یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے، مگر بہت سے لوگ اس سے آنکھیں چراتے ہیں، اور وہ یہ کہ: کسی قوم کا زوال تلوار کے وار سے نہیں، بلکہ وہم کے ذریعے شروع ہوتا ہے۔ وہ وہم جو پہلے لوگوں کے اذہان کو مسخر کرتا ہے، پھر قلعوں کو گرا دیتا ہے۔ یہ وہم لوگوں کو اس بات پر قائل کر لیتا ہے کہ وقتی مراعات کو دانائی، طاقتور سے صلح کو نجات، اور طاقت کے ذرائع سے دستبردار ہونا ’’خون بہنے سے بچنے‘‘ کی ایک سستی قیمت سمجھا جائے۔
یہ حقیقت ہر سال جنوری کے مہینے میں ہماری یادداشت کو شدید جھنجھوڑ دیتی ہے (1492ء، سقوطِ غرناطہ کی برسی)۔ غرناطہ، عظیم اندلس کا آخری مورچہ تھا۔ یہ واقعہ محض ایک تاریخی ماتم یا تلخ یاد نہیں، جسے ’’ابو عبداللہ الصغیر‘‘ کے آنسوؤں، الحمراء کے بلند و بالا محلات کے چھن جانے، اور ملوک الطوائف کی الم ناک داستان میں سمیٹ دیا جائے؛ بلکہ یہ ایک دائمی اصول ہے، اور وہ یہ کہ: جو قومیں طاقت کے بغیر امن کی ضمانتیں قبول کر لیتی ہیں، وہی امن بالآخر ان کی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس مضمون میں ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح امن کا وہم اور کھوکھلی ضمانتیں اندلس کے ضائع ہونے کا سبب بنیں، اور یہی طریقۂ کار آج غزہ میں اور ایک دوسری صورت میں سوڈان میں کیسے دہرایا جا رہا ہے۔
اوّل: غرناطہ اور ’’جھوٹے معاہدوں‘‘ کا جال
دوم: غزہ اور ’’عالمی ضمانتوں‘‘ کا فریب
سوم: سوڈان اور ’’تقسیم‘‘ کا دام
نتیجہ: فوجی طاقت ہی معاہدوں کی اصل زبان ہے۔
اوّل: غرناطہ اور ’’جھوٹے معاہدوں‘‘ کا جال
وہ تاریخی صفحات، جن پر مسلمان اور مغربی مورخین یک زبان ہیں، جیسے المقری اور پریسکاٹ (Prescott)، ان سب نے دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت کی ہے کہ اندلس کی آٹھ سو سالہ بقا بلند و بالا محلات یا محض علمی ترقی کی وجہ سے نہیں تھی؛ بلکہ اس لیے تھی کہ اس اسلامی سرزمین اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کو ایک وجودی فریضہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ ایک وقتی سیاسی انتخاب۔
لیکن جب یہ شعور رفتہ رفتہ ماند پڑ گیا تو ’’منظم پسپائی‘‘ کی منطق نے فیصلہ سازی کے مراکز میں جگہ بنا لی۔ یہی وہ منطق تھی جس نے شکست کو حکمت کے لباس میں چھپایا، اور مسلسل رعایتوں کو باقی ماندہ حصے بچانے کے لیے ’’دانشمندانہ چالیں‘‘ قرار دیا۔ یوں اس مرحلے پر اسلامی سرزمین کا دفاع ایک وجودی فریضے سے بدل کر ایک سیاسی سودے میں تبدیل ہو گیا، جدوجہد اور استقامت کو یا تو بے سوچا سمجھا اقدام قرار دیا گیا یا ایسا معاشی بوجھ جو قومی استحکام کے لیے خطرہ ہے، اور اس طرح جہاد کی قدر کو مال کی قدر پر قربان کر دیا گیا۔
یہ سلسلہ ’’معاہدۂ تسلیمِ غرناطہ‘‘ میں اپنے نقطۂ عروج کو پہنچا؛ کیونکہ وہاں ہتھیار ڈالنے کو ’’کم نقصان‘‘ کے نام پر پیش کیا گیا۔ غرناطہ کا یہ معاہدہ محض ایک عسکری شکست نہیں تھا؛ بلکہ جھوٹے معاہدوں کی منطق کے سامنے ایک نفسیاتی ہتھیار ڈالنا بھی تھا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کو ازابیلا اور فرڈیننڈ کی طرف سے ’’مقدس ضمانتیں‘‘ دی گئیں: عبادت کی آزادی، جان کی حفاظت اور مال کا تحفظ؛ مگر ان سب کی ایک ہی شرط تھی کہ وہ اپنے تمام ہتھیار مکمل طور پر حوالے کردیں۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ مقدس ضمانتیں اور یہ معاہدے توڑ دیے گئے، اور اس طرح کہ معاہدہ شکنی کوئی اتفاقی عمل نہیں تھی؛ بلکہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ راستہ تھا۔
