Site icon المرصاد

پاکستان: داعشی خوارج کی محفوظ پناہ گاہ، ٹریننگ کیمپ اور سازشوں کا مرکز!

مختلف بین الاقوامی خفیہ رپورٹس، علاقائی ذرائع اور مستند معلومات کے مطابق، داعش جو خود کو ’’اسلامی ریاست‘‘ باور کرواتی ہے؛ امارتِ اسلامیہ کی جانب سے ہونے والی جامع اور ہدفی کارروائیوں کے بعد افغانستان سے فرار ہوگئی ہے، اور اب پاکستان کی سرزمین کو ایک محفوظ پناہ گاہ، تنظیمی مرکز اور سازشوں کے گڑھ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

پاکستان میں نہ صرف داعش کے افراد کی مالی سرپرستی کی جارہی ہے، انہیں تربیت اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، بلکہ ان کے لیے جنگی مشن تیار کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں ہمسایہ اور خطے کے دیگر ممالک میں تخریب، فتنہ انگیزی اور بدامنی پھیلانے کے مقصد سے بھیجا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بلکہ پورے خطے، خصوصاً وسطی اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ایک سنگین دھمکی ہے۔

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایسی اعلانیہ یا پسِ پردہ تعاون، داعش کے ساتھ دوغلی پالیسی کا کھلا ثبوت ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا اور پاکستان کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے پر مجبور نہ کیا، تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

برہان زید کی ہلاکت پاکستان کی سرزمین پر داعش کی موجودگی کا واضح اور مستند ثبوت ہے۔ المرصاد کے مستند اور خفیہ ذرائع پر مبنی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کے ضلع قصور میں نامعلوم مسلح افراد نے داعش کے ایک اعلیٰ سطحی رہنما برہان جو زید کے نام سے معروف تھا، کو ہلاک کیا۔ برہان داعش کے تنظیمی ڈھانچے کا اہم رکن تھا، جو پاکستان سے خوارج کے نیٹ ورک کی پشت پناہی، رابطہ کاری اور مالی معاونت کا ذمہ دار تھا۔ اس کی موجودگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو داعش کی خفیہ سرگرمیوں کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

برہان زید کی ہلاکت کے بعد پاکستانی اداروں نے اس کے داعش سے تعلقات کی تردید کی، مگر المرصاد نے اس کی ایک تصویر جاری کی جس میں وہ ایک معروف پاکستانی داعشی کمانڈر عمر باجوڑی کے ساتھ کسی جگہ موجود ہے۔ عمر باجوڑی وہی شخص تھا جسے ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو صوبہ کنڑ کی مانوگی تحصیل میں امارت اسلامیہ کے سیکیورٹی دستوں نے ایک داعشی کے ہمراہ ہلاک کیا تھا۔

یہ تصویر، جو ایک معتبر خفیہ ذریعے سے حاصل کی گئی ہے، پاکستان میں موجود داعشی نیٹ ورک کے باہمی روابط، ہم آہنگی اور مشترکہ مقاصد کا روشن ثبوت ہے۔ یہ عینی شواہد پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ان دعوؤں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو وہ اپنے ہاں داعش کی سرگرمیوں کی عدم موجودگی کے متعلق کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، حالیہ ایام میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے حساس اداروں نے متعدد پاکستانی داعشی عناصر کو زندہ گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدہ خوارج نے نہ صرف داعش کے ڈھانچے، ذمہ داریوں اور مراکز کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں، بلکہ اپنے اعترافات میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ انہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے مالی مدد، سازوسامان اور تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ ان کے یہ انکشافات اُن مسلسل شواہد کا حصہ ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان، داعش کے ذریعے افغانستان اور خطے کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

ایسی صورتحال میں کہ افغانستان میں داعش کو امارتِ اسلامیہ کی جانب سے سخت اور مسلسل کارروائیوں کا سامنا ہے، پاکستان اس گروہ کو ازسرِنو منظم ہونے اور دوبارہ فعال ہونے کے لیے ماحول فراہم کر رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں، اقوامِ متحدہ، ہمسایہ ممالک اور علاقائی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان کی سرزمین داعش کے لیے فعالیت، پناہ اور سازشوں کی تیاری کا مرکز بن چکی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان سے اس گروہ کے مکمل خاتمے کا حساب لے اور اسے اپنی دوغلی پالیسی کا جواب دہ ٹھہرائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا ایک بار پھر ایسے خونی سانحے سے دوچار ہوسکتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔

Exit mobile version