پچھلی قسط میں ہم نے پڑھا تھا کہ امتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اصل دشمن کو پہچانے۔ لیکن یہ پہچان اسی وقت ممکن ہے جب ہم اُن صفات، افکار اور فکري آفات کا مطالعہ کریں جو صہیونیت کے فاسد نظریات اور تلمود کی خطرناک تعلیمات سے کشید کی گئی ہیں۔ اسی لیے ہم یہاں یہود کی مخصوص صفات اور افکار منظم انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
۱۔ تعصب اور نسلی برتری
یہود بالخصوص صہیون ازم کی پہلی صفت تعصب، نسل پرستی اور نسل برتری ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
} وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى{
ترجمہ: اور اہل کتاب نے کہا: ہرگز جنت میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو یہودی ہو یاعیسائی۔
مفسرین رحمہم اللہ لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہود کی طبیعت، بنیاد اور ان کے رگ وریشے میں نسلی برتری، تعصب اور خود پسندی موجود ہے، حتیٰ کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسری قوم کو جنت کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔
اس حوالے سے ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے مدینے کے یہودی اوس اور خزرج قبائل کو ہر وقت یہ بات کہتے تھے کہ بہت جلد نبی آخرالزمان مبعوث ہوں گے اور ہم ان کے ساتھ مل کر تم (مشرکین) سے جنگ کریں گے، تمہیں قوم عاد اور قوم ارم کی طرح ختم کردیں گے۔
لیکن جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے، خود انہی یہودی قبائل نے ان کی مخالفت کرڈالی، کیونکہ ان کا یقین تھا کہ نبی آخرالزمان بنی اسرائیل میں مبعوث ہوں گے، لیکن جب آپﷺ بنی اسماعیل میں مبعوث ہوئے تو یہود کو اپنی نسل پرستی اور قومی تعصب نے مجبور کیا کہ وہ آپﷺ پر ایمان لانے سے منکر ہوگئے۔
تلمود، جسے بعض یہودی حلقے تورات کی طرح بلکہ بعض اوقات اس سے بھی برتر سمجھتے ہیں، میں ایسی تعلیمات مذکور ہیں جن سے نسلی برتری کے مخصوص تصورات کو تقویت ملتی ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہودیت ایک منفرد مذہب ہے، تورات صرف ان کے لیے نازل کی گئی کتاب ہے، اور خدا ’’بنی اسرائیل‘‘ کے لیے ایک خاص رب ہے۔
اس کے برعکس قرآنِ عظیم الشان بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ «رَبُّ كُلِّ شَيْء»، «رَبُّ العٰلَمِين» اور «رَبُّ النَّاس» ہے یعنی وہ تمام کائنات کا پروردگار ہے، کسی ایک مخصوص قوم کا رب نہیں۔
یہودی روایتی فکر میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ اور منتخب لوگ ہیں۔ یہ تصور اس وقت درست تھا جب وہ توحید کے علمبردار، بت پرستی کے منکر، اور اللہ و رسولوں کے اطاعت گزار تھے۔ لیکن جب وہ انحراف کا شکار ہوئے، اخلاقی اصولوں سے دور گئے، اور انبیاء کی دعوت کی مخالفت اختیار کرڈالی، تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے بارے میں اپنا حکم و معاملہ تبدیل فرمایا۔
یہودیت اور صہیونیت اس لیے خطرناک ہیں کہ ان میں تعصب، نسلی برتری اور خود پسندی جیسے سخت اور تند افکار راسخ ہیں۔ یہ خطرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین اور ہمہ گیر خطرہ شمار ہوتا ہے۔
حَنا مسعد، جو ایک مسیحی محقق اور مصنف ہیں، یہودی اور صہیونی فکر میں پوشیده تعصب پر گہری تحقیق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب’’همجية التعاليم الصهيونية‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہودیوں کے نزدیک خدا بھی گویا ایک نسلی خدا ہے، اور صہیونی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معبود صرف یہود کا معبود ہے۔ اسی لیے وہ مستقل طور پر ’’إلہ إسرائيل‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہودیت اور صہیونیت کی بنیاد ہی نسلی تعصب پر رکھی گئی ہے، تو ان کے ہاں یہ نظریہ بھی ملتا ہے کہ ایک یہودی کا دوسرے یہودی کو قتل کرنا جائز نہیں، مگر دوسرے اقوام کے لوگوں خصوصاً کنعانیوں اور فلسطینیوں کو قتل کرنا واجب سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ یہ دعویٰ تک کرتے ہیں کہ جنگ کے بعد اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لینا چاہیے اور ان کے مال و دولت کو لوٹ کر اپنے قبضے میں لے لینا چاہیے۔




















































