اکیسویں صدی کا آغاز ہوا، سوشلزم کا خاتمہ ہو چکا تھا، اور مغرب ایک بار پھر ایک نئے دشمن کے سامنے کھڑا تھا۔ مغرب کی حکمتِ عملی بدل گئی، اب سوشلزم اس کا اولین ہدف نہیں رہا تھا، بلکہ اس بار اس نے اسلام اور اسلامی فکر کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔ اس دشمنی کے لیے مغرب نے کیا منصوبہ بنایا تھا؟ مستشرقین بھی اب خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام ہو چکے تھے۔ چنانچہ مغرب نے، صدیوں پہلے کی طرح، اپنے منصوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا:
1. براہِ راست فوجی یلغار
2. پروپیگنڈہ جنگ
3. خفیہ یا انٹیلی جنس جنگ
اس مقصد کے لیے اس نے اسلامی فکر کو نشانہ بنایا اور درج ذیل تصورات کو فروغ دیا:
1. جہاد: دہشت گردی، بے گناہ لوگوں کا قتل، ظلم اور تخریب
2. اسلامی نظام: آمریت اور جبر
3. اسلامی قوانین: = پسماندگی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ
4. جمہوریت اور سیکولرزم: ترقی، انصاف اور انسانی حقوق
5. مغرب: مسلمانوں کا دوست، دنیا کا خیرخواہ، عادل حکمران اور انسانیت کا علمبردار
ان دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے افغانستان کو پہلا ہدف بنایا گیا، کیونکہ جہاد اور اسلامی نظام کا تصور دنیا بھر میں افغانستان سے وابستہ ہو چکا تھا۔ چونکہ مغرب یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ جہاد دراصل دہشت گردی اور وحشت کا نام ہے، اس لیے اس نے افغانستان کے اندر اسلامی تحریکوں کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اور اپنے کٹھ پتلی عناصر کے ذریعے انہیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار کر دیا۔
جہاد اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے ان تمام گروہوں کو پراپیگنڈہ اور ابلاغی میدان میں ’’مجاہدین‘‘ کا نام دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت کمیونسٹ نظام کے بہت سے باقی ماندہ عناصر بھی ان گروہوں میں شامل ہو چکے تھے اور متعدد امریکی جاسوس بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی پوری توجہ اسی موضوع پر مرکوز رکھی تاکہ مسلمانوں کے ذہنوں میں جہاد کو بدنام کیا جا سکے اور عملی طور پر یہ باور کرایا جائے کہ جہاد دہشت گردی، خوف و ہراس اور بے گناہوں کے قتل کا دوسرا نام ہے، جبکہ اسلامی فکر جبر اور ظلم کی نمائندہ ہے۔ انہی تحریکوں کے بعض افراد نے غیر شرعی اور ناجائز اعمال انجام دیے، اور مغربی میڈیا نے انہیں ’’مجاہدین‘‘ کے نام سے متعارف کرایا۔
ان لوگوں نے تقریباً ساٹھ ہزار بے گناہ کابل والوں کو قتل کیا، اور مغربی میڈیا نے اسے جہاد کا نام دیا۔ ان میں سے بعض اخلاقی بدعنوانی اور ناجائز تعلقات میں ملوث تھے، غیر قانونی چوکیاں قائم کرتے تھے، لوگوں کے سروں میں کیلیں ٹھونکتے تھے، ’’رقصِ مردہ‘‘ اور دیگر سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے تھے، عوامی اور سرکاری تنصیبات کو تباہ کرتے اور عمارتیں منہدم کرتے تھے۔ مختصراً، ظلم، وحشت اور غیر قانونی کاموں کی شاید ہی کوئی ایسی شکل ہو جو انہوں نے اختیار نہ کی ہو۔ مغربی میڈیا نے ان تمام مظالم، بربریت اور تباہ کاریوں کو ’’مجاہد‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔
روس کے خلاف جہاد کے دور کے ایک مجاہد مجھے بتایا کرتے تھے کہ جہاد کے زمانے میں ایک عرب فرد تبرک کے طور پر میرے ہاتھ چومتا تھا، لیکن جب اس نے مجھے خانہ جنگی کے دور میں دیکھا تو مجھ پر تھوکتا، مجھ پر لعنت بھیجتا، یہاں تک کہ اسلام کے ایک اہم رکن یعنی جہاد کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھا۔
مغرب کا یہ ڈرامہ ایک عرصے تک کامیابی سے چلتا رہا، لیکن 1994ء میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظام اور جہاد کی نصرت کے لیے ایک اور معجزہ ظاہر کیا۔ اسی افغانستان میں ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے نام سے ایک شخصیت نے اسلامی نظام کے قیام کے لیے ایک نئی تحریک کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اسی امارت اسلامیہ نے ان تمام بدبختیوں، ظلم و ستم اور ناجائز اعمال کا خاتمہ کر دیا۔
انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ اسلامی نظام تمام خرابیوں اور بدحالیوں کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر علاج ہے۔ انہوں نے عملی طور پر مسلمان نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلامی نظام انسانیت کے تحفظ، ظلم کی روک تھام، مسلمانوں کے اتحاد، آزادی اور عدل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے بہت ہی کم عرصے میں مغرب کے تمام پروپیگنڈے کو جھوٹ ثابت کر دیا۔
چند ہی برسوں میں انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا کہ جہاد مسلمانوں کے ناموس، مال اور عزت کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔ ایک بار پھر مختلف تحریکیں متحرک ہوئیں، اور مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں اسلامی نظام، جہاد اور خلافت کی بازگشت پھیلنے لگی۔ مختلف ممالک کے مسلمانوں نے افغانستان کی طرف ہجرت کرنا شروع کر دی تاکہ اسلامی نظام کے سائے میں زندگی گزار سکیں۔ اس طرح عالمی جہاد کا تصور بھی مزید مضبوط ہوا۔
جب مغرب نے دیکھا کہ اس کا تمام پروپیگنڈا ناکام ہو چکا ہے اور اس کی تمام کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں، تو بالآخر اس نے مجبور ہو کر افغانستان پر براہِ راست فوجی حملہ کر دیا۔



















































