۲۴ اسد وہ تاریخی دن ہے جب پانچ سال قبل اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت اور افغان عوام کی طویل جہادی جدوجہد کے نتیجے میں کابل فتح ہوا اور اس پر آزادی کا سفید پرچم لہرایا گیا۔ ۲۴ اسد وہ دن ہے جو تاریخ کے صفحات میں عظیم تبدیلی، فتح اور غرور کے ٹوٹنے کے نام سے درج ہوا؛ وہ دن جب طاقت، تکبر اور استکبار کی وہ عمارتیں منہدم ہوئیں جو برسوں سے ناقابلِ شکست ہونے کا دعویٰ کرتی رہی تھیں۔
قابضین کا خیال تھا کہ ہتھیاروں کی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور بڑی فوجی قوتیں ایک قوم کے عزم کو توڑ دیں گی؛ لیکن تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قوموں کا ایمان، غیرت، آزادی سے محبت اور قربانیاں ہر قسم کے غرور کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں۔ تاریخ کے بعض دن صرف تقویم میں باقی نہیں رہتے؛ بلکہ قوموں کے دلوں، شہیدوں کے خون اور ماؤں کے آنسوؤں میں لکھے جاتے ہیں، ۲۴ اسد بھی انہی ہمیشہ زندہ رہنے والے دنوں میں سے ایک ہے؛ وہ دن جب افغان عوام نے دنیا کو دکھایا کہ کسی قوم کا زندہ ایمان اور آزادی کی خواہش طاقت اور استکبار کے سامنے شکست نہیں کھاتی۔
یہ دن ان بہادر انسانوں کی قربانیوں کی یاد ہے جنہوں نے اپنی عزت، خودمختاری، اسلامی نظام کے قیام اور اقدار کے لیے سخت دن برداشت کیے۔ یہ دن یہ پیغام دیتا ہے کہ کوئی طاقت ہمیشہ کے لیے لوگوں کی مرضی پر حکمرانی نہیں کر سکتی اور کوئی غرور تاریخ کے فیصلے سے بچ نہیں سکتا۔ ۲۴ اسد وہ دن ہے جب قابضین کے غرور کا جنازہ نکلا اور آزادی کا نیا باب کھولا گیا؛ وہ باب جو قربانیوں کے رنگ، صبر کی قوت اور آنے والی نسلوں کی امیدوں کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔
لیکن یہ آزادی آسانی سے حاصل نہیں ہوئی؛ یہ شہیدوں کے خون، ماؤں کے آنسوؤں، یتیموں کی سسکیوں اور ان خاندانوں کے دکھوں سے حاصل ہوئی جنہوں نے اپنے عزیزوں کو اس سرزمین میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے قربان کیا۔ آزادی کی ہر سانس ہزاروں قربانیوں کا قرض اپنے ذمے رکھتی ہے۔ افغان قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ذلت کی طویل زندگی کو عزت کے مختصر لمحے کے بدلے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے مشکلات برداشت کیں، ان کے گھر اجڑ گئے، ان کے خاندان غم زدہ ہوئے؛ لیکن انہوں نے غلامی کا طوق قبول نہیں کیا۔
اس دن کے پیچھے صرف فتح کا شور نہ دیکھیں؛ وہاں اس ماں کے آنسو بھی ہیں جس کا بیٹا دوبارہ گھر واپس نہ آیا، اس یتیم کا درد بھی ہے جس کے لیے باپ کی آغوش ہمیشہ کے لیے خالی ہوگئی، اور ان نوجوانوں کا خون بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی بہار اپنے اسلام کی عزت کے لیے قربان کردی۔ ۲۴ اسد؛ قربانی، غیرت اور خودمختاری کا سنہری باب ہے؛ وہ دن جس نے افغان تاریخ کے ایک نئے باب کی راہ ہموار کی، وہ کارنامہ ہے جو غیرت کے قلم اور قربانی کے خون سے لکھا گیا ہے۔
۲۴ اسد کی آزادی کا سورج شہیدوں کی قربانیوں سے طلوع ہوا؛ خون کے دریاؤں کے بعد امید کی صبح طلوع ہوئی، اور ایک قوم کے استقامت کی داستان تاریخ کی پیشانی پر ثبت ہوگئی۔ بالآخر اسی دن قابضین اور جمہوریہ کا جنازہ نکلا اور آزادی کے لیے شکرانے کے سجدے ادا کیے گئے۔ آئیے، اس باوقار دن کی دہلیز پر اپنے ضمیر سے پوچھیں: کیا ہم ان قربانیوں کے حقیقی وارث ہیں یا صرف ان کی عظمت کی کہانیاں بیان کرتے ہیں؟ اگر ہم آزادی کی قدر کو عملی طور پر برقرار نہ رکھیں تو تاریخ ہمیں اپنے اسلاف کی امانت کے محافظ نہیں سمجھے گی۔
جب کسی قوم کی آزادی کی قیمت خون ہو تو اس کی حفاظت بھی صرف نعروں سے نہیں ہوتی۔ آزادی غیرت چاہتی ہے، وفاداری چاہتی ہے، اتحاد چاہتی ہے اور ایسی نسل چاہتی ہے جو اپنے شہیدوں کی قربانیوں کی قدر کو سمجھے۔ ہمارے لیے آزادی صرف سرزمین کی خودمختاری نہیں؛ آزادی ہماری عزت ہے، ہماری شناخت ہے، ہمارے شہیدوں کی امانت ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا حق ہے۔ کیونکہ قومیں اس وقت نہیں مرتیں جب وہ شہید پیش کرتی ہیں؛ قومیں اس وقت مرتی ہیں جب وہ اپنے شہیدوں کی قربانیاں بھول جاتی ہیں۔



































