فتح یا آزادی انسانی زندگی کے اہم تصورات میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ کے دوران مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ بعض تہذیبوں نے آزادی سے مراد فرد کی خواہشات کی تکمیل لی، بعض نے اسے سیاسی اقتدار کی پابندیوں سے آزادی کے طور پر بیان کیا، جبکہ بعض نے اسے سماجی نظم و قانون کے دائرے میں انسان کے حقوق کا مسئلہ قرار دیا ہے۔
اسلام انسان کی آزادی کے مسئلے کو اس سے کہیں زیادہ گہرے اور مختلف انداز میں دیکھتا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر میں انسان نہ کسی دوسرے انسان کا غلام ہے اور نہ ہی اپنی بے لگام خواہشات کا بندہ؛ یعنی اسلام انسانوں کو بندوں کی بندگی سے نکالتا ہے، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا بندہ اور زمین پر ذمہ دار انسان بناتا ہے۔ اسی لیے اسلامی آزادی توحید، کرامت، عدل، ذمہ داری اور اخلاق کے ساتھ وابستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ) (البقرة: ۲۵۶)
ترجمہ: دین میں کوئی اکراہ، زور اور جبر نہیں؛ حق باطل سے واضح ہو چکا ہے۔
یہ آیت انسان کے عقیدے اور انتخاب کے معاملے میں جبر کی نفی کی اہم قرآنی بنیادوں میں سے ہے، کیونکہ فطرتاً انسان جبر کے خلاف ہے اور فطری آزادی پسند کرتا ہے۔ اسلام آزادی کی بنیاد توحید یا ایمان کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ اسلام کا معنی ہی تسلیم ہونا ہے۔ کس کے سامنے تسلیم ہونا؟ کیوں تسلیم ہونا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اسلام کی روح کو بیان کرتے ہیں۔ انسان کی بندگی اور خود ساختہ معبودوں سے بغاوت کا اعلان کرنا اور ایک اللہ جل جلالہٗ، جس کا کوئی شریک نہیں، کے سامنے تسلیم ہونا اور سر جھکانا اسلام اور آزادی کہلاتا ہے۔ جب انسان صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کو قبول کر لیتا ہے تو اسے دوسرے انسانوں کی ناجائز بندگی، استبداد اور ذلت سے نجات کی روحانی بنیاد حاصل ہو جاتی ہے۔
اسلام کے نقطۂ نظر سے حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرتا پھرے؛ بلکہ یہ ہے کہ انسان حق، عقل، اخلاق اور باطل کے مقابلے کی ذمہ داری کے دائرے میں اپنی زندگی کا انتخاب کرے۔ اسی لیے اسلام آزادی کو ذمہ داری سے جدا نہیں کرتا اور اسی بنا پر اسلامی تصور کے دو پہلو ہیں:
اول: ناجائز جبر، ظلم اور استبداد سے آزادی۔
دوم: نفس، شہوت اور غیر ذمہ دارانہ خواہشات کی غلامی سے آزادی۔
ظہورِ اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں عرب معاشرے میں انسانوں کے درمیان قبائلی تعصب، کمزوروں کا استحصال، عورتوں اور یتیموں کے حقوق پر تجاوز، غلامی کی سنگین صورتِ حال اور طاقت کی بنیاد پر سماجی مراعات موجود تھیں، اور اسلام نے ان سماجی مسائل کے مقابلے میں انسانی کرامت کا اصول پیش کیا۔
(وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ) (الإسراء: ۷۰)
اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے۔
اس اصول کے مطابق انسانی کرامت صرف مال دار ہونے، حکمران ہونے یا کسی خاص قبیلے سے تعلق رکھنے کے ساتھ وابستہ نہیں، بلکہ کرامت انسان کی ذات اور اصل میں پوشیدہ ہے۔
