پاکستان کے ممکنہ زوال کی ساتویں بڑی وجہ، عوام کے درمیان موجود گہری قومی تقسیم ہے۔ پاکستان میں عمومی طور پر چار بڑی قومیں آباد ہیں: پنجابی، بلوچ، سندھی اور پشتون۔ یہ قومیں زیادہ تر اپنی اپنی جغرافیائی حدود اور صوبوں میں رہتی ہیں، اور ہر قوم کا اپنا الگ ثقافتی ورثہ اور روایات ہیں۔
یہی مختلف جغرافیائی پس منظر اور جداگانہ رسم و رواج ان قوموں کے درمیان فاصلہ، بداعتمادی اور بے گانگی کا سبب بنے ہیں۔
ظالم پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایک خطرناک پالیسی بھی ان اختلافات کی شدت کی بنیادی وجہ رہی ہے۔ پاکستانی فوج کی ایک پرانی اور مستقل حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ خصوصاً پشتونوں کو آپس میں بھڑکایا جائے، انہیں قبائلی دشمنیوں میں مبتلا رکھا جائے، اور ان کے درمیان باہمی نفرت کو ہوا دی جائے۔ یہ پالیسی برسہا برس سے پشتون علاقوں میں نافذ رہی ہے۔
اگر ہم بلوچستان کے پشتون علاقوں پر نظر ڈالیں تو پاکستان بننے کے وقت سے ہی پشتون قبائل، جیسے اچکزئی اور نورزئی، باہمی دشمنیوں میں مبتلا رہے۔ اسی طرح اچکزئی قبیلے کے حمیدزئی اور غُبیزئی خاندانوں کے درمیان بھی کئی دہائیوں پر مشتمل عداوت موجود رہی ہے۔ کاکڑ اور اچکزئی قبائل کے مابین بھی نزاع پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج نے ہمیشہ کوشش کی کہ پشتونوں اور بلوچوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرے۔
پاکستانی فوج کا مقصد یہ تھا کہ یہ قومیں ترقی سے دور رہیں، ٹکڑوں میں بٹی رہیں، اور صرف پنجابی اشرافیہ اقتدار کی مسند پر قابض رہے۔ اسی باہمی اختلاف اور تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قیمتی معدنیات لوٹی گئیں۔ یہ پالیسی برسوں تک فوج کے لیے فائدہ مند رہی، مگر اب یہی پالیسی ان کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
آج بلوچ قوم کی مجموعی سوچ بدل چکی ہے۔ اب تقریباً ہر بلوچ یہ کہتا ہے کہ پنجاب ہمارے وسائل لوٹ رہا ہے، ہمارے حقوق نہیں دیتا، اور ہماری دولت پنجاب کے مفاد میں استعمال کی جاتی ہے۔
اسی طرح پشتون بھی شدید ناراض ہیں، کیونکہ اُن کے نزدیک پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ صرف پنجاب کے مفادات کی نگہبان ہے۔
سندھی بھی شکایت کرتے ہیں کہ فوج اور ریاستی ڈھانچے میں انہیں اُن کے جائز حق کے مطابق حصہ اور نمائندگی نہیں دی گئی۔
انہی اختلافات کے نتیجے میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قومی سطح پر اپنا جواز کھو دیا ہے اور اس کی عوام میں موجود پسندیدگی شدید کمزور ہو چکی ہیں۔ ملک کی یہ تین بڑی قومیں فوجی اقتدار کو اپنا نہیں سمجھتیں اور یہ یقین رکھتی ہیں کہ حقیقی اختیار صرف پنجاب کے ہاتھ میں ہے۔
قومیں اس قدر تھک چکی ہیں کہ بلوچ اور پشتون تو اب یہاں تک چاہتے ہیں کہ اپنے الگ، آزاد وطن قائم کریں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے تحریکیں بھی کھڑی کی ہیں جو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن چکی ہیں۔ بلوچ قوم تو اب مسلح جدوجہد تک جا پہنچی ہے تاکہ پنجاب کے تسلط اور جبری حاکمیت سے اپنا دامن چھڑا سکے۔
پاکستانی فوجی نظام جو پہلے ہی معاشی، سلامتی اور سیاسی بحرانوں کے دلدل میں پھنس چکا ہے، ان قومی اختلافات نے اسے مزید کاری ضرب لگائی ہے۔ یہ تقسیم اب اس قدر گہری ہوگئی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس پر قابو پانے میں بے بس اور ناتوان دکھائی دیتی ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کے آئندہ ممکنہ زوال کا ایک بنیادی سبب شمار کیا جاتاہے۔

