Site icon المرصاد

مولوی محمد ایاز شہامت تقبلہ اللہ! زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

محبت اور ایثار کا بلند مینار، اخلاق کی مثال اور کنڑ کے پہاڑوں کا شیر، شہید سعید مولوی محمد ایاز شہامت ولد محمد شریف، 1996میں صوبہ کنڑ، ضلع غازی اّباد کے گاؤں نیشہ گام میں ایک متدین اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوا۔ بچپن میں اس نے چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجد کی طرف آنا جانا شروع کیا۔ اپنے گاؤں کی مسجد کے امام سے ابتدائی دینی اور عقیدوی اسباق پڑھے، پھر ضلع شگئیکے مدرسہ ضیاء القرآن میں داخل ہوا، جہاں اس نے دینی علوم کی تکمیل کی اور دستارِ فضیلت سر پر سجایا۔

شہید شہامت (رحمہ اللہ) کی تربیت ایک دینی ماحول میں ہوئی اور اس کے ایمان کی بنیادیں مضبوط تھیں، اللہ عزوجل نے اسے بیدار اور حساس ضمیر سے نوازا تھا۔ اس نے جوانی دہلیز پر تب قدم رکھا جب اس کا وطن مغربی استعمار کے مکمل قبضے میں تھا۔ مظلوموں کی پکار، بیواؤں کی فریاد، نوجوان عورتوں کی عزت اور دینی مقدسات کی توہین نے اسے مزید آرام اور آسودہ زندگی کا انتخاب نہ کرنے دیا۔ اس نے بہت کم عمری میں جہاد اور جدوجہد کے گرم محاذوں کا رخ کیا۔ وہ صرف بارہ برس کا تھا جب اس نے استعماری طاقتوں کے خلاف بندوق اٹھائی اور زندگی کے آخری لمحے تک اس نے یہ محاذ خالی نہ چھوڑا۔

حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے اس نے نو سال تک اپنا گاؤں اور گھر چھوڑے رکھا اور مجاہدین کے علاقے چوکی گاؤں کی طرف ہجرت کی۔ وہ ایک فعال، قابل اور بہادر مجاہد تھا۔ ایک رات اس نے اکیلے ہی لیزر کی مدد سے اربکیوں اور فوج کے چھ افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کیا۔ حملہ آوروں کے خلاف ہر محاذ اس نے بہادری سے سنبھالا۔ اپنے ضلع کے اکثر گھاتوں، چھاپہ مار کاروائیوں اور آپریشنز میں اپنے مجاہد بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر حصہ لیا۔ داعشی خوارج کے خلاف اس کا مؤقف انتہائی سخت تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ صوبہ کنڑ کے اکثر اضلاع میں تشکیل کے ساتھ گیا اور کئی علاقوں کو ان کے وجود سے پاک کیا۔

جہادی سفر کے دوران وہ پہلی بار صوبہ کنڑ کے ضلع شیگل میں تشکیل کے ساتھ گیا۔ ضلع شیگل ان مقامات میں سے ایک تھا جہاں خوارج عملی طور پر موجود تھے۔ وہاں اس نے داعشیوں سے دو بہ دو مقابلہ کیا اور کئی علاقوں کو ان کے وجود سے پاک کیا۔ کچھ عرصے بعد مذکورہ آپریشنز سے واپس گھر لوٹا۔ ابھی اس نے آرام بھی نہیں کیا تھا کہ اس تھکے ماندے مجاہد کو دوبارہ جانے کا حکم ملا۔ اس بار وہ ضلع مانوگی کے علاقے ساریگل گیا، جہاں اس نے داعشی خوارج کے خلاف بہادری سے لڑائی کی۔

تیسری بار وہ ضلع واٹہ پور میں تشکیل کے ساتھ گیا۔ یہ حق کا علمبردار، جو اسلام کی پاکیزہ راہ پر مضبوطی سے قائم تھا، وہاں اس نے فتنہ گر خوارج کے خلاف عَلَمِ حق بلند کیا۔ نہ اس نے ان کے ظاہری تقویٰ کی طرف دھیان دیا، نہ ہی ان کی تندوتیزی کے خوف سے پیچھے ہٹا۔ قرآن اور سنت کی بنیاد پر اس نے خواررج کے باطل نظریات کو بے نقاب کیا۔ امت کا اتحاد اس کا عظیم مقصد تھا اور تفرقے کے خلاف وہ سخت مزاحمت کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ خوارج دینی جذبے، فکر اور عقیدے سے محروم لوگ ہیں، اس لیے حکمت، علم اور ضرورت پڑنے پر تلوار کے ذریعے ان کے فساد کا جواب دیتا تھا۔ اس کی جدوجہد محض ایک سیاسی مؤقف نہیں تھی، بلکہ ایک ایمانی فریضہ تھا جو اس نے ایک سچے اور بہادر مجاہد کی حیثیت سے ادا کیا۔

چوتھی بار وہ صوبہ کنڑ کے ضلع مانوگی کے علاقے کرنگل میں تشکیل کے ساتھ گیا۔ کرنگل میں لنڈیگل کے محاذ پر اس نے ایک داعشی ملا کے ساتھ مخابرے پر مناظرہ کیا اور اپنے مضبوط دلائل سے اسے شکست دی۔ چونکہ اس وقت جنگ کے امیر محترم قاری ضیاء الرحمن صاحب تھے، اس کامیاب مناظرے کے بدلے انہوں نے شہید سعید کو دو ہزار افغانی انعام دیا۔

اس مجاہد (رحمہ اللہ) کا کئی محاذوں پر خوارج سے آمنا سامنا ہوا، اس نے متعدد داعشیوں کو قیدی بنایا اور ہر جگہ داعشیوں کے خلاف دعوت و تبلیغ جاری رکھی۔ اس کے خاندان میں بھی بڑی تعداد میں مجاہدین تھے۔ جب وہ خوارج کے خلاف تشکیل پر جاتا تو اس کے گھر سے پانچ افراد تشکیل میں شامل ہوتے، جن میں اس کا بھائی، ایک کزن، اور دو بھتیجے شامل تھے۔ اس نے حملہ آوروں کے خلاف بھی محاذ گرم رکھا۔ اس کے خاندان سے چھ افراد شہید ہوئے، اور اس کا بھائی محمد بشیر ہارون بھی ایک کمانڈر تھا۔

بالآخر یہ خوش اخلاق اور خوش مزاج مجاہد صبح سویرے گھر سے اپنی ڈیوٹی کی طرف روانہ ہوا، وہ ساتویں بٹالین کی پہل پلٹن کا کمانڈر تھا۔ وہ ضلع چوکی کی بیس بابڑو کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں فتنہ گر داعشیوں کی نصب کردہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوا۔ اس کے تین ساتھی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک مجاہد اب تک معذور ہے۔ نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ

*تاریخ شہادت:* اتوار، ۲۸ اگست ۲۰۲۲ء، ۹ بجے صبح

Exit mobile version