ابو عبیدہ وہ نقاب پوش تھا جو سات اکتوبر کے بعد خبروں اور میڈیا کی سرخی بن گیا؛ ایسا نقاب پوش شخص کہ جس کا ہر لفظ اس اُمت کے زخم خوردہ دلوں کے لیے مرہم اور دشمنوں کے سینوں میں زہریلا تیر تھا۔ وہ چھپے چہرے کے ساتھ سامنے آیا، مگر اس نے بہت سے چہروں سے نقاب اُتار دیے۔
ابو عبیدہ نے ۲ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو جبالیہ کیمپ کی مسجد النور میں قسام کے ترجمان کی حیثیت سے اپنی پہلی تقریر اس خوبصورت جملے پر ختم کی: «وَإِنَّهُ لَجِهَادٌ، نَصْرٌ أَوِ اسْتِشْهَادٌ»۔
یہ ایک ایسا فقرہ تھا جس کی ہر تکرار میں گہرا مفہوم پوشیدہ تھا؛ اس مقدس راستے کا انجام صرف دو ہی صورتوں میں سمٹتا ہے، فتح یا شہادت؛ اور دونوں ہی صورتوں میں مؤمن کے لیے کامیابی ہے۔
چونکہ صہیونی نظام ابو عبیدہ کی گفتگو کے گہرے اثرات سے بے خبر نہ تھا، اس لیے اس نے اپنی سکیورٹی اور عسکری تدابیر کی فہرست میں اسے نشانہ بنانا سرِفہرست رکھا۔ مختلف دھمکیوں سے لے کر اس کی اصل شناخت تک پہنچنے کی کوششوں، سائبر حملوں اور نفسیاتی جنگوں تک؛ ان سب نے یہ حقیقت آشکارا کی کہ صہیونی دشمن سب سے بڑھ کر ’’کلمے‘‘ سے ڈرتا ہے؛ وہ کلمہ جو الہام بخشتا ہے، بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور جنگ کی مساوات بدل دیتا ہے۔
یہ نہ تھکنے والی کوششیں بالآخر بے نتیجہ نہ رہیں، اور ۳۰ اگست ۲۰۲۵ء کو غزہ شہر کے علاقے الرمال میں ایک عمارت پر فضائی حملے کے دوران ابو عبیدہ شہید ہو گئے۔ مگر نقاب کے پیچھے یہ شخص؛ وہ بشارت آمیز آواز جو مسلمانوں کے لیے امید کا پیغام اور صہیونیوں اور ان کے اتحادیوں کے دلوں میں لرزہ طاری کرتی تھی، آخر کون تھا؟
حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت، جو ابو عبیدہ اور ابو ابراہیم کے ناموں سے معروف تھے، فلسطینی جہاد کی نمایاں ترین میڈیا شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے، خصوصاً سات اکتوبر کے بعد۔ وہ ہمیشہ سرخ رومال اور فوجی لباس میں نمودار ہوتے اور اپنی شناخت عوام سے مخفی رکھتے۔ ان کی پیدائش ۱۱ فروری ۱۹۸۵ء کو غزہ کی پٹی میں ہوئی۔ ان کا خاندان نِیلیا گاؤں سے تعلق رکھتا تھا، جو ۱۹۴۸ء کی جنگ کے دوران بے گھر ہوا اور غزہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جبالیہ کیمپ اور غزہ کے دیگر علاقوں میں بسر کیا۔
ابو عبیدہ قسام کی میڈیا سرگرمیوں کے ابتدائی دور ہی میں منظرِ عام پر آ گئے اور بہت کم عرصے میں قسام کی توانا آواز بن گئے۔ میڈیا میں ان کی باضابطہ اور علانیہ حاضری کا آغاز ۲ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو مسجد النور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے ہوا، جہاں ’’ایّامُ الغَضَب‘‘ کے آپریشنز کے اعلان نے ان کے کردار کو نمایاں کر دیا۔
اس کے بعد ان کی ذمہ داریاں مزید وسیع ہوتی گئیں، میڈیا شعبے کی نگرانی، قسام کی نفسیاتی اور سائبر جنگ، بیانات کی اشاعت، آپریشنز کی ویڈیوز، اور قیدیوں و دھمکیوں سے متعلق اعلانات۔
برسہا برس تک اپنی گونجدار آواز اور تدبیر سے پُر پیغامات کے ساتھ انہوں نے فلسطینی جدوجہد کے متعدد اہم مراحل میں نمایاں کردار ادا کیا؛ ’’ٹوٹا ہوا وہم‘‘ کے آپریشن کے اعلان سے لے کر گلعاد شالیت کی گرفتاری، مغربی کنارے کے الحاقی منصوبے پر کلیدی موقف، ۲۰۲۱ء کی جھڑپوں کے دوران اختیار کیے گئے مؤثر بیانات، اور ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے ’’طوفانُ الاقصیٰ‘‘ آپریشن میں ان کی مرکزی شمولیت تک۔
اس حقیقت نے باطل نعروں سے کھڑی کی گئی دیوار کو اور بھی لرزا دیا کہ ابو عبیدہ ۲۰۰۷ء سے امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کا سامنا کرتے رہے؛ صرف اس لیے کہ وہ اپنی اُس مظلوم قوم کے درد اور اذیت کی ترجمانی کر رہے تھے جو صہیونی نظام کے ظلم و جرائم کے باعث برسوں سے اسیری میں ہے؛ وہی قوتیں جو آزادیٔ اظہار کے بلند دعووں سے دنیا کو بیوقوف بنائے رکھی ہیں۔
ایسے وقت میں جب اسلامی اُمت ان کی بشارت آمیز آواز کو دوبارہ سننے کی منتظر تھی، صہیونی نظام نے ایک فضائی حملے میں فلسطینی جدوجہد کی نمایاں میڈیا شخصیات میں سے ایک کو نشانہ بنایا۔ یہ اقدام اگرچہ قسام کے میڈیا ڈھانچے پر ایک ضرب تھا، مگر مجاہدین کے عزم اور سمت کو روک نہ سکا۔
ہاں! ابو عبیدہ ۳۰ اگست ۲۰۲۵ء کو الرمال میں ایک فضائی حملے کے دوران شہید ہوئے۔ اگرچہ اس وقت قسام بریگیڈز نے خاموشی اختیار کی، لیکن اسی سال ۲۹ دسمبر کو انہوں نے باضابطہ طور پر ان کی شہادت، ان کا حقیقی نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت اور لقب ابو ابراہیم کی تصدیق کر دی۔
اگرچہ صہیونی نظام بے شمار کوششوں کے بعد ابو عبیدہ کی آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب ہوا، مگر اس اُمت میں جیسا کہ خود ابو عبیدہ کہا کرتے تھے: ایک کمانڈر کی جگہ کئی کمانڈر، ایک سپاہی کی جگہ دس سپاہی، اور ایک شہید کی جگہ ہزاروں مجاہدین کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ سرزمین مجاہدین کو اسی طرح جنم دیتی ہے، جیسے زیتون کے درخت پھلتے پھولتے ہیں۔




















































