قدیم زمانے سے کہاوت چلی آرہی ہے کہ ’’پہلے دیکھو کہ قدم کہاں رکھنا ہے، پھر قدم رکھو‘‘ کے مصداق آج پاکستانی ریاست نے اپنے ملک میں داخلی کنٹرول کھو دیا ہے اور اپنے عوام کے تحفظ اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ حکومت نے اپنے عوام پر اتنا ظلم ڈھایا ہے کہ ہر لمحہ وہ اپنے ظالم نظام کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر، بلوچ قوم، جو پاکستان کے بڑی قوموں میں سے ایک ہے، آج ریاست پاکستان کے غیر انسانی سلوک اور ظلم کے سبب بغاوت پر مجبور ہے۔ ہم آئے روز بلوچ اور حکومت وریاست کے درمیان جھڑپیں دیکھتے ہیں۔ یہ قوم شدید اقتصادی محرومی کا شکار ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے علاقے میں قدرتی وسائل جیسے گیس اور معدنیات وافر مقدار میں موجود ہیں، مگر یہ دولت ان کے فائدے کے بجائے ریاست اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے اور بلوچ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
پاکستانی ریاست ان کی آواز دباتی ہے، شہری اور سیاسی کارکنان کو گرفتار کرتی ہے یا انہیں غائب کر دیتی ہے۔ ثقافتی شناخت کے حوالے سے بھی بے اعتنائی برتی جارہی ہے؛ یہ قوم اپنی زبان، ثقافت اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ دیگر قومیں، جیسے پشتون، بھی موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں اور ایک عرصے سے اپنے قابض اور ظالم نظام کے بے شمار جرائم اور مظالم کا شکار رہی ہے۔
پشتون علاقوں میں کیے جانے والے فوجی آپریشنز محض تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خاتمے کے لیے نہیں ہوتے؛ بلکہ بعض اوقات یہ ’’پشتون‘‘ قوم کو ہی دبانے اور ختم کرنے کی نیت سے بھی کئے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ پشتون آبادی والے علاقوں میں سکیورٹی کارروائیاں جانی و مالی نقصان کے علاوہ علاقہ بدری کا سبب بنے ہیں کہ اب پوری قوم اس ظالم نظام کے خلاف اٹھ کھڑی ہونے پر مجبور ہو گئی ہے۔
وہ عوامی تحریک جو تشدد اور بلاجواز گرفتاریوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی تھی، اب اعلان کرچکی ہے کہ وہ اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی جب تک یہ ظلم و زیادتی ختم نہ ہوجائے۔
آج میڈیا میں پشتونوں کا منفی امیج پیش کیا جاتا ہے اور قومی سطح پر ان کی قدر و منزلت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ خلاصہ یہ کہ دیگر اقلیتیں جیسے سندھی، گلگتی وغیرہ بھی مقامی وسائل کے غیر عادلانہ تقسیم کی مخالفت اور خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
یہی حکومت، جس کے بارے میں عام رائے بنتی جا رہی ہے کہ وہ اپنے عوام اور رعایا پر روز بروز ظلم، ظلم و ستم اور بے رحمی مسلط کر رہی ہے اور جس کی ملک میں سکیورٹی قائم رکھنے کی نااہلی سب پر ظاہر ہو چکی ہے، متعدد دیگر چیلنجز اور مسائل میں گھری ہوئی ہے؛ اب وہ افغانستان کے نام پر ایک آزاد، بہادر اور مجاہد قوم میں مداخلت کر رہی ہے، اور اپنی تمام رسوائیاں اور کمزوریاں اسی قوم کے سر ڈال کر دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم اس ظالم رجیم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’’جو راستہ تم نے اپنایا ہے وہ ترکستان کی طرف جاتا ہے‘‘ کبھی بھی افغانستان کے آزاد منش، شہداء کے وارثین اور مجاہد عوام کے خلاف اپنے ناکام تجربات دہرانے کی کوشش نہ کرنا، کیونکہ اس کا انجام رسوائی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

