امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران پڑوسی ملک پاکستان کے موجودہ نظام کے حوالے سے کچھ اہم نکات کی طرف اشارہ کیا، جنہوں نے پاکستانی عوام میں گہری دراڑیں اور بحثیں پیدا کی ہیں۔ لیکن چونکہ وہاں آزادیِ رائے صرف نام کی ہے اور حکومتی پالیسیوں اور ناکامیوں پر تنقید سر کی قیمت پر منتج ہوتی ہے، اس لیے کوئی بھی ان تلخ حقائق کا ذکر کرنے کی جرات نہیں کرتا۔
شاید پاکستان کی نام نہاد سویلین حکومت اور فوجی حکام کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ اب ان کی خفیہ سازشیں اور مالی وسائل کے غیر قانونی ذرائع چھپائے نہیں جا سکتے، نہ ہی خارجہ پالیسی کا لبادہ انہیں چھپا سکتا ہے اور نہ ہی افغانستان کے موجودہ نظام پر تنقید یا فرضی سرحد کے اس پار حملوں سے یہ مسائل دبائے جا سکتے ہیں۔
محترم مجاہد صاحب نے واضح لفظوں میں کہا کہ پاکستان کے عام شہری اور حکومت کے کچھ سویلین حامی عہدیدار کبھی بھی افغانستان کا برا نہیں چاہتے، لیکن فوج میں ایک مقتدر اور طاقتور گروہ اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کے لیے پاکستان کے نام کو بدنام اور قربان کرنا چاہتا ہے۔ ان حقائق کے آثار اب کسی سے چھپے نہیں ہیں، خاص طور پر فرضی لائن کے گرد حملوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے سخت جوابی اور دفاعی حملوں نے فوج کی شرپسند چہرے کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔
*عاصم منیر کی خودسری:*
پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے، جس نے اپنے لیے قاری، حافظ اور نام نہاد سید کے جعلی القابات بھی اپنا رکھے ہیں، اپنے مخصوص فوجی ساتھیوں کی مدد سے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس نے اپنے عوام کی امنگوں اور خواہشات، ہمسائیگی کے اصولوں اور تمام تر اس طرح کے ضابطوں کو بھلا دیا ہے جو ان کے بقول ایک جمہوری حکومت اور جمہوریت کے لیے بنائے گئے ہیں۔
منیر کی فوجی اور استخباراتی ٹولی نے ملک کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا اور زبردستی عاصم کو شہرت دینے کے لیے بھارت سے ہاری ہوئی جنگ میں فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کیا، جو کہ مضحکہ خیز ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ میں لابنگ اور پھر مصر کی کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کے چاپلوسانہ انداز نے پاکستان کو عوامی ذہنوں میں مزید تنہا اور بدنام کر دیا۔
*عوامی ناراضگی:*
اس وقت پاکستان میں وسیع پیمانے پر ردعمل دیکھنے میں آئے ہیں۔ پاکستانی شرپسند فوج کے افغان سرزمین اور عام شہریوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور بارہا مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ جھگڑوں سے آگے بڑھے اور اپنے اندرونی مسائل حل کرے۔ لیکن پاکستانی فوج نے اس مطالبے کو پاؤں تلے روند دیا اور عوام کی آواز کو خاموش کر دیا۔ وہ ان فوجیوں کی لاشوں اور تباہیوں کی وضاحت بھی نہیں کر سکتے جو افغان فورسز کے جوابی اور دفاعی حملوں میں مارے گئے ہیں۔
*داعشی منصوبہ:*
پاکستانی فوج، جو ہمیشہ گروہوں کی تربیت اور حفاظت کے ذریعے اپنے اسٹریٹجک مقاصد پورے کرتی ہے، اب ایک بار پھر عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور اورکزئی اور دیگر علاقوں میں داعشی خوارج کو پناہ دیتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ ایک بار پھر عالمی سطح پر لین دین کرے گی اور اپنے ہاتھوں تربیت یافتہ خوارج کو عالمی خطرے کے طور پر پیش کرے گی۔ حتیٰ کہ کئی بار یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ خوارج افغانستان سے آتے ہیں، حالانکہ افغانستان میں داعشی خوارج سمیت کوئی بھی غیر ملکی استخباراتی گروہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ پاکستانی فوج ہی ہے جو ایسی خطرناک منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی ہے۔
