Site icon المرصاد

کابل میں زیرِ علاج نشے کے عادی نہتے افراد پر حملہ؛ انسانیت کے خلاف ایک ناقابلِ معافی جرم!

جب دنیا کے تمام مسلمان رمضان المبارک کی مقدس راتوں اور دنوں میں عبادت، صبر اور آپس میں رحم، عفو و درگزر کے دروس سیکھ رہے ہیں، وہ مہینہ جو ہمیں رحمت، بخشش، تحمل اور انسانیت کا درس دیتا ہے، افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان کی حکمران فوجی اشرافیہ بالکل اسی راستے پر چل رہی ہے جو صہیونی رجیم نے اختیار کررکھا ہے۔ کابل کی تعمیر، خوبصورتی اور شان و شوکت کو وہ برداشت نہیں کر سکتے اور چاہتے ہیں کہ کابل کو دوبارہ فلسطینی غزہ کی مانند تباہ و برباد کر دیں، اور کم از کم پچھلی بار کی طرح ایک بار پھر اس شہر کو ویرانی اور ملبے کی علامت بنا دیں۔

اسی جنگی جرم کے تسلسل میں، دو دن قبل کابل میں ایک دل دہلا دینے والا اور غمگین واقعہ پیش آیا، جس نے نہ صرف افغانستان کے عوام، حکام اور امارتِ اسلامیہ کی قیادت بلکہ ہر بیدار ضمیر رکھنے والے انسان کو گہرا دکھ پہنچایا۔ یہ ظالمانہ حملہ ان نشے کے عادی افراد پر کیا گیا، جو پہلے ہی معاشرے کے سب سے کمزور، بے بس اور نظرانداز کیے جانے والے طبقے میں شمار ہوتے تھے؛ وہ نہتے لوگ جو نہ کسی ہتھیار کے مالک ہیں، نہ دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں، اور نہ ہی کسی جنگ کا حصہ ہیں۔

اس خونریز واقعے کے نتیجے میں سیکڑوں مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور درجنوں زخمی ہوئے، یہ حملہ انسانی اقدار کے خلاف ایک سنگین جرم کہلایا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے حملے، جو پاکستان کی حکمران عسکری اشرافیہ کی جانب سے کیے جاتے ہیں، انسانی اقدار کے خلاف ایک واضح اور سنگین حملہ ہیں۔ جب جنگ کی آگ صرف مسلح افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے کے سب سے کمزور، بے بس اور بھولے ہوئے لوگوں کو نشانہ بناتی ہے، تو یہ حالت عام جنگ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کہلائی جاتی ہے۔ ایسی کارروائیاں انسانیت کے بنیادی اصولوں کے ساتھ کھلا تضاد رکھتی ہیں اور اس کے لیے کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے حملے جو عام شہریوں اور مظلوم طبقے پر کیے جاتے ہیں، تاریخ میں بڑے جنگی جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔

یہ حملہ کبھی بھی ایک حادثاتی وار نہیں تھا، بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی اور سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ تھا، جو امریکی حکمرانوں کی طرف سے اپنے مقرر کردہ ایجنٹ کے ذریعے انجام دیا گیا، تاکہ افغانستان کے مومن عوام اور امارتِ اسلامیہ کے ذمہ داران پر سیاسی دباؤ ڈالیں اور انہیں مشکلات میں مبتلا کریں۔ وہ فوجی حکمران حلقہ، جو برسوں سے خطے کے امور میں مداخلت کر رہا ہے، یہ سمجھ لے کہ معصوم انسانوں کا خون بہانا نہ صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ نفرت، عدم اعتماد اور نہ ختم ہونے والے تنازعات کے شعلوں کو مزید بھڑکادیتا ہے۔

پاکستان کا عسکری ڈھانچہ ان بدعنوان جنرلوں اور کرنلوں پر مشتمل ہے، جو حکمت عملی کے پردے تلے ایسی کارروائیوں کو جائز قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں خطے کے استحکام اور انسانی اقدار کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بدنام زمانہ اور فساد انگیز جنرلز اب بھی طاقت، دباؤ اور خونریزی کی پالیسی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تاریخ کبھی ظلم اور ظالمانہ فیصلوں کو جواز نہیں بخشتی۔ ان کے کیے گئے جرائم کا ہر لمحہ اور ہر ذرہ انصاف کے ترازو میں رکھا جائے گا، اور ضمیر و انصاف کی عدالت بغیر کسی رعایت کے ان کا محاسبہ کرے گی۔

عالمی برادری، انسانی حقوق کے ادارے اور خطے کے ممالک اس طرح کے دل دہلا دینے والے جرائم کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے۔ ضروری ہے کہ ان واقعات کی گہرائی اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے، کیونکہ ایسا ظلم ہمیشہ مزید آفات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یاد رکھیں کہ افغانستان کی سرزمین وہ باعزت اور سر بلند قوم پیدا کر چکی ہے، جس نے طاقت اور جارحیت کی منطق کے سامنے طویل اور مضبوط تجربہ حاصل کیا؛ وہ قوم جس نے اپنے آبا و اجداد کے دور میں انگریزی استعمار کو شکست دی، والدین نے سوویت حملے کو ناکام بنایا اور پوتوں نے امریکہ جیسی طاقتور سلطنت کی بنیادوں کو لرزا دیا۔

Exit mobile version