خطے کی کشیدہ سیاسی فضا میں پاکستانی رجیم کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کرنا کہ بلوچستان کی جدوجہد افغانستان سے چلائی جا رہی ہے، نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ گہرے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی ہے۔ یہ ایک داخلی بحران ہے جو مرکزی پاکستانی رجیم کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے الزامات، جو اکثر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں دہرائے جاتے ہیں، حقائق پر مبنی تجزیہ پیش نہیں کرتے بلکہ محض الزام تراشی کے لیے بہانے فراہم کرتے ہیں۔
ان دعوؤں کے برعکس، بلوچ تحریکوں کی قیادت اور مرکزی ڈھانچہ خود بلوچستان میں موجود ہے۔ یہ قیادت اپنے ہی عوام میں سے ابھری ہے اور ان کی سرگرمیاں علاقے کے موجودہ حالات کا براہِ راست ردِعمل ہیں۔ افغانستان کے نام کو بار بار دہرانا کسی بیرونی مداخلت کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کو خارجی بنانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے جس کی نوعیت مکمل طور پر داخلی ہے۔ اس سیاسی اور پروپیگنڈہ پر مبنی استعمال کا مقصد پڑوسیوں پر دباؤ ڈالنے اور عوام کی توجہ تشدد کے اصل اسباب سے ہٹانے کے سوا کچھ نہیں۔
اس طویل تنازع کے محرکات پاکستانی رجیم کی داخلی پالیسیوں میں تلاش کیا جانے چاہیے۔ بلوچ عوام کے جائز مطالبات کو نظرانداز کرنا، منظم امتیازی سلوک، سیاسی شمولیت سے محرومی اور قدرتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے گہری ناراضگی کی بنیاد رکھی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی مستند رپورٹس بلوچستان میں “جبری گمشدگیوں” اور وسیع پیمانے پر فوجی آپریشنز کی نشاندہی کرتی ہیں، ایسے اقدامات جو تشدد کم کرنے کے بجائے عوامی غصے کی آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں۔
افغانستان نے مسلسل دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر زور دیا ہے۔ بلوچ قیادت کی افغانستان میں موجودگی کے دعوے کے حق میں کوئی معتبر اور آزاد ثبوت موجود نہیں اور یہ افغان حکومت کے واضح بیانات سے بھی متصادم ہے۔ جیسا کہ حالیہ حملوں کے بعد بلوچستان کے قلب میں بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ کی اپنy ہی علاقے میں موجودگی سامنے آئی، اس سے افغانستان میں پناہ گاہوں کا مفروضہ بھی خاک میں مل گیا۔ بلوچستان کا بحران نہ کسی سکیورٹی ناکامی کا نتیجہ ہے اور نہ کسی بیرونی سازش کا، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط سیاسی، معاشی اور معاشرتی ناکامیوں کا ثمر ہے۔
اس تنازع کا حقیقی حل پڑوسیوں پر الزام تراشی میں نہیں بلکہ جرات کے ساتھ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ پاکستانی رجیم کو انصاف، اقتدار میں شراکت، اور وسائل و ترقی کی منصفانہ تقسیم سے متعلق بلوچ عوام کے تاریخی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ موجودہ مزاحمت کو ماضی کی پالیسیوں پر نظرثانی اور بامعنی مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک تنبیہی گھنٹی سمجھا جانا چاہیے۔
علاقائی اور عالمی رائے عامہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک اس ناراضگی کی جڑوں میں موجود مسائل کا حل نہیں نکالا جاتا، دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا صرف جنگ کو طول دے گا اور عام شہریوں کی تکالیف میں اضافہ کرے گا۔ بلوچستان کا بحران ایک داخلی معاملہ ہے جس کا حل داخلی اقدامات، اصلاحات کے لیے سیاسی جرات اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔ انکار اور جبر کی پالیسی اور “دوسروں کو الزام دینے” کا کھیل جاری رکھنے سے بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی رجیم سرحد پار مجرم تلاش کرنے کے بجائے اپنے گھر کے اندر بلوچ عوام کی آواز سنے۔

