دنیا میں دو قسم کے نظام رائج ہیں۔ پہلا وہ نظام جو انسانی عقل اور فکر کا نتیجہ ہے۔ اس قسم کے نظام انسان خود وضع کرتے ہیں، جیسا کہ معاصر معاشروں میں دانشور اور سیاست دان مل بیٹھ کر عوام کے لیے قوانین بناتے ہیں۔ لیکن یہ قوانین انسانی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں اور آسانی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ عبدالقادر عودہ رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب المال والحکم فی الاسلام میں لکھا:
القوانين والانظمة التی یضعها البشر قابلة للتبديل، والتعديل، والالغاء اذا ما قضت بذالک اهواء البشر
ترجمہ: وہ قوانین اور نظام جو انسان وضع کرتے ہیں، ہمیشہ تبدیلی، ترمیم، یا منسوخی کے قابل ہوتے ہیں جب انسانی خواہشات اس کا تقاضہ کریں۔
دوسرا الٰہی نظام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ، کامل، مستقل، عادلانہ، اور انسانی ضروریات کے مطابق ہے۔ یہی الٰہی نظام اسلام کے ذریعے انسانیت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
علامہ عبداللہ طریقی نے اپنی کتاب الامامة فی الاسلام میں لکھا کہ الٰہی نظام ابتدا سے قیامت تک ہر زمانے، ہر جگہ، اور ہر قسم کے لوگوں کے لیے ایک مفید نظام ہے۔ اس میں وقت اور حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں آ سکتا۔
اسلام ایک جامع اور کامل دین ہے، جو نہ صرف فرد کی اصلاح کے لیے ہے، بلکہ معاشرے کی بہتری، انصاف کی فراہمی، امن کے قیام، اور الٰہی نظام کے نفاذ کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا، ہر اسلامی معاشرے پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک اسلامی نظام قائم کرے، کیونکہ اسلام کے عظیم مقاصد ایک عادلانہ اور منظم حکومت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔
اس حقیقت کا بہترین گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے، جنہوں نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت قائم کی۔ اس کے ذریعے انہوں نے انصاف نافذ کیا، اللہ تعالیٰ کی حدود قائم کیں، لوگوں کی تربیت کی، اور الٰہی احکامات کو نافذ کیا۔ یہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اسلام کا نفاذ صرف ایک اسلامی حکومت کے ذریعے ممکن ہے۔
اگر اسلامی حکومت نہ ہو، تو اسلام کے سماجی، تعلیمی، عدالتی، اور عبادتی نظام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ بہت سے ایسے احکامات ہیں جو حکومت کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے، جیسے کہ جہاد، زکوٰۃ، غنائم، قصاص، حدود، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ یہ سب سیاسی اور سماجی احکامات ہیں، نہ کہ صرف انفرادی عبادات۔ انسانی تاریخ میں ہر قوم اپنے سیاسی اور عسکری ڈھانچے کی بدولت زندہ رہی ہے۔ اسی طرح امت مسلمہ کی بقا، سلامتی، اور ترقی بھی اسلامی نظام کے وجود سے وابستہ ہے۔
لہٰذا، اس سلسلے میں ہم اسلامی نظام کے فوائد ایک ایک کر کے بیان کریں گے، تاکہ یہ حقیقت واضح ہو کہ یہ الٰہی نظام انسانیت کے لیے کیوں بہترین حل ہے اور امت کے اتحاد، انصاف، نجات، اور الٰہی رضا کی کنجی کیسے ہے۔




















































