پوری دنیا کے ممالک کے درمیان باہمی احترام اور مفادات کے لیے ایک اصول یہ ہے کہ اپنی سرزمین اور پالیسی کو پڑوسیوں اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ لیکن زمین پر دھوکے اور سازشوں کے ذریعے قائم کی جانے والی یہ رجیم ہمیشہ یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ اپنی سرزمین اور پالیسی کو پڑوسی اور خطے کے دیگر ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرے۔
داعش کے بعض اہم ارکان اور افراد کا گرفتار ہونا، وہ بھی مختلف ممالک میں، اور ان ارکان و افراد کے اعترافات کہ ان کی سرگرمیاں پاکستان کی سرزمین سے اور اس ملک کی فوجی رجیم کی چھتری تلے انجام دی جاتی تھیں، ان حقائق کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی فوجی رجیم اپنی سرزمین کو خطے کے ممالک کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔
۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران امارت اسلامیہ کی جانب سے داعش کے ارکان اور حملہ آوروں کا گرفتار ہونا اور پھر ان کے اعترافات کہ انہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں تربیت دی جاتی ہے، اور یہ کہ ان کے ساتھ مکمل تعاون اور تربیت مذکورہ ملک کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے کی جاتی ہے، مذکورہ دعوؤں کا ایک حصہ بنتے ہیں۔
ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی MIT نے داعش کا وہ رکن گرفتار کیا جس کے پاس ترکی میں میڈیا پروپیگنڈے کی ذمہ داری تھی۔ اس کا اعتراف یہ تھا کہ ان کے تربیتی اور رہائشی مراکز پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں۔ ان مراکز کے بارے میں امارت اسلامیہ افغانستان پہلے بھی مستند رپورٹس اور شواہد عالمی فریقوں اور ترکی کے تعاون سے پاکستانی رجیم کے ساتھ مذاکرات کے دوران شریک کر چکی تھی۔ لیکن موجودہ شواہد، جن میں ترکی میں داعش کے پروپیگنڈے کے ذمہ دار احمد کازانجی کا اعتراف بھی شامل ہے، نہ صرف افغانستان کے انٹیلی جنس نظام کی درستگی، ذہانت اور سچائی کو نمایاں کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین اس فوجی رجیم کی جانب سے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے ناپاک مقاصد اور اہداف کے لیے نہ صرف پاکستان کی سرزمین استعمال کی ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں، وعدوں اور خارجہ پالیسی کی بھی کھلی خلاف ورزی اور اس کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ خلاف ورزیاں اور ناجائز استعمال پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے مسلسل جاری ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لیے پاکستانی فوجی رجیم کی مستقل سرگرمیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ہر وہ ملک جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ہو، پاکستانی فوجی رجیم اپنے باطنی اور ظاہری کردار کے مطابق وہاں شر و فساد کی آگ کو پھیلانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
داعش نے نہ صرف افغانستان اور ترکی میں ایک سال کے دوران خونریز واقعات کی منصوبہ بندی کی بلکہ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک، جیسے روس، کے خلاف بھی اسی نوعیت کے منصوبے اور سرگرمیاں انجام دی ہیں، تاکہ وہ ممالک جو افغانستان کے ساتھ مفادات اور اچھے تعلقات کے راستے پر گامزن ہیں، افغانستان کے بارے میں مشکوک اور بد اعتماد ہو جائیں۔



















































