چند روز قبل اردن کے بادشاہ، شاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئے۔ وہ شخصیت جسے اکثر لوگ ایک اسلامی ملک کے حکمران کے طور پر نہیں، بلکہ صہیونی ریاست کے غیر سرکاری نمائندے کے طور پر پہچانتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شاہ عبداللہ کا یہ دورہ پاکستان کے حالیہ حالات اور افغانستان کی حکومت کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی سے لاتعلق نہیں۔ وہ تباہ کن سرگرمیاں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کا سرچشمہ پاکستان کے اندر نہیں، بلکہ سرحد کے اُس پار ہے اور وہیں سے اُنہیں ہدایات ملتی ہیں۔
اسی سلسلے میں پاکستانی سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے بھی افغانستان پر پاکستان کے حالیہ حملے کو بیرونی طاقتوں کا حکم قرار دیا اور کہا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ پاکستانی قوم کی خواہش نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کا وہ منصوبہ ہے جسے پاکستانی فوج کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں اردن کے بادشاہ کی موجودگی، اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے پسِ پردہ تعلقات کی ایک مثال سمجھی جا رہی ہے۔ کیونکہ انہی دنوں لندن میں عالمی نمائش کے دوران پاکستانی اسٹال پر اسرائیلی نمائندے کی موجودگی نے بھی خاصا ہنگامہ برپا کیا ہے۔
لندن کی اس عالمی نمائش میں بنائی جانے والی ایک مختصر ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہو رہی ہے، دکھاتی ہے کہ اسرائیلی وزارتِ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان کے اسٹال پر پہنچے، جہاں پاکستان کے وزیرِ اعظم کے سیاحت کے مشیر سردار الیاس خان نے اُن کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
معروف سیاسی تجزیہ کار مائیکل کوگلمن اس ملاقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستانی اہلکار کی اسرائیلی نمائندے سے ملاقات اور اس کے بعد پیدا ہونے والا تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں عوامی رائے اور حکمران طبقے کے طرزِ عمل کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ پاکستانی عوام کی بڑی تعداد صہیونی ریاست کے بارے میں منفی نظریات رکھتی ہے، لیکن پاکستانی حکام اور عسکری شخصیات گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ متعدد غیر رسمی رابطے رکھ چکے ہیں۔
تاہم پاکستان کے حالیہ اقدامات کے پیچھے صرف صہیونی ریاست نہیں بلکہ امریکا کا واضح اثر بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ دعویٰ حال ہی میں نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ رپورٹ سے مزید تقویت پاتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستانی عوام غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران کی بدترین حالت میں گزر رہے ہیں، اور پاکستان عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے قرض لینے والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست کھڑا ہے۔ مگر اسلام آباد انتظامیہ نے واشنگٹن میں لابنگ کے لیے کروڑوں ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، ان بھاری اخراجات کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ اور رضامندی حاصل کرنا تھا؛ وہی رضامندی جسے افغانستان پر حملوں اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ حکمران طبقہ پاکستان کے مظلوم عوام پر اپنی حکمرانی کا عرصہ کچھ اور بڑھا سکے۔
پاکستان میں شاہ عبداللہ کا آنا، پاکستانی حکام کی اسرائیلی نمائندے سے خفیہ ملاقات، اور نیویارک ٹائمز کی وہ رپورٹ جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے؛ یہ سب باتیں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اصل چہرے کو پہلے سے کہیں زیادہ بے نقاب کر رہی ہیں۔ اب نہ صرف عام عوام بلکہ بعض حکومتی شخصیات بھی فلسطینی عوام کے مسئلے پر پاکستان کی غداری کا ذکر کرنے لگی ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان کے سینیٹر مشاق احمد خان نے اپنے ایکس (سابق ٹویٹر) پیغام میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:
’’ٹرمپ کے غلامو! جو بھی اسرائیل کا وفادار ہے، غدار ہے، غدار ہے!‘‘
جی ہاں! پاکستان غدار ہے؛ دین کا غدار، اپنے ہی عوام کا غدار، فلسطین کے مظلوموں کا غدار، اور اُن تمام باضمیر انسانوں کا غدار جنہوں نے فلسطینیوں کے حق اور صہیونی ریاست کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

