۴۔ عبادت اور اطاعت میں اعتدال
اسلام میں اعتدال اور میانہ روی کا ایک نہایت خوبصورت مظہر عبادت اور اطاعت میں توازن اختیار کرنا ہے۔ اسلام مسلمان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ عبادت کے نام پر اپنی ذاتی، خاندانی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دے یا اپنے اوپر اپنی طاقت سے بڑھ کر مشقت مسلط کر لے، بلکہ وہ ایسی عبادت کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کی استطاعت، دوام اور توازن کے مطابق ہو۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرة: ۲۸۶)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بنایا۔
رسول اللہ ﷺ بھی ہمیشہ اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو عبادت میں غلو اور افراط سے روکتے تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے چند صحابہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی عبادت میں غیر معمولی اضافہ کریں؛ ایک نے عزم کیا کہ ہمیشہ روزہ رکھے گا، دوسرے نے فیصلہ کیا کہ ساری رات نماز میں گزارے گا، جبکہ تیسرے نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا۔
جب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو شخص میرے طریقے سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام کا راستہ توازن، اعتدال اور میانہ روی کا راستہ ہے۔ نہ یہ رہبانیت اور دنیا سے کنارہ کشی کی تعلیم دیتا ہے، اور نہ ہی عبادت اور ذکرِ الٰہی سے غفلت کی اجازت دیتا ہے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، اپنے نفس کے حقوق، اپنے اہلِ خانہ کے حقوق اور معاشرے کے حقوق کے درمیان متوازن رویہ اختیار کرے۔
اسی لیے وہ عبادت جو اعتدال، اخلاص اور دوام کے ساتھ ادا کی جائے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان بھاری اعمال سے زیادہ محبوب ہے جنہیں انسان مستقل طور پر انجام نہ دے سکے۔
اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان زندگی کے ہر مرحلے میں اعتدال اور میانہ روی کو اپنا شعار بنائے، تاکہ وہ ایک طرف عبادت کی برکتوں اور روحانی فیوض سے مستفید ہو اور دوسری طرف اپنی دیگر ذمہ داریوں کو بھی بہترین انداز میں ادا کر سکے۔


















































