جعلی شریعت (داعش کے مسخ شدہ فقہی ہتھیار کا تجزیہ)
۲- احکام کی فروع میں تحریف
داعش کی مسخ شدہ حکمتِ عملی کا فطری نتیجہ، جس پر گزشتہ اقساط میں بحث ہو چکی ہے، ایسے احکام کا ظہور تھا جن کی ظاہری شکل تو اسلامی تھی، مگر حقیقت میں ان کا اصل اسلامی فقہ سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ یہ احکام نہ صرف اسلامی تاریخ میں بے مثال تھے بلکہ اسلام کی اساسی روح سے بھی کھلم کھلا متصادم تھے، اس روح سے جو دین، جان، عقل، نسل اور مال کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مسخ شدہ احکام منظم تشدد کے جواز اور خوف و ظلم کی بنیاد پر اقتدار کو مضبوط کرنے کے آلات تھے۔
ان احکام کا جائزہ چار بنیادی حصوں میں لیا جا سکتا ہے۔ ان مسخ شدہ احکام میں سب سے پہلا اور سب سے زیادہ خطرناک وسیع اور ہمہ گیر تکفیر تھی۔ اسلامی فقہ کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی مسلمان کو محض گناہ یا فقہی و سیاسی اختلاف کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جاتا۔
اس قاعدے کو یوں بیان کیا گیا ہے:
*«لا نُكفِّرُ أحداً من أهلِ القِبلةِ بذنب»*
یعنی اہلِ قبلہ میں سے کسی کو محض گناہ کی وجہ سے کافر نہیں ٹھہرایا جاتا۔
مگر داعش نے اس اصول کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور “توحید” اور “شرک” کے لیے محدود، خودساختہ اور انتہاپسندانہ تعریفیں پیش کیں، یہاں تک کہ اسلام کے دائرے کو اس قدر تنگ کر دیا کہ اس میں صرف اپنی جماعت ہی کو جگہ دی۔ اس سوچ کے مطابق، وہ تمام مسلمان جو ان کے ہم خیال نہ تھے، مخالف اہلِ سنت، صوفیہ، اسلامی ممالک کے باشندے بلکہ دیگر جہادی گروہ بھی، کافر اور مرتد قرار دیے گئے۔
عملی میدان میں اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ ان تمام لوگوں کا قتل اور ان کے مال کی لوٹ مار کو جائز سمجھا جائے۔ بالفاظِ دیگر، یہ حکم دراصل قتلِ عام اور غارت گری کا مذہبی جواز تھا، جس نے امتِ مسلمہ کے وجود میں سب سے بڑا شگاف ڈالا اور دین کے نام پر مسلمانوں کا خون حلال کیا۔
دوسری تحریف منظم غلامی کا دوبارہ احیا تھی، جو داعش کے اعمال میں شامل رہی۔ عصرِ حاضر میں اسلام کے تمام معتبر علما نے دینی اخلاقی اصولوں اور عالمی تبدیلیوں کی روشنی میں غلامی کو منسوخ اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
لیکن داعش نے اس وسیع فقہی اجماع کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے منظم انداز میں اقلیتوں، بالخصوص یزیدیوں، کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا اور ان کا جنسی استحصال کیا۔ وہ جہاد سے متعلق بعض آیات کو انتخابی طور پر استعمال کرتے، تاریخی پس منظر، حالات اور سیاق و سباق کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کو جواز دیتے تھے۔
حقیقت میں یہ اعمال نسلی اور جنسی تطہیر کی ایک شکل تھے، جن کا مقصد صرف متاثرین کی تذلیل ہی نہیں بلکہ ایک معاشرے کی اجتماعی شناخت کی مکمل تباہی تھا۔ یہ طرزِ عمل رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے سیرت سے صریحاً متصادم تھا، کیونکہ انہوں نے قیدیوں کے ساتھ رحمت اور انسانی وقار کی بنیاد پر سلوک کیا۔
داعش کی تیسری بڑی تحریف انفردی انصاف کے اصول کی منسوخی اور اجتماعی سزاؤں کا نفاذ تھا۔ قرآنِ مجید واضح طور پر فرماتا ہے:
*«وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى»*
(کوئی جان دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔
لیکن داعش نے اس بنیادی اصول کو نظرانداز کیا اور ایک یا چند افراد کے اعمال کے بدلے پورے کے پورے خاندانوں، قبائل یا کسی علاقے کے تمام باشندوں کو سزا دی۔ گھروں کو مسمار کرنا، اجتماعی پھانسیاں اور شہروں کا محاصرہ، یہ سب جاہلیت کے دور کے “قبائلی ذمہ داری” کے رواج کی نشانیاں تھیں، وہ رواج جسے مٹانے کے لیے اسلام آیا تھا۔ یہ پالیسی نہ صرف انصاف کو پامال کرتی تھی بلکہ اسلام کے بنیادی اخلاقی اصولوں سے بھی کھلا ٹکراؤ رکھتی تھی۔
چوتھی علامت، اسلامی تہذیب سے داعش کی گہری بیگانگی کی، تاریخی اور ثقافتی آثار کی منظم تباہی تھی۔ شام میں تاریخی شہر (پالمیرا) کی تباہی، انبیاء و اولیاء کے مزارات اور تاریخی مساجد کا انہدام، کسی بھی معتبر فقہی توجیہ سے محروم تھا۔ یہ تخریب ایک ثقافتی جارحیت تھی، جس کا اصل مقصد لوگوں کی شناخت، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کی ہر علامت کو مٹا دینا تھا تاکہ صرف داعش کا بیانیہ باقی رہ جائے۔ یہ عمل قرونِ اولیٰ کے خلفاء کے طرزِ عمل سے سراسر متصادم تھا، کیونکہ انہوں نے غیر اسلامی عمارتوں تک کو محفوظ رکھا۔
یہ چار بڑی تحریفیں، وسیع تکفیر، غلامی کا احیا، اجتماعی سزائیں اور ثقافتی ورثے کی تباہی، دین کے خالص فہم کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ ایک سیاسی اور عسکری منصوبے کی پیداوار تھیں۔ اس منصوبے میں پہلے سے طے شدہ اہداف، جیسے مخالفین کا خاتمہ، عوام کا کنٹرول، خوف کی فضا قائم کرنا اور قلمرو کی توسیع، کو ترجیح دی گئی، اور پھر انہی مقاصد کے جواز کے لیے دینی نصوص کو انتخابی اور مسخ شدہ انداز میں استعمال کیا گیا۔
اسی لیے ان احکام کو اجتہاد نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ اقتدار کے حصول کے لیے نظریاتی آلات تھے، جن کے ذریعے دین کے نام پر اپنے حقیقی مقاصد کو چھپایا گیا۔ اس میکانزم کو سمجھنا ایسی جماعتوں کے خلاف جدوجہد کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ جدوجہد محض عسکری نہیں بلکہ دین کے اصل اور حقیقی معانی کو بحال کرنا بھی ہے، تاکہ انہیں تحریف کرنے والوں کے چنگل سے آزاد کرایا جا سکے۔




















