اول: فتح مکہ سے؛ اسلامی امارت کے تاریخی اور زمانی تلازم کی تقلید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ابتدائی دور میں مسلمان سخت دباؤ، معاشی محاصرے اور سماجی تعاقب کا سامنا کرتے رہے، اور مکی دعوت کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور باطل معبودوں اور ناجائز اقتدار کی غلامی سے خود کو آزاد کرے۔ یہ مرحلہ اسلامی تاریخ میں فکری اور دینی تبدیلی کا اہم دور سمجھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کو یہ تعلیم دی جا رہی تھی کہ حق صرف اکثریت کی پسند کی وجہ سے حق نہیں بن جاتا اور باطل صرف طاقت کی موجودگی کی وجہ سے حق نہیں بن جاتا۔
تاریخِ اسلام کے دوران بعض سیاسی اور عسکری تبدیلیوں کو مسلمانوں کی یادداشت میں خاص مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں فتح مکہ (۸ ہجری/۶۳۰ء) تاریخِ اسلام کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح تقریباً چودہ صدیوں بعد افغانستان میں ایک طویل جنگ کے نتیجے میں امارت اسلامیہ ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء کو کابل میں داخل ہوئی اور ملک پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ دونوں واقعات ایک طویل جدوجہد کے بعد رونما ہوئے، تاہم دونوں کے درمیان حالات، دینی صورتِ حال، عالمی ماحول، سیاسی ڈھانچے اور جنگ کی نوعیت کے اعتبار سے اہم مماثلتیں دیکھی جاتی ہیں
۔
اول: فتح مکہ اور تاریخی پس منظر کی تیاری
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی۔ مسلمانوں کو شدید دباؤ، اذیتوں اور سماجی و معاشی تعاقب کا سامنا کرنا پڑا۔ ۶۲۲ء میں مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی اور مدینہ میں اسلامی معاشرہ قائم ہوا۔ ۶۲۸ء میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ اس کے بعد قریشِ مکہ سے وابستہ ایک گروہ نے مسلمانوں کے حلیف ایک گروہ کے ساتھ جھگڑے میں معاہدے کا توازن توڑ دیا۔ اس صورتِ حال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف روانہ ہوئے، ۶۳۰ء میں مکہ فتح ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے۔
فتح مکہ کی ایک مشہور خصوصیت یہ تھی کہ عمومی انتقام کے بجائے معافی اور عفو کی فضا قائم کی گئی۔ فتح مکہ کے بارے میں سیرت کی روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عفو و درگزر اور لوگوں کا خون نہ بہانے کی پالیسی کو وسیع پیمانے پر بیان کیا گیا ہے۔
دوم: امارت اسلامیہ افغانستان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے راہ ہموار کرنا
افغانستان میں امارت اسلامیہ فساد اور باہمی جنگوں کے مقابلے میں اٹھی اور پہلے دور میں ۱۹۹۶ء میں کابل میں اقتدار حاصل کیا۔ اگرچہ ۲۰۰۱ء میں امریکہ کی قیادت میں عالمی اتحاد نے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور امارت اسلامیہ حکومتی اقتدار سے باہر ہو گئی، لیکن امارت کے پیروکاروں اور افغانستان کے بہادر مجاہدین نے اسلامی نظام کے استحکام کی جدوجہد ترک نہیں کی۔ انہوں نے اپنے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور قربانیاں دے کر جہاد کے محاذ گرم رکھے اور کبھی قابضین کو اس سرزمین پر سکون کا سانس لینے نہیں دیا۔ ۲۱ سال کی انتھک جدوجہد اور جنگ کے بعد ایک بار پھر کابل فتح ہوا اور افغانستان میں اسلامی نظام قائم ہو گیا۔
۲۰۲۰ء میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا، جس کے بعد غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہوا اور ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء، یعنی ۲۴ اسد کو امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کابل میں داخل ہوئے۔ سابقہ کٹھ پتلی انتظامیہ افغان مسلمان مجاہد قوم کی جان نثاری کے نتیجے میں سقوط کر گئی اور امارت اسلامیہ نے ایک بار پھر افغانستان کی مسلمان قوم کی ذمہ داری سنبھال لی۔
