ایسے دور میں، جب سرحدیں شیشے کی دیواروں کی مانند ہو چکی ہیں اور خطرات پہلے کی نسبت کہیں زیادہ by باکی سے ایک ملک کی سرزمین سے دوسرے ملک تک منتقل ہو رہے ہیں، کسی قوم کی دفاعی قوت کا اندازہ صرف اس کے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی تعداد سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس ایمان، اتحاد اور پختہ عزم سے بھی لگایا جاتا ہے جو ان ہتھیاروں کے پیچھے موجود ہو۔ امارت اسلامیہ افغانستان آج اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ وہ نہ صرف ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے میں اپنی سرحدوں کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ خطرات کو ان کے منبع پر، حتیٰ کہ دوسرے ممالک کی سرزمین پر بھی، شناخت کر کے انہیں ناکام بنا سکتی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس نے افغانستان کو ایک کمزور اور متاثرہ ملک سے خطے کی ایک مؤثر دفاعی قوت قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔
پاکستان میں داعشی خوارج کے مراکز پر حالیہ فضائی کارروائیاں محض ایک فوجی اقدام نہیں تھیں بلکہ ایک نئے افغانستان کے ظہور کا عملی اعلان تھیں، ایسا افغانستان جو شریعت پر قائم نظام کے زیرِ سایہ ایسی قوت اور استحکام کا حامل ہو چکا ہے کہ دشمنوں کے منصوبوں کو نہ صرف اپنی سرحدوں کے اندر بلکہ ان کے مورچوں میں بھی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امارت اسلامیہ نے بخوبی یہ حقیقت سمجھ لی ہے کہ پائیدار امن صرف سرحدوں کے پیچھے انتظار کرنے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ خطرات کا ان کی پناہ گاہوں تک تعاقب کرکے انہیں ختم کرنے سے یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ اسٹریٹیجک تبدیلی ملک کی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں میں ہونے والی ترقی کی عکاس ہے اور یہ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ آج افغانستان ایسا فریق ہے جو خطے کے توازن پر اثر انداز ہوتا ہے، نہ کہ خود ان کا شکار بنتا ہے۔
امارت اسلامیہ جس قوت سے آج بہرہ مند ہے، وہ دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔ پہلا، ایمان اور شریعت کے اصولوں پر اعتماد، جس نے اس نظام کو شرعی جواز اور عوامی قبولیت عطا کی ہے، اور دوسرا، ان علمی، فنی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں سے استفادہ، جو آزادی اور خود انحصاری کے سائے میں حاصل کی گئی ہیں۔ ایمان اور طاقت کا یہی امتزاج امارت اسلامیہ کو افغانستان کے سابقہ نظاموں بلکہ خطے کے بعض دیگر نظاموں پر بھی نمایاں برتری عطا کرتا ہے۔
جبکہ بہت سے ممالک بیرونی طاقتوں کے سہارے اپنی داخلی کمزوریوں کو چھپاتے ہیں، افغانستان نے آج اپنے باایمان اور ماہر نوجوانوں کی بدولت قومی سلامتی کی بنیادوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ شریعت پر قائم یہ نظام فوجی قوت کو صرف دفاع کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ اسے انسانی وقار، علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ بھی سمجھتا ہے۔
قرآنِ کریم مسلمانوں کو صرف طاقت حاصل کرنے کی ترغیب ہی نہیں دیتا بلکہ ہر لحاظ سے تیار رہنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ انفال میں فرماتا ہے:
«وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ»
ترجمہ: "اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت اور تیار بندھے ہوئے گھوڑے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر ہیبت طاری کر سکو۔”
یہ آیت واضح طور پر اہلِ ایمان کو قوت حاصل کرنے اور دفاعی صلاحیت پیدا کرنے کی دعوت دیتی ہے اور یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلام میں فوجی طاقت نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک اسلامی نظام کی دینی اور قومی ذمہ داریوں میں بھی شامل ہے۔
امارت اسلامیہ نے آج اسی الٰہی ہدایت کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اس کی فوجی قوت امن و امان کے قیام کے لیے وقف ہے اور مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ آج کا افغانستان وہ کمزور اور دوسروں کا محتاج ملک نہیں رہا جو معمولی سے خطرے کے سامنے بھی اپنا دفاع نہ کر سکے۔ آج اس سرزمین کے باایمان اور بہادر نوجوان، ایمان اور جدید علم کے ہتھیار سے لیس ہو کر، خطے کے بہت سے حالات اپنے ملک کے حق میں تبدیل کر چکے ہیں۔
انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر کوئی خطرہ ہمسایہ ممالک کی سرزمین پر بھی جنم لے تو افغانستان اسے اپنی سرحدوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کے منبع پر ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت نہ صرف فوجی برتری کی علامت ہے بلکہ امارت اسلامیہ کی انٹیلی جنس ترقی اور اسٹریٹیجک بصیرت کی بھی عکاس ہے۔ یہی خصوصیت افغانستان کو خطے میں ایسی قوت بنا چکی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
البتہ یہ قوت ہرگز جارحیت یا حملہ آور ہونے کے معنی نہیں رکھتی۔ امارت اسلامیہ بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ ان صلاحیتوں کا مقصد قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے امن و امان کا تحفظ ہے۔ ہر ملک کو خطرات کے مقابلے میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور افغانستان بھی اسی جائز حق سے استفادہ کرتا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ امارت اسلامیہ اس حق کو اسلامی اور انسانی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، دقت، دانش مندی اور درست ہدف بندی کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور کبھی بھی اس قوت کو ظلم اور جارحیت کا ذریعہ نہیں بننے دیتی۔
آخر میں، امارت اسلامیہ نے اپنی فوجی اور سکیورٹی قوت کی بدولت افغانستان کی معاصر تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے جس میں افغانستان دوسروں کے فیصلوں کا شکار نہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے قیام میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ قوت وہ عظیم نعمت ہے جو دہائیوں پر محیط جنگوں اور مصائب کے بعد ملت کو نصیب ہوئی، تاکہ وہ خود انحصاری اور دفاعی صلاحیت کی ایسی سطح تک پہنچ سکے جہاں اپنے ملک، نظام اور قومی مفادات کا ہر قسم کی سازش کے مقابلے میں دفاع کر سکے۔
امارت اسلامیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ شریعت پر قائم نظام صرف روحانی میدان ہی میں نہیں بلکہ فوجی اور سکیورٹی شعبوں میں بھی ایک کامیاب اور مؤثر نمونہ بن سکتا ہے۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ افغانستان کبھی اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی اپنی حقیقی آزادی دوبارہ حاصل کر پائے گا۔


















































