گزشتہ دنوں امریکی صدر کی جانب سے جنوبی امریکہ میں واقع وینزویلا کے صدر اور اس ملک کی خاتون اوّل کو اپنے قصر سے اغوا کرنے اور بیڑیاں پہنا کر قید کرنے کا حکم ہواـ جس کے نتیجہ میں امریکی ڈیلٹا فورسز نے اپنی کارروائی کے ذریعہ ان دونوں کو منصوبہ بندی کے مطابق اغوا کیا اور دونوں کو واشنگٹن پہنچادیا گیاـ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے حقیقی معنوں میں پوری دنیا میں ایک لرزہ سا پیدا کردیا اور پوری دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی ـ چین سے لے کر مراکش اور ماسکو سے سنگاپور تک سب کے سب اس واقعہ پر دم بخود رہ گئےـ کسی نے کم تو کسی نے زیادہ ردعمل دیاـ البتہ کسی بھی جہت سے اس واقعہ پر مناسب ردعمل سامنے نہیں آیاـ
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے فوری بعد سے ہی وینزویلا کے صدر سے تناؤ کی کیفیت جاری رہی ـ مگر گزشتہ چند ماہ سے یہ کیفیت مزید پیچیدگی اختیار کرتی جا رہی تھی ـ تاہم توقع کے مطابق ٹکراؤ ہونا تھا اور ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کی باتیں ہورہی تھیں ـ لیکن حیرت تب ہوئی جب امریکی فورسز نے نہایت ہی آسانی سے اپنا ہدف حاصل کیاـ نہ جنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی مزاحمت، گویا سسرال جا کر دلہن بیاہ کر لائی گئی ـ اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں؟ سردست ہمیں ان سے سروکار نہیں ہےـ اس وقت بتانا یہ ہے کہ امریکہ اور وینز ویلا کے حالات اس نہج پر پہنچے کیوں؟ ایسے حالات میں عموماً کوئی ایسا بیانیہ داغا جاتا ہے جس سے محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکےـ یا کوئی ایسا ڈھنڈورا پیٹا جائے جسے فوری مقبولیت مل جائےـ اسی بناء پر جیسے ہی وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرکے لے جایا گیا تو نائب صدر نے بیان داغ دیا کہ امریکہ کو اصل مسئلہ وینزویلا کے تیل سے ہےـ یہ تیل والی بات چونکہ عوام میں جلد سرایت کرسکتی ہے اور جذبات کو ابھارنے میں کردار ادا کرسکتی ہےـ اس لئے موقع ملتے ہی اس کا سہارا لیا گیاـ لیکن کیا واقعی مسئلہ تیل کا ہے؟ اس پر کچھ بات کرتے ہیں ـ
تیل کا ذکر جیسے ہی ہوتا ہے تو ذہن میں مشرق وسطیٰ، ایران اور روس کا تصور امڈ آتا ہےـ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا ہی ہےـ اس لئے اگر امریکہ نے اس تیل کو اپنے منشا کے مطابق استعمال کرنے کی ٹھان لی ہو تو کچھ بعید نہیں ـ پھر یہ بھی بات ہے اور بعض مبصرین اس پر کافی عرصہ سے لکھ بھی رہے ہیں اور بول بھی رہے ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کچھ بڑا کرنے جارہا ہے اور ارادے اس کے اس حوالے سے ٹھیک نہیں ہیں ـ اور ایسی صورت میں جب تعلقات میں تلخیاں پیدا ہونگی اور مشرق وسطیٰ کے پاس تیل کے ذریعہ دباؤ کا آپشن رہے گا تو یہ امریکہ کے لئے کافی پریشانی کی بات ہو گی ـ اس لئے امریکہ پہلے سے ہی کچھ ایسے اقدامات اٹھانا ضروری سمجھتا ہے جن کے ذریعہ وہ اس دباؤ سے نکل کر کھلے میدان میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکےـ اور اس بارے اس کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ وینزویلا کا صدر تھاـ جو امریکی انتظامیہ کو اپنے ملک کے وسائل کو امریکی قبضے میں دینے سے گریزاں تھاـ
جبکہ دوسری طرف کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس قدام کے ذریعہ ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے اور اسے اشاروں کنائیوں میں سمجھا رہا ہے کہ تم بھی سر کشی سے باز آ جاؤ ورنہ انجام کچھ ایسا ہی مضحکہ خیز ہوگاـ اور اس بات کی وہ دلیل یہ دے رہے ہیں کہ ایران میں حالیہ بڑے پیمانہ پر مظاہرے اور اسرائیل کی جانب سے اعلانیہ طور پر اس کی حمایت اور ببانگ دہل یہ کہنا کہ ہم ہی ان مظاہروں کی پشت پر کھڑے ہیں ـ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد کی راہ اختیار کی تو ہم انہیں بچانے کے لیے میدان میں کود پڑیں گےـ یہ سارے تانے بانے ملا کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ امریکہ ایران کے خطرے کو مزید طول نہیں دینا چاہتا اور اس کے بندوبست کے لئے دست بکار ہو رہا ہےـ ابتدائی طور پر ایران کے اصل حکمرانوں کے خلاف عوامی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور جب نفرت اپنے عروج پر پہنچے گی تب امریکہ وینزویلا کے بہ نسبت کچھ سخت ہی اقدام اٹھائے گاـ