سوم: دونوں واقعات کے مشترک پہلو زمانی اور تاریخی تلازم سے وابستہ ہیں
دونوں فتوحات ایک طویل جدوجہد کے بعد وجود میں آئیں۔ فتح مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ۲۱ سالہ دعوتی اور سیاسی سفر کا نتیجہ تھی، اور اسی طرح امارت اسلامیہ کا منہج بھی نبی علیہ السلام کے طریقے اور منہج کی پیروی کرتے ہوئے ۲۱ سالہ طویل جنگ اور سیاسی جدوجہد کے بعد دوبارہ قائم ہوا۔
اس پہلو سے اسلام میں دونوں تاریخی واقعات ایک طویل مرحلے کے اختتام اور ایک نئی سیاسی صورتِ حال کے آغاز سے وابستہ ہیں۔ دونوں اسلامی سیاسی نظم کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم تاریخی حالات، مشروعیت کے ذرائع اور عالمی صورتِ حال کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں، جیسے عفو اور عمومی امن کا مسئلہ۔ فتح مکہ کی ایک اہم خصوصیت عمومی معافی کی پالیسی تھی، اور ۲۰۲۱ء میں افغانستان میں بھی امارت اسلامیہ کے سربراہ، امیرالمؤمنین حفظہ اللہ ورعاه، نے نبوی منہج اور سیرت کی پیروی کرتے ہوئے عمومی معافی کا اعلان کیا۔
اس اعلان کا مقصد یہ تھا کہ سابقہ کابل انتظامیہ کے کارکنوں اور مخالفین کے خلاف عمومی معافی دی جائے اور انتقامی رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے دونوں واقعات کے تجزیے میں عفو اور انتقام کو محدود کرنے کا موضوع قابلِ توجہ مماثلت رکھتا ہے؛ تاہم دونوں کے عملی نفاذ کے تاریخی شواہد کا الگ الگ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسی بنا پر کسی بھی اسلامی نظام کے لیے فتح یا اقتدار کا سب سے اہم امتحان صرف اقتدار تک پہنچنا نہیں، بلکہ اقتدار کے ساتھ عدل، عفو، امانت اور ذمہ داری کا برتاؤ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نظام کو بقا عطا فرمائے، تاکہ اسلامی نظام کے تمام شعبوں میں یہ زمانی اور تاریخی تلازم برقرار رہے۔
جنگ اور سیاسی صورتِ حال کا فرق
مکہ کی فتح کا پس منظر مکہ اور مدینہ کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، ہجرت، معاہدوں اور قریش کی سیاسی صورتِ حال کی وجہ سے تشکیل پایا تھا۔ لیکن افغانستان بیسویں اور اکیسویں صدی کی ریاستوں، عالمی تنظیموں، غیر ملکی افواج، بین الاقوامی معاہدوں اور جدید جغرافیائی سیاست کے حالات میں واقع تھا۔ لہٰذا دونوں واقعات کا تجزیہ اپنے اپنے زمانے کے سیاسی اور تاریخی حالات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
عفو کا درس
فتح مکہ کا سب سے اہم اخلاقی اور سیاسی سبق فتح کے بعد انتقام کے بجائے عفو اور لوگوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ (النحل: ۹۰)
فتح اختتام نہیں بلکہ ذمہ داری کا آغاز ہے۔ واقعے سے ایک اہم سبق یہ ہے کہ فتح صرف عسکری کامیابی نہیں تھی، بلکہ اسلامی معاشرے کے نظم، لوگوں کے دلوں کو جوڑنے، عدل کے قیام اور دینی و معاشرتی نظم کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری کا آغاز بھی تھی۔ اسی طرح افغانستان میں ۲۰۲۱ء کی سیاسی تبدیلی صرف جنگ کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد اسلامی نظام کی تشکیل، امتِ مسلمہ کے لیے معیشت، تعلیم، عدل، سکیورٹی، سماجی استحکام اور عالمی تعلقات کی ذمہ داریاں پیدا ہوئیں۔
