فکری یلغار وہ خطرناک حملہ ہے جو بندوق یا بم کی طرح نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ ذہن اور فکر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو انسان کے عقائد، افکار اور ثقافت کو نشانہ بناتی ہے تاکہ قوموں کو اندر سے کمزور کیا جا سکے۔
فکری یلغار کا پہلا قدم عوام کے ذہن، مفاہیم اور اصطلاحات کو تبدیل کرنا ہے، یعنی وہ چیزیں جو پہلے اچھی سمجھی جاتی تھیں، انہیں برا پیش کیا جاتا ہے، اور وہ چیزیں جو بری تھیں، انہیں ’’آزادی‘‘ اور ’’تمدن‘‘ کے نام پر خوبصورت دکھایا جاتا ہے۔
صدیوں سے مسلمان اور اسلامی سرزمینیں مختلف جنگوں اور خارجی قبضوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان جنگوں میں نہ صرف مسلمانوں کی زمین اور دولت پر قبضہ کیا جاتا ہے، بلکہ ان کی تاریخ، شناخت اور ثقافت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
فکری جنگ کا مطلب ہے قومی افکار، اصطلاحات اور اقدار کو بدلنا اور ان کی جگہ نئے مفاہیم، افکار اور اصطلاحات تھوپنا۔ یہ یلغار کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جسے قابض اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے تاکہ قوموں کو اندر سے تقسیم کر سکے اور ان پر کنٹرول آسان ہو جائے۔
اگر کسی نے افغان – امریکہ جنگ کا مشاہدہ کیا ہو اور اس کے پیچھے استعماری طاقتوں اور مغربی تنظیموں کے چھپے ہوئے چہرے کو تلاش کیا ہو، تو اس کے لیے یہ واضح ہو جائے گا کہ فوجی حملے کے ساتھ ساتھ عقائد، پختہ افکار، اقدار اور ثقافت پر بھی جنگ جاری تھی۔
ہم نے دیکھا کہ استعماری طاقتیں بموں کے استعمال کے ساتھ ساتھ سینکڑوں اصطلاحات، مفاہیم اور مواد بھی پھیلا رہی تھیں، تاکہ حقائق کو مسخ کریں، ہماری شناخت اور تاریخ کو بدنام کریں، اور لوگوں کے عقائد اور اعتقادات کو تبدیل کریں۔
ہم نے گذشتہ بیس سالہ جنگ کے دوران جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ یہ تھا کہ پہلے دن سے ہی قابضین نے ہر ممکن طریقے سے فکری اور ثقافتی جنگ جاری رکھنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف عنوانات اور تخریبی و دہشت گردانہ وسائل استعمال کیے تاکہ ہمارے معاشرتی اقدار، تاریخ اور تہذیب، ثقافتی روایات، فکری عادات اور مذہبی یادگاریں تباہ کی جا سکیں۔
قابضین نے ہمارے تاریخی ورثے کو نقصان پہنچایا، آثار کو لوٹا، مذہبی یادگاروں کو شہید کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے ہزاروں سال پرانے خالص فکر و ثقافت کو کمزور کیا جائے، ہماری روایات اور اقدار بدل دی جائیں اور اس کی جگہ مغربی اور غیر ملکی اقدار کا مخلوط نظام قائم کیا جائے، تاکہ ہماری اجتماعی شناخت اپنی اصل سے جدا ہو جائے۔
انہوں نے سب سے پہلے ہماری قومی زبان کو نشانہ بنایا، حقائق کو مسخ کیا اور تاریخ کو تحریف کیا۔ اصطلاحات کی تبدیلی کے ذریعے انہوں نے ایک اہم مقصد حاصل کیا: ہمارے معاشرتی، اخلاقی، دینی اور خاندانی نظام کو تباہ کرنا۔ یہ ان کی حکمت عملی تھی، جس پر انہوں نے اربوں ڈالر بھی خرچ کیے، کیونکہ یہی وہ رکاوٹیں ہیں جو ان کی یلغار کے خلاف مزاحمت میں حائل ہوتی ہیں اور قوموں کی سیاسی آزادی اور اتحاد کو یقینی بناتی ہیں۔
