افغانستان کی تاریخ کے اوراق قربانیوں اور فدا کاریوں سے مزین ہیں، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ عیسوی اور ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی کا دن ایک ایسا باب بن کر ثبت ہوا جس نے آزادی، ایمان اور عزت کا ڈنکا پوری دنیا میں بجا دیا۔ یہ وہ دن تھا جب امارتِ اسلامی کے مجاہدین نے بیس سالہ جہاد کا آخری ثمر حاصل کیا اور کفر کے تسلط کا آخری قلعہ، قصرِ کابل سے اکھاڑ پھینکا۔
یہ دن محض ایک سیاسی کامیابی نہیں تھا، بلکہ ان لاکھوں شہداء کے خواب کی تعبیر تھا جنہوں نے اللہ کے کلمے کی سربلندی اور وطن کی آزادی کے لیے اپنے سروں کو شہادت کے تاج سے آراستہ کیا۔ ہر گلی، ہر وادی اور ہر پہاڑ کی آغوش ان قربانیوں کی گواہ ہے۔ امارتِ اسلامی کے مجاہدین نے ایمان کی تلوار، صبر کی ڈھال اور توکل کی زرہ پہن کر ایسی جنگ لڑی کہ دنیا حیران رہ گئی۔
جدید ٹینکوں، بمباری اور ٹیکنالوجی کے مقابل انہوں نے تکبیر اور جہاد کی صدا بلند کی اور یہ ثابت کیا کہ جب اللہ کسی قوم کا مددگار ہو تو کوئی طاقت اُسے مغلوب نہیں کر سکتی۔ ۲۴ اسد کو کابل کی فضا تکبیروں کی گونج سے لرز اٹھی، آزادی کے لہراتے پرچم عوام کے آنسوؤں، مسکراہٹوں اور تکبیروں سے رنگین ہو گئے۔ یہ دن امید کا دن تھا، ذلت کی زنجیروں سے نجات کا دن، اور اسلامی حاکمیت کی تجدید کا دن تھا۔
یہ کامیابی ایک دن کا معجزہ نہیں تھی، بلکہ بیس برس کے طویل اور صبر آزما سفر کا نتیجہ تھی۔ وہ سفر جس میں مجاہدین نے برف پوش پہاڑوں پر راتیں گزاریں، دشمن کے حملوں اور بمباری کے سامنے ڈٹے رہے، بھوک، پیاس اور بے سروسامانی کے باوجود ایمان کے مورچے کو نہ چھوڑا۔
ان کی قربانیاں صرف محاذِ جنگ تک محدود نہ تھیں، بلکہ وہ عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو ڈھال بناتے، عزتوں کی نگہبانی کرتے، یتیموں کی کفالت کرتے اور شہداء کے خاندانوں کو اپنا حصہ سمجھتے۔ ان کی یہی قربانیاں اور اخلاق ملت کے دلوں کو ان سے جوڑ گئے۔ شہادت کی داستانیں اس سفر کے سب سے روشن ابواب ہیں، وہ نوجوان جو نکاح سے پہلے محاذ پر دوڑ پڑے، وہ باپ جو بیٹے کی میّت پر کہتا: ’’الحمدللہ! میرا بیٹا اللہ کی راہ میں شہید ہوا‘‘ یہ سب اس کامیابی کی بنیادیں ہیں۔
۲۴ اسد کو افغانستان ایک بار پھر اسلامی حاکمیت کے سایے میں آ گیا۔ یہ دن وطن کی آزادی اور امت کی عزت کی علامت بن گیا، اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر ایک قوم یکجان ہو جائے تو دنیا کا سب سے طاقتور جارح بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ امارتِ اسلامی کی واپسی محض جغرافیے کی آزادی نہیں تھی، بلکہ عقیدے، ثقافت اور اقدار کی حفاظت بھی تھی۔ یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاد صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں، بلکہ صبر، حکمت اور اتحاد و اتفاق کا نام ہے۔
آج جب ہم ۲۴ اسد کی سالگرہ مناتے ہیں، تو ہمیں ان تمام قربانیوں اور دعاؤں کی قدر کرنی چاہیے جو اس دن کے آنے کا سبب بنیں۔ ہمیں وحدت، خدمت اور ایمان کی راہ پر ثابت قدم رہنا ہے تاکہ اس عظیم انقلاب کی کامیابیاں ہمیشہ قائم و دائم رہیں۔