معاہدے/تسلیم کے فوراً بعد تفتیشی عدالتیں قائم نہیں ہوئیں؛ بلکہ وہ اس وقت شروع ہوئیں جب غرناطہ کے مسلمانوں کی عسکری قوت کو مکمل طور پر توڑ دیا گیا، اور فریقِ مخالف اس بات پر مطمئن ہو گیا کہ اب ان میں مزاحمت کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ اسی لمحے مقدس وعدے غرناطہ کے مسلمانوں کی یک طرفہ تطہیر کے ایک منظم عمل میں بدل گئے: وہی مقدس ضمانتیں تفتیشی عدالتوں میں خود مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کی جواز بن گئیں، جن کا مقصد مسلمانوں کے دینی اور تہذیبی تشخص کو مٹا دینا تھا؛ یہاں تک کہ لاکھوں مسلمان قتل کیے گئے، زبردستی بے دخل ہوئے اور جبراً عیسائی بنا دیے گئے۔ یہی وہ لوگ تھے جو بعد میں ’’موریسکیوں‘‘ کے نام سے جانے گئے۔
تاریخ کے زاویے سے یہ ایک نہایت واضح دلیل ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عالمی ضمانتیں (یا کسی بھی بیرونی طاقت کی حمایت) ایسے دشمن کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، جو تمہارے وجود ہی کو اپنے لیے ایک بنیادی خطرہ سمجھتا ہو۔ غرناطہ میں تسلیم ہونے کا اصل مقصد خونریزی روکنا نہیں تھا؛ بلکہ محفوظ اور منظم طریقے سے مسلمانوں کے قتلِ عام کی راہ ہموار کرنا تھا۔ یوں وہ وہم ٹوٹ جاتا ہے کہ اسلحہ نقصان کا سبب تھا؛ نہیں، بلکہ اسلحہ چھوڑ دینا ہی اصل نقصان تھا۔
دوسرا: غزہ اور ’’عالمی ضمانتوں‘‘ کا جال
غرناطہ کا سانحہ محض ماضی کی تاریخ نہیں؛ بلکہ وہی نقشہ ہے جو آج بعینہٖ انہی تفصیلات کے ساتھ، وہی عیسائی غزہ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ جس طرح پندرھویں صدی میں اندلس کے مسلمانوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ’’مقدس وعدوں اور مذہبی ضمانتوں‘‘ کے بدلے ہتھیار ڈال دیں؛ آج بین الاقوامی برادری، مغربی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کی نمائندگی میں، چند مسلم ممالک اپنے حکمرانوں کے ذریعے غزہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ’’تعمیرِ نو‘‘ اور ’’دائمی امن‘‘ کے بدلے اپنی دفاعی قوت سے دستبردار ہو جائے۔
یہ جال دو ستونوں پر کھڑا ہے:
اوّل: اسلحہ چھیننا (نزعِ سلاح):
سول انتظامیہ یا امن فوجوں کی باتیں اگرچہ معقول حل کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایزابیلہ کے وہی پرانے وعدے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے: اسلحہ ہی وہ واحد ضمانت ہے جو معاہدے کو معنی دیتی ہے؛ جب اسلحہ چلا جائے تو معاہدہ جلاد کے ہاتھ میں محض ایک کاغذ بن کر رہ جاتا ہے۔
دوم: مشروعیت چھین لینا:
حماس کی اسلامی تحریک کو ’’فلاح اور امن‘‘ کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا وہی بہانہ ہے جو پہلے اندلس کے مسلمانوں کو قائل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، تاکہ جہاد کو بدبختی کا سبب دکھایا جائے؛ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بقا کا واحد راز جہاد ہی تھا، ہے اور رہے گا۔
