چھ ماہ کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایڈم بولر کی قیادت میں، اور زلمی خلیل زاد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد کابل پہنچا ہے۔ اس وفد نے امارتِ اسلامی کے سینئر حکام کے ساتھ تعلقات کی توسیع، شہری مسائل، افغانستان میں سرمایہ کاری اور دیگر معاملات کے بارے میں تفصیلی بات چیت اور ملاقاتیں کی ہیں۔
جب امریکا نے اپنے اتحادیوں اور غلام حکمرانوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر یلغار کی اور طاقت کے ذریعے طالبان کی اسلامی تحریک/ امارتِ اسلامی کو یہاں سے ہٹا دیا، تو دنیا بھر میں امارتِ اسلامی کے ہمدرد مسلمان اپنے دُکھ بھرے مضامین اور تبصروں میں افسوس کا اظہار کرتے اور بار بار یہ جملہ دہراتے تھے: ’’لگتا ہے سب کچھ ختم ہوگیا۔‘‘
لیکن طالبان کی رائے مختلف تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ’’سب کچھ ختم ہوگیا‘‘، بلکہ اصل کھیل تو اب شروع ہوا ہے۔ اور اس کھیل کا آخری نتیجہ ان شاء اللہ یہ ہوگا کہ امریکا فہرست کے اوپر سے چلتے چلتے آخرکار فہرست کے نیچے تک پہنچے گا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکا اس فہرست کے کس مقام پر کھڑا ہے۔ اس انجام کی پیشگوئی سب سے پہلے خود محترم امیرالمؤمنین، عظیم قائد ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمائی تھی۔
اگرچہ ان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی، لیکن اس میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی۔ کاش! وہ اپنی زندگی میں اپنی اس پیشگوئی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے۔ اس تاخیر کی یقینا کئی وجوہات رہی ہوں گی، مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بعض علاقائی عناصر نے جذباتی رویہ اور جلدبازی اختیار کی، جس نے نہ صرف امارتِ اسلامی کے لیے مشکلات کھڑی کیں بلکہ ان کی اپنی جدوجہد بھی متاثر ہوئی۔ اگر مختلف محاذوں پر منتشر ہونے کے بجائے تمام طاقت تدبر اور حکمت کے ساتھ امارتِ اسلامی کے حق میں استعمال کی جاتی تو شاید ملا صاحب اپنی زندگی میں ہی اپنی پیشگوئی کو حقیقت بنتے دیکھ لیتے اور ’’وفود کے آنے جانے اور مذاکرات‘‘ کی یہ خبریں آج پرانی ہو چکی ہوتیں۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب جنرل صدر ایوب خان نے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں تو آغا شورش کاشمیری نے ایک جلسے میں ان کے مارشل لا کے بارے میں اس طرح کہا: ’’جتنا عرصہ صدر ایوب رہے، اتنا ہی عرصہ ہم نے صبرِ ایوب اختیار کیے رکھا۔‘‘
آغا شورش کاشمیری کا یہ خطیبانہ جملہ بہت موزوں ہے اور 11 ستمبر کے بعد امریکی یلغار کے تحت افغانستان میں ہمارا اور ہماری قوم کا عین وہی حال تھا ۔۔ ہم نے اپنی آزادی حاصل کرنے تک ایوب جیسا صبر اپنائے رکھا تھا۔
ہمیں یقین تھا کہ یہ حملہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا؛ کیونکہ افراد یا گروہ طاقت کے زور پر شکست کھا سکتے ہیں، مگر قومیں جبر و زور سے مغلوب نہیں ہوتیں۔
دنیا نے اسی ابتدا میں امارتِ اسلامی افغانستان کے بارے میں ایک غلط فہمی اختیار کی ۔۔ گویا یہ محض ایک عام مسلح گروہ ہے جو اپنے کیے سے پیچھے نہیں ہٹتا اور جسے سخت سزا ملنی چاہیے؛ مگر بڑی طاقتوں کو اس حقیقت کو سمجھنے میں برسوں لگ گئے کہ امارتِ اسلامی محض ایک گروہ نہیں، بلکہ افغان قوم کا غیرت مند جذبہ اور اسلام و شریعت سے وابستگی ہے جو اس نام¬ میں مجسم ہوئی ہے۔ بہرحال، ’’دیر آید، درست آید‘‘۔
جن لوگوں کو امارتِ اسلامی افغانستان کے پس منظر کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، ان کے لیے اتنا عرض ہے کہ جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو مجاہدین کی مختلف جماعتوں نے اپنے وطن کی آزادی اور دینی شناخت کے تحفظ کے لیے جہاد کا عَلَم بلند کیا۔ انہیں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے دنیا اور مغربی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ اس جہاد میں نہ صرف افغان بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ہزاروں افراد بھی شریک ہوئے۔ نتیجتاً روسی فوجیں افغانستان سے نکل گئیں۔