مگر سب سے زیادہ جس بات پر عالمی مبصرین متفق ہیں اور وہی بات قدم قدم پر کئی دہائیوں سے ثابت ہو رہی ہے وہ ایک تاریخی پس منظر ہے اور امریکہ کی موجودہ سسٹم کی حکمرانی ہےـ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سوشلزم نظریہ جب نوے کی دہائی سے افغانستان میں شکست سے دوچار ہوا اور مقابلہ میں سرمایہ دارانہ نظام کی ہوائیں ہر سمت چل پڑیں عین اسی موقع پر وینزویلا میں سابق صدر شاویز نے مردہ سوشلزم زندہ کیا اور اس کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی ـ یہیں سے امریکہ کے ساتھ اختلافات زور پکڑنے لگےـ شاویز کو اس کی سزا بھی بھگتنی پڑی اور عوامی بغاوت کے نتیجہ میں اس کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا گیا ـ لیکن اس نے اپنی محبوبیت کے ذریعہ پھر انتخابات کے ذریعہ دوبارہ صدارت حاصل کر لی اور امریکہ کی بجائے چین اور روس سے پینگیں بڑھائیں ـ روس نے اس کے دفاع کے حوالہ سے صلاح مشوروں اور کچھ ہتھیاروں تک کی حامی بھری اور چین نے تیل کی خریداری اور وہاں پر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ـ یہ چیز امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھائی اور وہ اس تاک میں رہا کہ کب موقع ہاتھ آئے اور یہ بکرا قربان ہو جائےـ اس لئے کہ امریکہ کی اگرچہ وینزویلا کے ساتھ کوئی زمینی سرحد نہیں لگتی اور فضائی طور بھی دو ہزار کیلو میٹر کے لگ بھگ فاصلہ ہے لیکن چونکہ وینزویلا بہرحال جنوبی امریکہ میں واقع ہے اور امریکہ جنوبی ہو یا شمالی اس پر واشنگٹن ہر سمت کے نسبت اپنا حق زیادہ سمجھتا ہے اس لئے اس میں چین اور روس کی آمد کو وہ اپنے گھر میں دخل اندازی ہی گردانتا ہےـ اور امریکہ تو پوری دنیا میں یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی بھی جگہ کوئی چین اور روس کی بلاک میں شامل نہ ہوـ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر اس کی کوششیں نظر بھی آتی ہیں ـ اب جب اس کے اپنے گھر میں اس بلاک کی دراندازی شروع ہوئی تو یہ اس کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا ـ تاہم وہ انتظار میں تھا کہ مناسب موقع پر اس کی طرف توجہ دی جائےـ ۲۰۱۳ء میں وینزویلا کا صدر شاویز مر گیا اور اس کی جگہ اس کا نائب نکولسن مارودو صدر بناـ مگر پالیسی وہی رہی جو اس کے پیشرو نے طے کر رکھی تھی ـ اب جب کہ روس اور چین کی بلاک کو مزید تقویت ملی ہےـ روس یوکرائن پر پنجہ دراز ہےـ چین نے تائیوان کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور آئے دن اس کے پڑوس میں جنگی مشقیں کی جارہی ہیں ـ دوسری طرف ایران کو روس اور چین کی طرف سے دوستانہ تحفے تحائف مل رہے ہیں اور اس کے غبارے میں وہیں سے ہوا بھری جارہی ہےـ ایسے میں وینزویلا کی قربتیں بھی روز بروز بڑھتی جارہی تھیں ـ امریکہ کے خلاف شعلہ بیانی بھی عروج پر تھی۔ اس لئے امریکہ کو اب اپنے گھر میں ہی خطرہ منڈلاتے نظر آنے لگا تو اس نے یہ انتہائی اقدام اٹھایا جس میں تمام بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند ڈالاـ تاکہ اور کچھ ہو نہ ہو گھر کے دروازے پر دستک دیتے شور کو تو دبایا جاسکےـ
ان سارے تبصروں کے علاوہ ایک اور معنی خیز چیز بھی اسی دوران سامنے آئی ہےـ وہ چیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسی واقعہ کے متعلق بیان ہےـ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر اور اس کی اہلیہ کو اٹھانے کی کارروائی اپنی بڑی کامیابی قرار دی اور اس پر ایک جملہ یہ بھی کہا کہ افغانستان سے ہم نے انخلاء کے وقت جو سبکی اٹھائی تھی اس کے پیش نظر ہم نے وینزویلا میں اپنی ثابت قدمی اور ڈسپلن کا جوہر دکھایاـ ٹرمپ کے اس جملہ کو بہت ہی معنی خیز نظروں سے دیکھا جارہا ہےـ جہاں اس کا یہ مطلب بتایا جارہا ہے کہ امریکہ سے سات سمندر پار ہم جو کوشش میں لگے رہے ہیں کہ کسی طرح اقوام عالم کو زیر کر لیں اور وہاں بھی کوتاہی ہوجائے تو ہم اس طرح اپنے حکمرانوں کو اس کوتاہی کی پاداش میں تاحشر عار دلاتے رہیں گےـ وہیں یہ مطلب بھی بتایا جارہا ہے کہ ہر ایک افغانستان نہیں بن سکتا اور ہر ایک کو افغانستان بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیےـ کہ پھر ونیزویلا جیسے انجام سے اس کا سامنا بھی ہوسکتا ہےـ




















