قابضین جزوی طور پر اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہوئے؛ انہوں نے عقل و فکر چرانے، حقائق کو مسخ کرنے، تاریخ کو تحریف کرنے اور کچھ اقدار، یادگاروں اور مفاہیم کو بدلنے کے ذریعے یہ حاصل کیا کہ اسلام کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جائے، قبضے و یلغار کے خلاف جہاد اور مزاحمت کو تشدد سمجھا جائے اور اپنی زمین و مقدسات کی دفاع کو دہشت گردی تصور کیا جائے۔
ثابت افکار، نظریات اور اقدار کو تباہ کرنے کے ذریعے یہ واضح ہو گیا کہ قابضین چاہتے تھے کہ خالص مفاہیم کو خلط ملط کردیاجائے اور درمیان کی سرحدیں اور اختلافات مٹ جائیں۔ اور واقعی ایسا ہوا؛ نیکی برائی کے برابر دکھائی دی، فاسد کو شریف ظاہر کیا گیا، ظالم مظلوم کے مترادف، جارح مدافع کے برابر اور قابض کو حق دار دکھایا گیا؛ یہی وہ مقصد تھا جس کے حصول کی وہ کوشش کر رہے تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ فکری جنگ میں سب سے بڑا ہدف لوگوں کے افکار ہوتے ہیں، کیونکہ جب کسی قوم کے بنیادی اعتقادات تباہ ہو جاتے ہیں، تو وہ قوم اپنی راہ کھو دیتی ہے اور قابو پانے کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہے۔ اسی لیے مغرب ہمیشہ خوبصورت نعروں جیسے ’’آزادی‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کے پیچھے فکری پروگرام چلانے میں مصروف رہتا ہے تاکہ معاشرے میں اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے۔
اگرچہ افغانستان مادی قبضے سے آزاد ہے، مگر فکری جنگ کے تباہ کن مقاصد اور منصوبوں کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ابھی بھی جزوی طور پر فکری یلغار کے تحت ہے۔ اگر فکری یلغار کے خطرات اور نقصانات کے بارے میں آگاہی نہ دی جائے، اگر مزاحمت کی مضبوطی کے عوامل اور فکری اثر سے تحفظ کے طریقے نہ اپنائے جائیں، تو یہاں موجود مغربی نظریات آئندہ نسل کے بنیادی افکار بن جائیں گے، جو افغان معاشرے کے فکری اور اخلاقی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔
معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ سماجی استحکام مضبوط کیا جائے، فکری خلیج کو بند کیا جائے اور ہمارے بنیادی اقدار کو مستحکم بنایا جائے۔
لہٰذا جب ہم ایسے حملے کا سامنا کر رہے ہیں جو ہمارے عقائد، افکار، ثقافت، شناخت، تاریخ اور تہذیب کو نشانہ بنا رہا ہے، تو اس وقت ہم پر ہر وقت سے زیادہ لازم ہے کہ ہم خود کو اور اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے محفوظ رکھیں، کیونکہ جب کسی قوم کے بنیادی ستون، ثقافت، زمین اور حکمرانی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ تمام وسائل اور قوتیں ان کی حفاظت کے لیے استعمال کرے۔
یہ کام اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عقل و فکر کو غیر ملکی اثر و رسوخ سے محفوظ نہ بنایا جائے، ہر بیرونی اور ہمارے عقائد و اقدار سے دور افکار اور اقدار کو رد نہ کیا جائے، اور اپنے پختہ اور خالص اسلامی اصولوں و اقدار پر مضبوط گرفت قائم نہ کی جائے، کیونکہ یہی ہمارا اصل مرجع اور بقا کی ضمانت ہے۔

