یہود کی صفات کے سلسلے میں اس حصے میں ہم ان کی ایک اور صفت کی وضاحت کریں گے۔
۸- حق کو چھپانا (کتمانِ حق)
حق کو چھپانا (کتمانِ حق) یہود کی ان نہایت بری صفات میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم الشان میں بار بار ذکر فرمایا ہے۔ اللہ جل جلالہ نے بنی اسرائیل کے اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح فرمایا ہے کہ حق چاہے جتنا بھی چھپا لیا جائے، اللہ تعالیٰ اسے لازماً ظاہر کر دیتا ہے۔
اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
﴿وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴾ (البقرۃ: 72)
ترجمہ: اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام ڈالنے لگے، حالانکہ اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ کی صفات، نشانیاں اور بشارتیں یہود کی آسمانی کتابوں میں واضح طور پر موجود تھیں، لیکن ان کے بہت سے علماء اور سرداروں نے ان حقائق کو چھپا لیا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، پھر بھی انہوں نے اس حقیقت کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا۔
قرآنِ کریم اس حالت کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَإِذَا جَاؤُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ﴾ (المائدۃ: 61)
ترجمہ: اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے، حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے ہوئے اور اسی کفر کے ساتھ نکل گئے، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔
مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کے علماء کے حق چھپانے کی اصل وجہ دنیا کی طلب تھی۔ انہیں خوف تھا کہ اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر کر دیں گے تو ان کی سرداری، اثر و رسوخ اور وہ مادی فائدے چھن جائیں گے جو انہیں لوگوں کی طرف سے ملتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اللہ کی کتاب کی آیات کو ایک حقیر قیمت کے بدلے بیچ دیا۔
اللہ جل جلالہ قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾
ترجمہ: بے شک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی باتوں کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں (یعنی دنیا کی معمولی منفعت حاصل کرتے ہیں)۔
علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اليهود هم الذين كتموا صفة محمد صلى الله عليه وسلم في كتبهم التي بأيديهم، لئلا تذهب رياستهم وما كانوا يأخذونه من العرب من الهدايا والتحف على تعظيمهم إياهم، فخشوا لعنهم الله إن أظهروا ذلك أن يتبعه الناس ويتركوهم، فكتموا ذلك إبقاء على ما كان يحصل لهم من ذلك، وهو نزر يسير، فباعوا أنفسهم بذلك، واعتاضوا عن الهدى واتباع الحق وتصديق الرسول والإيمان بما جاء عن الله بذلك النزر اليسير، فخابوا وخسروا في الدنيا والآخرة.
“یہود وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو اپنی کتابوں میں، جو ان کے پاس تھیں اور آپ کی رسالت و نبوت پر گواہی دیتی تھیں، چھپا لیا، تاکہ ان کی سرداری باقی رہے اور وہ تحفے اور ہدایا ختم نہ ہوں جو عرب لوگ ان کے احترام کے بدلے دیتے تھے۔ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ اس حق کو ظاہر کریں گے تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے، اس لیے انہوں نے اس حق کو چھپا لیا تاکہ وہ معمولی دنیاوی فائدہ باقی رہے جو انہیں حاصل ہو رہا تھا۔ اسی حقیر فائدے کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا، اور ہدایت، حق کی پیروی، رسول کی تصدیق اور اللہ کی طرف سے آنے والی باتوں پر ایمان لانے کے بجائے اسی قلیل دنیاوی منفعت کو اختیار کیا۔ چنانچہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکام اور خسارے میں رہے۔”
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم چھپانے کے بارے میں فرمایا:
«مَنْ كَتَمَ عِلْمًا أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (ابو داؤد)
ترجمہ: جو شخص علم کو چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔
خلاصہ یہ کہ حق کو چھپانا ایک نہایت بری صفت ہے جس میں یہود مبتلا تھے اور ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس مذموم عمل سے بچانے کی کوشش کرے۔




















































