عملی خطرات کے مقابلے میں پیشگی اقدام اور ان کے سرچشموں کے خاتمے پر مبنی ہے، ایسی اسٹریٹیجک پالیسی جو نہ صرف پائیدار داخلی سکیورٹی کی ضمانت دیتی ہے بلکہ تمام پڑوسیوں کو یہ واضح پیغام بھی دیتی ہے کہ افغانستان کی قومی خودمختاری اور ارضی سالمیت ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنا ناممکن ہے۔
ان کامیاب آپریشنز نے ثابت کر دیا کہ امارت اسلامیہ کے سپاہی اپنے وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور کوئی دفاعی نظام اور کوئی جغرافیائی رکاوٹ ان کے فولادی عزم کی راہ نہیں روک سکتی۔ فطری بات ہے کہ پاکستان نے اس اسٹریٹیجک ضرب کے بعد اپنی سکیورٹی کی کمزوری کو گہرائی سے محسوس کیا ہوگا اور یہ سمجھ لیا ہوگا کہ دشمنی کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون اس کے لیے بھاری قیمت کا باعث بنے گا۔
افغانستان نے ان آپریشنز میں ثابت کر دیا کہ وہ عسکری پیچیدگیوں کے انتہائی مشکل حالات میں بھی ایمان اور اپنی داخلی صلاحیتوں کے بل بوتے پر انتہائی درست اور مؤثر ضربیں لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ کامیابی تمام آزاد افغانوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ امارت اسلامیہ مضبوط عزم کے ساتھ پائیدار سکیورٹی اور مکمل قومی خودمختاری کے حصول کی جانب مضبوط قدم اٹھا رہی ہے۔ اب اس کے بعد ہر گروہ اور ہر ملک جو افغانستان کو دھمکانے کا سوچے گا، اسے اس دوٹوک پیغام کا سامنا کرنا پڑے گا کہ سرحدیں اور دفاعی نظام کبھی بھی افغان ملت کے جائز دفاع کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔



