جہاد اور مزاحمت کی اخلاقی و دینی مشروعیت کو ختم کرنا اور اسے ’’دہشت گردی‘‘ کا نام دینا دراصل اس لیے ہے کہ حماس کے مجاہدین کو عوامی حمایت سے کاٹ دیا جائے۔ یہ وہ سبق ہے جس کی قیمت سینکڑوں ہزار موریسکیوں نے اپنے خون اور جلاوطنی سے ادا کی تھی، اور جسے دوبارہ نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ جو لوگ غزہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور اسے ’’خونریزی روکنے‘‘ کے نعرے کے تحت پیش کرتے ہیں، وہ درحقیقت ایک جدد محکمۂ تفتیش کی راہ ہموار کر رہے ہیں؛ مگر اس بار غزہ کو معاشی اذیت کے ذریعے ذبح کیا جائے گا: بھوک، محاصرہ، حقِ واپسی کی منسوخی، تاریخ کا مٹایا جانا اور زمینوں پر قبضہ۔
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ دشمن صرف اسی معاہدے کا احترام کرتا ہے جس کے پیچھے وہ تمہاری تلوار دیکھتا ہے۔ عسکری طاقت کے بغیر سفارت کاری، محض غرناطہ کے دردناک منظرنامے کو دوبارہ دہرانے کی دعوت ہے۔
تیسرا: سوڈان اور ’’تقسیم‘‘ کا جال
اندلس کا سانحہ غرناطہ کی تسلیم سے شروع نہیں ہوا تھا؛ بلکہ اس سے پہلے ’’ملوک الطوائف‘‘ کے دور سے شروع ہو چکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بیرونی دشمن کے خلاف دفاع اندرونی لڑائیوں میں بدل گیا، طاقت اندر ہی اندر ضائع ہو گئی اور بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار ہو گیا۔ آج یہی منظر دوبارہ سوڈان میں دہرایا جا رہا ہے۔
اندرونی تنازعہ صرف ریاست کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ بیرونی طاقتوں کو ’’ثالثی‘‘ اور ’’امن‘‘ کے نعروں کے تحت مداخلت کی دعوت دیتا ہے؛ کیونکہ جب قومی قوتیں تھک جاتی ہیں تو بیرونی طاقت پھر واحد حل کے طور پر دو الگ ریاستوں / تقسیم کو مسلط کر دیتی ہے۔ تاریخ یہاں کسی ایک فریق کو مجرم نہیں ٹھہراتی، بلکہ ایک اصول سامنے لاتی ہے: امتیں صرف دشمن کے زور سے نہیں، بلکہ اپنی اندرونی کمزوریوں سے بھی شکست کھاتی ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوڈانی خون سوڈانی ہاتھوں سے بہہ رہا ہے، ادارے تباہ ہو رہے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور قومی قوتیں علاقائی و عالمی منصوبوں کا آلۂ کار بن رہی ہیں۔
آخرکار نتیجہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: بیرونی تسلط کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جس کی وجہ سے سوڈان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع اور وسائل (سونا، زرعی زمینیں، پانی) پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں اور وہ لوٹ مار کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
نتیجہ: عسکری طاقت ہی معاہدوں کی زبان ہے
اس مضمون سے یہ واضح ہوا کہ اندلس کے اسباق محض تاریخی کہانیاں نہیں، بلکہ آج کے خطرات کا نقشہ ہیں، اور ان کا پیغام صاف ہے کہ:
• ہتھیار وہ قلم ہے جس سے حقیقی معاہدے لکھے جاتے ہیں۔
• دفاعی قوت کو ختم کرنا نجات کا راستہ نہیں، بلکہ غلامی کی بنیاد ہے۔
آج غزہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں اور سوڈان کی اندرونی خانہ جنگی کے درمیان، اندلس ہمیں پکار کر کہہ رہا ہے کہ ان وعدوں پر بھروسہ نہ کرو جو تمہارے وجود ہی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، اپنی طاقت کے ذرائع سے دستبردار نہ ہوں، اور جنگ کو اپنے اندر سے نکال دو، کیونکہ جو قومیں اپنی شکستوں سے سبق نہیں سیکھتیں، وہ اس بات پر محکوم ہو جاتی ہیں کہ وہی شکستیں بار بار دہرائیں۔ نام بدل سکتے ہیں، مگر انجام ایک ہی رہتا ہے۔
اندلس کے اسباق شاید آخری گھنٹی ہوں، تاکہ ہم اپنے حقیقی ترجیحات کو پہچان لیں، اس سے پہلے کہ پچھتاوا ہی ہماری واحد باقی ماندہ متاع بن جائے۔




















