*ٹی ٹی پی کے مقابلے میں بے بسی:*
یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اس وقت پاکستانی فوجی حکومت کے لیے سب سے بڑا سر درد بن چکی ہے، اور اس کے وجود کی وجہ پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں فوج کے بے مثال ظلم اور ناانصافیوں سے پھوٹتی ہے۔ ٹی ٹی پی کے جنگجو قبائلی علاقوں میں کھلے عام سرگرمیاں رکھتے ہیں، ہر روز فوجی مراکز اور اہداف پر کامیاب حملے کرتے ہیں، یہاں تک کہ دیگر پاکستانی ملیشیا ان سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور ایک طرح سے ان کی فوجی صلاحیت امریکہ اور یورپی ممالک کے سامنے سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اسی لیے بار بار یہ بہانہ پیش کیا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے ان پر حملے کرتی ہے اور وہاں امارت اسلامیہ کی حمایت حاصل ہے۔
لیکن پاکستان اب تک اس کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔ اسے اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا چاہیے اور ٹی ٹی پی کو افغانستان سے باہر ایک مقامی حقیقت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔
*منشیات اور غیر قانونی کاروبار:*
پاکستانی فوج کا شرپسند اور طاقتور گروہ اپنے کاروبار بھی چلاتا ہے۔ انہوں نے اکثر یورپی ممالک اور امریکہ کی شہریت بھی حاصل کر لی ہے تاکہ مشکل وقت یا ریٹائرمنٹ کے بعد وہاں جا کر رہ سکیں۔ خوارجی گروہوں کی حفاظت اور تربیت کے ساتھ ساتھ، انہوں نے اپنی سرزمین پر منشیات، اسمگلنگ اور اغوا کے ایک جال کو بھی پھیلا رکھا ہے، جس سے وہ لاکھوں ڈالر کماتے ہیں اور پھر اسے کالے دھن کے طور پر اپنے کاروباروں میں لگاتے ہیں۔
مذکورہ بالا مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ یہ فوجی گروہ موجودہ عالمی جائز سیاست اور طریقہ کار میں پڑوسیوں کے ساتھ اصولی تعلقات رکھ سکے۔ نہ وہ بات چیت اور سیاست کی زبان سمجھتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کو خطے اور عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر منوا سکتے ہیں۔ پاکستان کی اس طرح کی سیاست کی مشروعیت ہر گزرتے دن کے ساتھ سوالات کی زد میں ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازعات نے واضح کر دیا کہ افغانستان کو فوجی طاقت یا دھمکیوں کی زبان سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کا جواب طاقت سے دیا جائے گا اور امارت اسلامیہ کو ایسی عوامی حمایت اور مشروعیت حاصل ہے کہ ہر شہری رضاکارانہ طور پر اس جدوجہد میں شامل ہوتا ہے اور اپنی ہر انچ زمین اور ہم وطنوں کا دفاع کرتا ہے۔
افغانستان ایک اچھے پڑوسی کے طور پر پاکستان کی مشروعیت اور وقار کا معاملہ اٹھاتا ہے اور ہمیشہ یہ تجویز پیش کی ہے کہ دھوکوں اور دھمکیوں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ افغانوں کے پاس ایک طاقتور اور مقابلہ کرنے والا نظام ہے اور وہ پہلی بار ایک ایسی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جو اپنی ترجیحات کو کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کرتی۔
بہتر ہوگا کہ پاکستانی فوج کا اس مخصوص گروہ کے کرتا دھرتا اپنے ملک کو مزید بدنام نہ کریں اور نہ ہی اپنے عوام کے لیے پڑوسیوں اور علاقائی ممالک کی دشمنی کو تاریخی ورثے کے طور پر چھوڑیں۔ بلکہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنے وقار اور عالمی جغرافیہ میں اپنے مستقبل کے وجود پر غور کریں۔ اس کے علاوہ، اپنی فوج کو واقعی قومی فوج بنائیں، عوام اور سرزمین کی حفاظت کریں، اور اسے عالمی سطح پر کرائے کے قاتلوں یا اجارہ داروں کے طور پر پیش نہ کریں۔ ورنہ بھارت اور بنگلہ دیش کے پاکستانی فوج کے ماضی کے تجربات دوبارہ دہرائے جا سکتے ہیں۔