دوم: مدینہ منورہ؛ سماجی نظم کے ساتھ آزادی
۶۲۲ء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ مدینے کے معاشرے میں مسلمان، یہودی اور دیگر گروہ مشترکہ زندگی گزارتے تھے۔ مدینے کے سیاسی اور سماجی نظم کے بارے میں تاریخی مصادر میں میثاقِ مدینہ کا ذکر ملتا ہے، جس میں شہر کے مختلف گروہوں کے درمیان تعلقات اور مشترکہ ذمہ داریوں کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی معاشرتی تصور صرف فرد کے حقوق کا بحث نہیں، بلکہ حق، ذمہ داری، عدل اور سماجی نظم کو باہم مربوط تصورات سمجھتا ہے۔
سوم: دین کے انتخاب میں آزادی
اسلام کے نقطۂ نظر سے ایمان اس وقت حقیقی معنی رکھتا ہے جب وہ انسان کے یقین اور ارادے سے پھوٹے اور اسی کو عقیدہ کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ)
یعنی: دین میں زور، اکراہ اور جبر نہیں۔
اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ صرف زور کے ذریعے دل میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کا ایمان یقین، علم اور انتخاب کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اسلام دعوت کے لیے حکمت اور بیان کی رہنمائی کرتا ہے، نہ کہ انسان کے دل کو زبردستی تبدیل کرنے کی۔
چہارم: اظہارِ رائے کی آزادی؛ حق کی ذمہ داری
اسلام انسان کو حق بات کہنے کے ذریعے قدر و منزلت دیتا ہے، لیکن اظہار کو اخلاق اور ذمہ داری سے جدا نہیں کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ عدل کے بارے میں فرماتا ہے:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ)
اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے حق کی گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ تمہارے اپنے نفسوں، یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ (النساء: ۱۳۵)
اس لیے اسلامی ثقافت میں حق گوئی کا تصور امانت، صداقت اور عدل کے ساتھ وابستہ ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان جھوٹ، بہتان، لوگوں کی توہین اور ظلم کو ’’آزادی‘‘ کے نام پر جائز قرار دے سکتا ہے۔
پنجم: فرد کی ذمہ داری اور آزادی
معاصر دنیا کے بعض تصورات میں آزادی کو کبھی کبھی ’’جو کچھ میں چاہوں، وہ کروں‘‘ کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اسلام اس تعریف کو قبول نہیں کرتا۔ اگر ایک انسان کی آزادی دوسرے انسان کے حق کو ختم کر دے تو یہ پھر مطلق آزادی نہیں بلکہ حقوق کا ٹکراؤ ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص اظہارِ رائے کے نام پر دوسرے انسان پر بہتان لگائے، اس کی عزت کو نقصان پہنچائے یا جھوٹ پھیلائے تو اس نے اظہارِ رائے کے حق کو دوسرے انسان کے حق کو پامال کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اسی لیے اسلام اور معاصر آزادی کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر معاصر سیاسی فکر آزادی کی مختلف اقسام کو تسلیم کرتی ہے، جیسے فردی آزادی، سیاسی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی، مذہبی آزادی اور شہری حقوق، تو اسلام ان موضوعات کے بعض پہلوؤں میں مشترک عناصر رکھتا ہے، لیکن آزادی کی اس کی فلسفیانہ بنیاد مختلف ہے۔ مثلاً سیکولر فکر میں انسانی ارادے کو عموماً قانون سازی کا اہم ماخذ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلامی فکر میں انسانی ارادہ الٰہی وحی، اخلاق اور شرعی اصولوں کے دائرے سے وابستہ ہے۔



















