لیکن بعد میں مغربی طاقتوں نے جہاد کے ثمرات خود سمیٹ لیے اور مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیا تاکہ وہ آپس میں لڑیں۔ یوں افغانستان احمد مسعود، انجینئر گلبدین اور دیگر گروپوں کے درمیان خانہ جنگی کا میدان بن گیا۔
اس خانہ جنگی کے نتیجے میں افغانستان مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا اور جہاد کے تمام مقاصد تقریباً ضائع ہوگئے۔ اسی دوران دینی مدارس سے تعلیم یافتہ طالبان، مختلف مجاہدین اور مخلص نوجوان ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں قندھار سے اُٹھے۔ ان کا مقصد امن قائم کرنا اور اسلامی شریعت نافذ کرنا تھا۔ انہوں نے ایک منظم جماعت بنائی، جو بتدریج افغانستان کے اکثر علاقوں پر قابض ہوگئی اور ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کے نام سے حکومت قائم کی۔
اسی وقت افغان حکومت پر ۔۔ روس جہاد میں شریک عرب مجاہدین، اسامہ بن لادن کی قیادت میں، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجوں اور اسرائیل نواز مغربی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے اور افغانستان میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھے۔ مغرب نے اعتراض کیا اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ عرب مجاہدین کو ملک بدر کریں اور اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کریں۔ لیکن امارتِ اسلامی نے یہ یکطرفہ مطالبہ تسلیم نہ کیا اور کہا کہ اس پر غیر جانب دار اور بین الاقوامی تحقیقات ہوں، بصورتِ دیگر وہ اسامہ بن لادن کو کسی کے حوالے نہیں کرسکتے۔
پھر امریکا میں 11 ستمبر کا واقعہ ہوا، جس کا الزام عرب مجاہدین پر ڈالا گیا اور اسامہ کی حوالگی کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ طالبان نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی کوئی واضح تعریف یا وضاحت کیے بغیر، امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر ناحق یلغار کی۔ طالبان کو اقتدار سے ہٹایا گیا، لیکن انہوں نے سرنڈر کرنے کے بجائے پہاڑ کی چوٹیوں میں محاذ منظم کیے اور قابض افواج کے ساتھ طویل جنگ میں مصروف ہوگئے۔
جب قابض قوتوں نے حملہ شروع کیا تو جنگ بھی شروع ہوگئی اور تقریباً بیس سال تک افغانستان میں جنگ جاری رہی۔ دو دہائیوں کے طویل تصادم کے باوجود طالبان شکست نہیں کھا سکے اور نہ ہی اپنے ایجنڈے اور عزم سے منحرف ہوئے۔ کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت اور چند مغربی اداروں نے شور مچایا تھا؛ اُن کا کہنا تھا کہ امارتِ اسلامی اب بھی سخت قوانین کے نفاذ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی ماہرین کا بھی خیال ہے کہ یہ امر افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی ایک بڑی ناکامی تھی۔
باتیں چلتی رہیں گی، وفود آتے اور جاتے رہیں گے، اور جیسے جیسے حالات آگے بڑھیں گے پرانے اور نئے پہلو بھی آشکار ہوں گے۔ ایسے ہی خبریں ہم اکثر سنتے رہیں گے ۔۔ یہ خبریں در حقیقت سفارتی عمل کی پیش رفت اور معاشرتی اعتماد کی علامت ہوتی ہیں۔ یہ صرف طالبان کی حکومت کے لیے پیش رفت نہیں، بلکہ خطے کی ان حکومتوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے، جو دوسرے ممالک کا بوجھ اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے ہیں؛ اُنہیں چاہیے کہ دوسروں کے بوجھ اٹھانے کی عادت چھوڑ دیں اور زمینی حقائق قبول کریں۔
بہرحال! اب افغانستان میں امارتِ اسلامی پورے ملک پر حاکم ہے، کابل اور پورے ملک میں امن کی فضا قائم ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات، روابط اور تبادلۂ خیال کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔۔ کبھی کبھار واشنگٹن سے بھی وفود اور نمایندے آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں اور وفود اس بات کی علامت ہیں کہ امارتِ اسلامی کو بین الاقوامی سطح پر ایک تسلیم شدہ حکومت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور مستقبل کے عالمی اور علاقائی نظم میں افغانستان کے کردار اور اس کے خودمختار مؤقف کو قبولیت مل رہی ہے۔ امارتِ اسلامی محض ایک عام مسلح گروہ نہیں، بلکہ ایک منظم سیاسی نظام اور مکمل شریعتِ اسلام پر قائم فریم ورک ہے۔

